#کالم

“سوچ کا خوف اور محفوظ خواب: ہم MBBS کے خول سے باہر کیوں نہیں آتے؟”

WhatsApp Image 2025 12 24 at 01.29.32

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مستقبل کے فیصلے اکثر عقل سے کم اور خوف سے زیادہ بنتے ہیں۔ یہاں کیریئر کا سوال آئے تو زیادہ تر گھروں میں گفتگو وہیں رک جاتی ہے جہاں تین حروف آ کر ختم ہو جاتے ہیں: MBBS۔ یوں لگتا ہے جیسے کامیابی کی ساری شاہراہیں اسی ایک دروازے سے گزرتی ہوں، اور اس سے ہٹ کر سوچنا گویا خطرے سے کھیلنا ہو۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا واقعی ہمارے والدین یا ہمارا معاشرہ باقی تمام راستوں سے لاعلم ہے؟ یا پھر مسئلہ لاعلمی سے زیادہ سوچنے کے خوف کا ہے؟

یہ حقیقت ہے کہ سوچنا انسان کے لیے ایک محنت طلب عمل ہے۔ ہم عموماً اس راستے کا انتخاب کرتے ہیں جو مانوس ہو، جس پر پہلے ہزاروں لوگ چل چکے ہوں، جہاں ٹھوکر لگنے کا امکان کم محسوس ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کیریئر کا تصور بھی ایک محفوظ سانچے میں ڈھل گیا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسر — بس۔ باقی دنیا گویا وجود ہی نہیں رکھتی۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

انسانی دماغ فطری طور پر سہولت کا طلبگار ہے۔ وہ کم سے کم توانائی خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ نتیجہ چاہتا ہے۔ اسی لیے وہ فوری فیصلوں، سنی سنائی باتوں اور آزمودہ راستوں کو ترجیح دیتا ہے۔ جب کوئی نوجوان یہ کہتا ہے کہ وہ MBBS کے علاوہ کسی اور شعبے میں جانا چاہتا ہے تو والدین کے ذہن میں فوراً خدشات کی ایک قطار لگ جاتی ہے:
“اس میں مستقبل ہے؟”
“لوگ کیا کہیں گے؟”
“اگر ناکام ہو گیا تو؟”

یہ سوالات بظاہر فطری ہیں، مگر ان کے پیچھے اصل محرک غور و فکر سے بچنے کی خواہش ہے۔ MBBS ایک جانا پہچانا راستہ ہے، اس کی کہانی سب کو معلوم ہے: داخلہ، پڑھائی، ہاؤس جاب، کلینک یا نوکری۔ دماغ کو مکمل نقشہ مل جاتا ہے، اس لیے اسے سکون آتا ہے۔ جبکہ نئے شعبے — جیسے ڈیٹا سائنس، ڈیزائن، بائیوٹیکنالوجی، فنانس، آرٹس، یا انٹرپرینیورشپ — دماغ کے لیے ایک انجانی زمین کی مانند ہوتے ہیں۔ اور انجانی زمین پر قدم رکھنے سے دماغ گھبراتا ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ ایسے فیصلے کرتے ہیں جو بظاہر درست لگتے ہیں مگر گہرائی میں جائیں تو کھوکھلے نکلتے ہیں۔ جیسے عام زندگی کے چھوٹے سوالات میں ہم فوراً جواب دے دیتے ہیں، ویسے ہی بڑے فیصلوں میں بھی جلد بازی دکھاتے ہیں۔ دماغ کہتا ہے:
“سب یہی کر رہے ہیں، تو یہی ٹھیک ہوگا۔”

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان اپنی انفرادی صلاحیت، دلچسپی اور مزاج کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ایک ایسا طالب علم جو تخلیقی ذہن رکھتا ہو، جسے تحقیق یا ٹیکنالوجی یا ادب سے لگاؤ ہو، وہ بھی اسی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے جہاں اس کا دل نہیں لگتا۔ نتیجہ؟ برسوں کی تھکن، ذہنی دباؤ، اور اکثر اوقات ادھوری زندگی۔

ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ ہمارا ذہن دو رفتاروں میں کام کرتا ہے۔ ایک رفتار تیز ہے — فوراً ردِعمل دینے والی۔ دوسری رفتار آہستہ ہے — مگر گہرائی سے سوچنے والی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے بڑے فیصلے بھی اسی تیز رفتار ذہن کے حوالے کر دیے ہیں۔

جب کوئی کہتا ہے: “بیٹا ڈاکٹر بنے گا”، تو تیز رفتار ذہن فوراً مطمئن ہو جاتا ہے۔ اسے عزت، روزگار اور معاشرتی قبولیت سب ایک ساتھ نظر آتی ہے۔ مگر آہستہ سوچنے والا ذہن سوال کرتا ہے:
“کیا یہ بچہ واقعی اس دباؤ کو سنبھال پائے گا؟”
“کیا اس کی دلچسپی، مزاج اور صلاحیت اس راستے سے میل کھاتی ہے؟”
“کیا بدلتی دنیا میں یہ واحد راستہ ہے؟”

بدقسمتی سے، ہم ان سوالوں کو دبانا آسان سمجھتے ہیں۔ کیونکہ سوال سوچ مانگتے ہیں، اور سوچ محنت۔

انسانی یادداشت بھی ہمارے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جو چیزیں ہم بار بار دیکھتے، سنتے اور دہراتے ہیں، وہ ہمارے لیے “نارمل” بن جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں دہائیوں سے یہی کہانیاں دہرائی جا رہی ہیں کہ ڈاکٹر بنو تو عزت ہے، ورنہ زندگی مشکل ہے۔ یہ باتیں اتنی بار سنی گئی ہیں کہ اب وہ سوال سے بالاتر ہو چکی ہیں۔

نئے شعبے اس لیے رد ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ہماری اجتماعی یادداشت میں محفوظ نہیں۔ دماغ کہتا ہے:
“یہ میں نے پہلے نہیں دیکھا، اس لیے یہ خطرناک ہے۔”

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ایجادات، کامیاب کمپنیاں اور غیر معمولی کیریئرز انہی “نئے” اور “ان دیکھے” راستوں سے نکلے ہیں۔

سیکھنا کوئی جادو نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جو کام آج مشکل لگتا ہے، کل وہی آسان ہو جاتا ہے — بشرطیکہ ہم اسے بار بار آزمائیں۔ مگر ہم چاہتے ہیں کہ ہر چیز پہلے دن ہی آسان ہو۔ یہی رویہ ہمیں نئے شعبوں سے دور رکھتا ہے۔

ایم بی بی ایس کا راستہ بھی کبھی آسان نہیں تھا۔ مگر چونکہ معاشرہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے، اس لیے اس کی مشکلات ہمیں قابلِ قبول لگتی ہیں۔ دوسری طرف اگر کوئی کہے کہ وہ کسی نئے فیلڈ میں جانا چاہتا ہے، تو اس کی مشکلات ہمیں ناقابلِ برداشت محسوس ہوتی ہیں۔ اصل فرق مشکل کا نہیں، مانوس ہونے کا ہے۔

جب انسان واقعی سوچتا ہے تو اس کا جسم بھی اس کی گواہی دیتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے، ذہن بھاری لگتا ہے، بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ یہی کیفیت اس وقت بھی ہوتی ہے جب کوئی نوجوان پہلی بار محفوظ خواب سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے۔ والدین کی تشویش، معاشرے کی تنقید، اور مستقبل کا خوف — سب مل کر اسے دوبارہ اسی پرانے راستے پر دھکیل دیتے ہیں۔

مگر یاد رکھنا چاہیے کہ بے چینی ہمیشہ منفی نہیں ہوتی۔ اکثر یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انسان اپنی حدود سے باہر قدم رکھ رہا ہے۔ اور ترقی ہمیشہ اسی مقام سے شروع ہوتی ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ جب انسان کو ذرا مشکل حالات میں سوچنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے فیصلے زیادہ درست ہوتے ہیں۔ آسانی اکثر لاپرواہی کو جنم دیتی ہے۔ یہی اصول زندگی پر بھی لاگو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے