عنوان :بچوں میں موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال:والدین کے لیےایک سنجیدہ لمحہ فکریہ
تحریر :ماہر نفسیات نبیلہ شاھد
جدید دور میں موبائل فون انسانی زندگی کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے، مگر اس کا غیر متوازن اور حد سے زیادہ استعمال خصوصاً بچوں کے لیے تشویشناک صورتِ حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آج کے بچے کھلونوں، کتابوں اور کھیل کے میدانوں کے بجائے موبائل اسکرین میں مصروف نظر آتے ہیں۔
گود میں کھیلنے والا بچہ ہو یا اسکول جانے والا طالب علم، اکثر ہاتھ میں موبائل اور نگاہ اسکرین پر جمی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف عادت نہیں بلکہ ایک لت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ رجحان بظاہر وقتی سہولت معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما کے لیے ایک خاموش خطرہ ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق
موبائل فون کی لت ایک رویّہ جاتی عادت (Behavioral Addiction) ہے، جس میں بچہ اسکرین کے بغیر بے چینی محسوس کرتا ہے۔ یہ کیفیت دماغ میں ڈوپامین کے غیر متوازن اخراج سے پیدا ہوتی ہے۔ جب بچہ موبائل فون کے بغیر بے چینی محسوس کرے، چڑچڑا پن ظاہر کرے یا ہر وقت اس کے استعمال پر اصرار کرے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ موبائل فون اب محض ایک ذریعہ نہیں رہا بلکہ بچے کی روزمرہ زندگی کا مرکزی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہی کیفیت آگے چل کر حد سے زیادہ انحصار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
مسئلے کے بنیادی اسباب
بچوں میں موبائل فون پر بڑھتے ہوئے انحصار کی کئی وجوہات ہیں۔ مصروف طرزِ زندگی کے باعث والدین کا بچوں کو وقت نہ دے پانا اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اکثر گھروں میں بچوں کو خاموش رکھنے یا مصروف رکھنے کے لیے موبائل فون دے دیا جاتا ہے، جو وقتی سہولت تو فراہم کرتا ہے مگر مستقل مسئلے کو جنم دیتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈیجیٹل مواد، خصوصاً کارٹون، گیمز اور مختصر ویڈیوز، اس انداز میں تیار کیے جاتے ہیں کہ بچہ بار بار انہیں دیکھنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہ مواد بچے کے ذہن کو فوری خوشی فراہم کرتا ہے، مگر اس کے منفی اثرات بتدریج سامنے آتے ہیں۔
نفسیاتی اثرات
موبائل فون پر حد سے زیادہ انحصار بچوں کی نفسیاتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایسے بچوں میں توجہ اور ارتکاز کی کمی عام ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ وہ ایک ہی کام پر زیادہ دیر توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے۔
مزید برآں، چڑچڑاپن، غصہ اور عدم برداشت جیسی علامات نمایاں ہو جاتی ہیں۔ معمولی بات پر ناراض ہونا اور بات نہ ماننے پر سخت ردِعمل دینا اس مسئلے کی واضح نشانیاں ہیں۔ بعض بچوں میں تنہائی پسندی بھی بڑھنے لگتی ہے، جس سے ان کی سماجی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔
سماجی اور خاندانی اثرات
موبائل فون بچوں کو حقیقی دنیا اور خاندانی ماحول سے دور کر رہا ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ کھیلنے، والدین سے گفتگو کرنے اور اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے تنہا اسکرین کے سامنے بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے میں اعتماد کی کمی اور سماجی جھجک پیدا ہو جاتی ہے، جو آگے چل کر شخصیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
جسمانی صحت پر اثرات
موبائل فون کا طویل استعمال بچوں کی جسمانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ رات دیر تک اسکرین دیکھنے سے نیند متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث تھکن، کمزوری اور ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ نیند کی کمی بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
والدین کے لیے رہنمائی
بچوں کو موبائل فون سے مکمل طور پر دور رکھنا ممکن نہیں، تاہم اس کے درست اور محدود استعمال کی تربیت دینا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم متعین کریں، خود بھی موبائل کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں اور بچوں کو کھیل، مطالعہ اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین بچوں کو وقت دیں، ان سے بات کریں اور ان کے جذبات کو سمجھیں، کیونکہ توجہ اور محبت ہی بچوں کو اس مسئلے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
بچوں میں موبائل فون پر حد سے زیادہ انحصار ایک سنجیدہ سماجی اور نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اثرات خاموشی سے ہماری آئندہ نسل کو متاثر کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر اس رجحان کو سمجھیں اور بچوں کی تربیت میں توازن، شعور اور ذمہ داری کو بنیاد بنائیں۔
قرآنی آیت:حدیثِ نبوی ﷺ:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
(تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا)
(بخاری)






