قومی أئیرلائن کی نجکاری کا عمل
أج کااداریہ
عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیر لائن پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا ہے۔
عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگائی اور پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کی۔
نجکاری کے عمل کے بعد
عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب کا کہنا ہےکہ آج پاکستان کی جیت ہوئی، پی آئی اےکو دوبارہ سے عظیم بنانے کے لیے محنت کریں گے۔
اسلام آباد میں عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے قومی ائیر لائن پی آئی اے کو خریدنےکے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عارف حبیب کا کہنا تھا کہ آج کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملےگا اور بیرون ملک سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ ہماری کچھ ائیرلائنز سے ابتدائی بات چیت بھی ہوئی ہے، اگلے مرحلے میں ہم کسی ائیر لائن کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حج عمرہ سمیت مذہبی سفر ہمارےپاس بڑی صلاحیت ہے، بیرون ملک پاکستانی بھی ائیر لائن کے لیے بہت اہم ہوں گے، موجودہ اور نیا پروفیشنل عملہ ملا کر بہتر کارکردگی دکھائیں گے، ہمارے پاس اچھے پروفیشنلز لوگ موجود ہیں، ہمارے پاس اچھا تجربہ ہے، ہمارے پاس موقع ہےکہ کس طرح موجودہ ٹیم کا اعتماد حاصل کریں، پہلے سے موجود لوگوں کو موقع نہیں مل رہا تھا اب ملےگا۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ مل کر پاکستان کے لیے بڑے پروجیکٹس کریں، ہمارا مؤقف ہےکہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہیے، قومی ائیر لائن سے متعلق لکی گروپ سے بھی مشاورت کریں گے، بولی سے پہلے لکی گروپ کو ساتھ ملانے کی بات کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی عظمت کو بحال کریں گے، پاکستانی پروفیشنلز نےکئی ممالک کی ائیرلائنز کھڑی کیں، ابھی تو ہمیں ٹاس جیتنےکی مبارک باد مل رہی ہیں، ابھی تو فیلڈنگ سیٹ کرکے میچ جیتنا ہے۔
خیال رہے کہ عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگائی اور پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کی۔
مشیر نجکاری کمیشن محمد علی کا کہنا تھا کہ قومی ائیرلائن کی نجکاری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، حکومت کا مقصد قومی ائیرلائن کوبیچنا نہیں بلکہ اسے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، قومی ائیرلائن کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئےگی۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ماضی قومی وقار، جدید سہولیات اور عالمی ریکارڈ سے بھرپور رہا ہے۔ ایک ایسا دور بھی تھا جب پی آئی اے نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی اور اس نے کئی ایسی سہولیات متعارف کرائیں جو دنیا بھر کی ایئرلائنز کے لیے مثال بن گئی۔
پی آئی اے کے عروج اور سنہری دور کی تاریخ ایوی ایشن کی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ دورانِ سفر مسافروں کو فلمیں دکھانے کا آغاز، ایئرہوسٹسز کے لیے باقاعدہ یونیفارم، ایشیا میں جیٹ طیاروں کا استعمال اور ٹکٹ ریزرویشن کے لیے کمپیوٹرائزڈ سسٹم متعارف کرانا، یہ تمام سہولیات سب سے پہلے پی آئی اے نے فراہم کیں
قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر 23 اکتوبر 1946 کو ’اوریئنٹ ایئرویز‘ کے نام سے کولکتہ میں ایک ایئر لائن کی بنیاد رکھی گئی
اوریئنٹ ایئرویز ایک نجی کمپنی تھی، جس کے لیے مرزا احمد اصفہانی اور آدم جی حاجی داؤد جیسے معروف صنعت کاروں نے سرمایہ فراہم کیا۔ یہ برصغیر کی پہلی اور واحد ایئرلائن تھی جس کی ملکیت مسلمانوں کے پاس تھی۔
قیامِ پاکستان کے بعد 1951 میں پی آئی اے کو ایک سرکاری محکمے کے طور پر قائم کیا گیا، جبکہ 11 مارچ 1955 کو اوریئنٹ ایئرویز کا پی آئی اے میں انضمام کر دیا گیا، جس کے بعد یہ ادارہ ’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن‘ (PIAC) کہلایا
پی آئی اے نے قیام کے بعد پہلے ہی عشرے میں عالمی سطح پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ 1960 میں ڈھاکہ، کراچی اور لندن کے درمیان بوئنگ 707 طیاروں کے ذریعے پروازیں شروع کر کے پی آئی اے ایشیا کی پہلی ایئرلائن بنی جس نے جیٹ طیارے آپریٹ کیے
اس دور میں پی آئی اے نے نہ صرف سروس اور وقت کی پابندی میں نام بنایا بلکہ غیر ملکی ایئرلائنز کو تکنیکی اور انتظامی معاونت بھی فراہم کی۔ ایئر چائنا، ایئر مالٹا، چو سون مین ہینگ، فلپائن ایئر لائنز، صومالی ایئر لائنز اور یمنیہ سمیت کئی ایئرلائنز کو طیارے لیز پر دیے گئے
1964 میں پی آئی اے غیر کمیونسٹ ممالک کی پہلی ایئرلائن بنی جس نے چین کے لیے کمرشل پروازیں شروع کیں۔ 1985 میں ایمریٹس ایئرلائن کے قیام میں بھی پی آئی اے نے تکنیکی اور انتظامی کردار ادا کیا۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں میں پی آئی اے کا شمار دنیا کی 10 بہترین ایئرلائنز میں ہوتا تھا۔ اس کی معیاری سروس، جدید بیڑا اور وقت کی پابندی کی مثالیں دی جاتی تھیں
اسی دور میں ’گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد‘ کا سلوگن پی آئی اے کی عالمی پہچان بنا۔ کہا جاتا ہے کہ 1962 میں امریکی خاتونِ اول جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے کے ذریعے سفر کے بعد عملے کی پیشہ ورانہ مہارت سے متاثر ہو کر یہ الفاظ ادا کیے، جو بعد ازاں قومی ایئرلائن کا سلوگن بن گئے
پی آئی اے دنیا کی پہلی ایئرلائن تھی جس نے پروازوں کے دوران باقاعدہ فلمیں دکھانے کا آغاز کیا۔ اسی طرح عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی ڈیزائنر پیئر کارڈن سے ایئرہوسٹسز کے یونیفارم ڈیزائن کروانا بھی پی آئی اے کا ایک انقلابی قدم تھا
اس کے علاوہ ایشیا کی چند ایئرلائنز میں پی آئی اے شامل تھی جس نے ابتدائی دور میں ہی اپنا ریزرویشن سسٹم کمپیوٹرائزڈ کر لیا تھا۔
عروج کے زمانے میں پی آئی اے کا فضائی نیٹ ورک ٹوکیو سے نیویارک اور افریقہ سے یورپ تک پھیلا ہوا تھا، جبکہ ادارے کے تشہیری دعوے کے مطابق ہر ساتویں منٹ میں پی آئی اے کی ایک پرواز دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں اترتی یا روانہ ہوتی تھی
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پی آئی اے کا زوال 1990 کی دہائی






