#کالم

“توہینِ عدالت یا تحسینِ عدالت “

new desing hjk

افکارِ تازہ
ڈاکٹر افتخارالحق

ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
جمعہ انیس نومبر 2025 کو جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی جعلی ڈگری کا فیصلہ سنتے ہی ہندوستان کے نہایت معروف جدید شاعر عرفان صدیقی مرحوم کا یہ شعر ذہن میں گونجنے لگا اور اسی گونج سے کئی خفتہ و نیم خفتہ سوالات اچانک بیدار ہونے لگے ۔ شاید ایسا ہونا فطری اعتبار سے بالکل درست ہے۔ اس تاریخی فیصلے کو سمجھنے کے لئے جہانگیری صاحب کا سوانحی پس منظر جاننا ضروری ہے۔ جہانگیری صاحب نے ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاذ 1994 میں کیا اور پھر 2008 میں سپریم کورٹ سے بھی بطورِ وکیل وابستہ ہو گئے ۔اس کے علاوہ جہانگیری صاحب 2002 سے 2017 تک اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار کورٹ جیسی نمایاں وکلا تنظیموں کے کلیدی عہدوں پر بھی فائز رہے ۔اتنا طویل عرصہ وکالت میں نام کمانے کے بعد بالآخر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطورِ جج ان کی تقرری صدرِ پاکستان نے 2020 میں کی ۔ان کا یہ عہدہ اس وقت متنازعہ ہوا جب 2023 میں ان پر عمران خان کے حق میں جانب داری دکھانے کا الزام لگایا گیا ۔انھی دنوں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان نے عمران خان کی عدالت میں پیشی پر انھیں یوں مخاطب کیا تھا:
“ Good to see you …. “
اور بعد میں اپنے جانب دارانہ رویے کا دفاع یہ کہہ کر کیا تھا کہ ایسا کہنا خوش اخلاقی کا تقاضا تھا ۔ اس طرح یہ دو جج صاحبان نمایاں طور پر متنازعہ ہوتے چلے گئے اور پھر مزید چار ججز کے ساتھ انھوں نے حساس اداروں پر کارِ عدل میں مداخلت کا شکوہ کرکے اپنے گرد مزید پیچیدگیوں کا حصار کھینچا ۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ جسٹس جہانگیری کی اس فیصلے کے خلاف اپیل کا انجام کیا ہوتا ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف مزید کیا کاروائی کرتی ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان کے بطورِ وکیل اور پھر بطورِ جج متعدد مقدمات میں ان کی اپنے موکل کی نمائندگی اور فیصلوں پر کیوں کوئی سوال نہیں کیا جا رہا ۔کیا اتنے طویل عرصے میں انھوں نے جن مقدمات کو نمٹایا ہے ، ان پر ازسرِ نو کاروائی کا جواز بنتا ہے یا نہیں اور بعینہِ بطورِ وکیل انھوں نے جتنے مقدمات جیتے یا ہارے ، ان سب کی قانونی حیثیت اب کیا ہوگی ۔ کچھ ممالک میں قانونی تعلیم کے بغیر وکالت کی بابت سخت مشروط استثنائی صورتیں موجود ہیں ( جن کی تفصیل لکھنے سے غیر ضروری طوالت کا خدشہ ہے ) لیکن جہانگیری کیس میں اگر واقعی ان کی ڈگری سو فیصد جعلی اور غیرقانونی ہے تو ان کے خلاف عدالتی فیصلے نے ایک اہم زاویۂ فکر پیدا کر دیا ہے اور اس کا تعلق رسمی تعلیم کی حیثیت اور افادیت سے متعلق ہے۔ ایک نہایت کھردرا سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پیشے کی بابت غیرمعمولی معلومات رکھتا ہے اور اس نے کسی روایتی تعلیمی ادارے سے متعلقہ شعبے/ پیشے کی تعلیم حاصل نہیں کی تو کیوں نہ اسے اپنے مطالعے اور قابلیت کی بنیاد پر اسی شعبے میں کام کرنے کا حق دیا جائے ۔ اس ایک اہم عدالتی فیصلے کے صدقے ایک انتہائی اہم موضوع پر مکالمے کی فضا پیدا کرنا گویا ناگزیر ہوگیا ہے۔یوں بھی مصنوعی ذہانت کی وسیع پیمانے پر مقبولیت اور کامیابی کے بعد یہ سوال ازخود اپنی اہمیت اجاگر کر دے گا ۔پھر ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا مشقّتی محنت یعنی ہارڈ ورک اور ذہانت آمیز محنت یا سمارٹ ورک کے نقطۂ اتصال پر کھڑی ہے بلکہ اس نقطے کو عبور کرنے پر بضد ہے۔امید رکھنی چاہیے کہ ایسے موضوعات سے شعوری طور پر صرفِ نظر نہیں کیا جائے گا۔
جیسے عدالتوں میں گزشتہ مقدمات کا حوالہ / citation دیا جاتا ہے ، اسی طرح اس بابت کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ کے ڈاکٹر رابرٹ کے ایک سیاہ فام معاون ہیملٹن ناکی کا حوالہ دینا اہم ہوگا جو بنیادی طور پر تو مالی تھا لیکن ڈاکٹر رابرٹ کی جوہر شناس نگاہوں نے اس کی مخفی صلاحیتوں کو بھانپ کر اسے اپنا معاون بنا لیا۔ پھر اس باہمت اور باصلاحیت باغبان کی انگلیوں نے اپنی فن کاری بے جان مٹی کی بجائے مٹی کے جیتے جاگتے پتلے یعنی انسان کے جسم پر کامیاب جراحی کی صورت دکھائی ۔ ہیملٹن 1950 سے لے کر کئی سال تک محض اپنی فطری صلاحیتوں کی بدولت جانے کتنے ہی مریضوں کی باقاعدہ کامیاب سرجری کرتا رہا تآنکہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت نے اس پر متعصبانہ قوانین کا اطلاق کر کے اس وقت پابندی لگائی جب وہ متعدد شاگردوں کو پیشہ ورانہ تربیت بھی دے چکا تھا- ان دنوں کسی سیاہ فام کا سفید فام شخص کو چھونا بھی جرم تھا ،کجا یہ کہ وہ اس کے جسم پر باقاعدہ جراحت کا سنگین تر جرم کرے۔ تاہم نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد 2003 میں اس غیر ڈگری یافتہ شخص کی خدمات کے اعتراف میں اسے ماسٹرز آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیملٹن نے جتنے بھی آپریشن اور علاج کیے ان کی تنسیخ ناممکن تھی بالکل اسی طرح جیسے جسٹس جہانگیری کے ماضی کے کم و بیش تمام مقدمات کو دوبارہ کھولنا بقول رومی :
ایں خیال است و محال است و جنوں
کے مترادف ہوگا کیونکہ ممکن ہے کچھ مقدمات کی ازسرِ نو شنوائی کوئی پینڈورا باکس ہی نہ کھول بیٹھے ۔ ویسے بھی ذرا لطافت سے کام لیا جائے تو ان کے نام کے ساتھ جہانگیری کا لفظ مغلیہ دور کی اس زنجیر کی طرف دھیان دلاتا ہے جو ہتھکڑی وغیرہ کی بجائے عدل کے مطالبے کا کام کرتی تھی ۔
بایں ہمہ یہ سوال اور اس سے جُڑے کئی اور سوالات پر پرمعنی مذاکرے اور مباحثے کی ضرورت اپنی جگہ برقرار رہے گی ۔ ایسے مذاکرات سے ہم رسمی و غیر رسمی تعلیم کے محاسن و معائب کا موازنہ کر کے ممکن ہے کسی اجتماعی افادیت کے نتیجے تک پہنچ جائیں ۔ ہمیں بہر حال ایسے حساس موضوعات کی بابت مثبت طرزِ فکر کو اپنانے اور فروغ دینے کا فریضہ انجام دیتے رہنا چاہئیے۔

“توہینِ عدالت یا تحسینِ عدالت “

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے