#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

Untitled 13

قسط :14 (شاہد بخاری)

ڈاکٹر وزیر آغا نے پروفیسر اقبال کی قوتِ باصرہ کا جگہ جگہ ذکر کیا ہے اور اس کی بعض وجوہات بھی بتائی ہیں ایک جگہ لکھتے ہیں۔
”ان کی پوری شاعری میں۔۔۔ باصرہ کا عمل دخل اس قدر زیادہ ہے کہ کوئی شخص جو ان کی زندگی کے شخصی کوائف سے ناواقف ہو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ بینائی سے محروم کسی شاعر کا کلام ہے“
”ساحل تشنہ لب“کے حوالے سے ڈاکٹر خورشید الحسن رضوی لکھتے ہیں:
”شیخ محمد اقبال کا مجموعہ کلام ”ساحل تشنہ لب“ دیکھ کر یہ قدیم حقیقت پھر سے منکشف ہوتی ہے کہ روشن طبع کا دارو مدار بصارت پر نہیں بصیرت پر ہے۔۔۔۔شیخ صاحب بنیادی طور پر انگریزی ادب کے استاد ہیں اردو شاعری کی طرف ان کی توجہ چند برس ہوئے منعطف ہوئی لیکن اس قلیل سی مدت میں ان کی پیشرفت حیران کن رہی ہے انہوں نے غزل جیسی نازک صنف کو اپنے لئے منتخب کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے غزل کے مزاج، ہیت،روایت غزل کی مخصوص زبان اور اسکے نشیب وفراز پر حاوی ہو کر قادرالکلامی کی حدوں کو چھونے لگے اور ان کے ہاں خالص تغزل اور عمیق تفکر دونوں کی خوبصورت مثالیں ملنے لگیں۔۔۔ ان کی یہ تعجب انگیز پیش رفت دراصل اس غیر معمولی ذہنی ارتکاز اورا س جہد پیہم کا ثمر ہے جو اولولعزم رو حیں زندگی کے بعض بنیادی المیوں کے مقابل پید اکر لیتی ہیں“۔
اس شعری مجموعے سے متعلق پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی لکھتے ہیں۔
”اقبال صاحب کی غزلیات کا دستیاب مجموعہ”ساحلِ تشنہ لب“ میں نے پڑھا اور جستہ جستہ نہیں تمام کا تمام پڑھا۔۔۔۔ اقبال صاحب کی غزلوں میں روایت کی پاسداری بھر پور انداز میں ملتی ہے انہوں نے غزل ایسی غزل کہی ہے جیسی کہ غزل ہوتی ہے۔ آج کل تجربوں کی کٹھالیاں جا بجا نظر آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اقبال صاحب نے نت نئے تجربوں کے شوق میں اپنا وقت نہیں گنوایا۔ غزل اپنی رو میں اپنے جمالِ ظاہری اور جمالِ باطنی کے جس مرحلے سے گزر رہی ہے، وہیں سے اقبال صاحب نے اسے چناہے اور اپنی توفیق اپنے خلوص اپنی ریاضت اور اپنی دیانت کی حد تک وہ اس کے آرائشِ جمال میں اپناجتنا حصہ ادا کر سکتے ہیں ضرور کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ غزل جب ان کے مرحلہءزیب و آرائش سے نکل کر آگے قدم رکھے گی توا سکے جواہر طرفِ کلہ میں لعل و گہر اور اوجِ طالع، لعل و گہر دونوں کا اضافہ ہوچکا ہو گا“
محولہ بالا ناقدین نے اپنی آراء دیتے وقت ”ساحل تشنہ لب“سے جو اشعار منتخب کئے ہیں ان میں سے کچھ نذرِ قارئین ہیں:

کس کی خوشبوئے بدن سے میری نس نس مہکی
دل کے آنگن میں کوئی پھول کھلا ہو جیسے

جھونکا نسیمِ صبح کا گلشن میں ہر طرف
خوشبو ترے بدن کی اڑا کر چلا گیا

ہو جس کی دعاؤں میں بسی پیار کی خوشبو
اس شہرِ نگاراں کا کوئی مجھ کو پتا دے

اخلاص کے پھولوں کی مہک دور نہ نزدیک
لفظوں کے سند یافتہ گلشن پہ نظر ہے

مہکنے لگے تری یادوں کے پھول
کسی نے ترا تذکرہ کر دیا

رنگ اور لفظ کے دم سے ہے جہاں میں رونق
ورنہ انسان کا ہر خواب پریشاں ہوتا

گریں بجلیاں چلی آندھیاں
میں جگہ سے اپنی ہلا نہیں

مجھے ناز پھر بھی نصیب پر
میں وہ پھول ہوں جو کھلا نہیں

یہ تو حصہ ہے زیست کا پیارے
کچھ انوکھی تو میری ہار نہیں

کچھ لوگ تھے ساحل پہ کھڑے کانپ رہے تھے
طوفان تھا میں تھا مرا مٹی کا گھڑا تھا

اندھیری رات ہے طوفاں ہے بادو باراں ہے
تمہاری یاد کی شمعیں جلائے بیٹھے ہیں

کھیلتا ہے بھڑکتے شعلوں سے
دل کو یہ حوصلہ دیا کس نے

عرش تک اور عرش کے اس پار تک
ہم اڑے بے بال و پر کس کے لئے

جو خواب کہ پورے نہ ہوئے آہ! ابھی تک
اس دل کو انہی خوابوں کو اپنانے کی ضد ہے

زندگی ایک مصیبت ہی سہی
درد سہنا میری عادت ہی سہی
میں نے کب نالہ و زاری کی ہے
یہ کشاکش میری قسمت ہی سہی

کوئی سنگین لئے سر پہ کھڑا ہو گویا
میرے ہر سانس پہ پہرا لگا ہو گویا

میری تو عمر کی یارو یہی کمائی ہے
میں سوچتا ہوں کہ یہ زخم بھر نہ جائیں کہیں

دو اشکِ خوں ہی مجھ کو غنیمت ہے دوستو
باقی رہا ہی کیا ہے میرے اختیار میں

زیست سے آشنا تو تھے زیست میں کچھ مزہ نہ تھا
دردِ دروں تیرے بغیر کتنی ہی راحتیں نہ تھیں

جرأت کا امتحاں تھا کہ شوقِ فضول تھا
سنگِ گراں خوشی سے اٹھایا ہمیں نے تھا

بجھ گئے چشمِ زدن میں سبھی سورج سبھی چاند
اب کسے دیدہ ورو! شام و سحر کی خواہشیں

اے دل شکستگی ترے صدقے ترے نثار
میں بزم میں تھا کب کسی قابل ترے بغیر
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے