#کالم

طاقت کے ایوانوں میں قانون کی دستک

Untitled 6

ڈیرے دار سہیل بشیر منج

جنرل فیض حمید کے فیصلے کا دن پاکستانی تاریخ کے صفحات میں ایک غیر معمولی موڑ کے طور پر درج ہو گیا ہے جہاں ماضی کے طاقتور کرداروں کا احتساب ایک نئی اور سنگین حقیقت بن کر سامنے آیا ہے فیض حمید جن کا نام ایک طویل عرصے تک ملکی سیاست اور خفیہ معاملات میں پراسرار اثر و رسوخ کا استعارہ سمجھا جاتا تھا انہیں ایک فوجی عدالت نے چودہ سال قید با مشقت کی سزا سنا کر ملک کے طاقتور ترین اداروں میں جوابدہی کی ایک لکیر کھینچ دی ہے یہ فیصلہ نہ صرف جنرل صاحب کے لیے ایک دل دہلا دینے والا انجام ہے بلکہ یہ ان تمام روایتی تصورات کو بھی لرزا دیتا ہے جن کے تحت ماضی میں چند عہدوں کو احتساب سے بالاتر سمجھا جاتا رہا ہے اس غیر متوقع اور تاریخی سزائے قید نے قوم میں ایک گہری بحث چھیڑ دی ہے ایک طرف یہ عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی پاکیزگی کے لیے ایک امید افزا اشارہ ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ احتساب کا سفر محض ایک فرد تک محدود رہے گا یا یہ نظام کی گہرائیوں تک پھیلے گا جہاں طاقت کے غیر آئینی استعمال کی جڑیں مضبوط ہیں بہرحال یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وقت کا پلڑا جب بدلتا ہے تو بڑی سے بڑی حکمرانی اور طاقتور ترین عہدے بھی تاریخ کے کٹہرے میں بے بس کھڑے دکھائی دیتے ہیں
فیض حمید کے خلاف فوجی عدالت کا فیصلہ دراصل ان سنگین اور گہرے زخموں کا اعتراف ہے جو طاقت کے ایک غیر معمولی مرکز نے پاکستان کے نازک جمہوری تانے بانے کو پہنچائے ان پر عائد ہونے والے الزامات جن میں سیاسی مداخلت، اختیارات کا ناجائز استعمال ،ریاستی رازوں کی خلاف ورزی، تین ہزار سے زیادہ افغان دہشت گردوں کو پاکستان میں لا کر بسانا، اور یہاں تک کہ شہریوں کو نقصان پہنچانے کے نکات شامل ہیں یہ محض قانونی دفعات نہیں بلکہ اس بات کی شہادت ہیں کہ کس طرح ایک کلیدی عہدے پر فائز شخص نے اپنے مطلق العنان اثر و رسوخ کو قومی مفادات کے بجائے شخصی اور گروہی سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کیا ان کے دور میں یہ تاثر عام ہوا کہ سیاست کی بساط پر عوامی ووٹ کی قوت سے زیادہ کسی امپائر کے اشارے کی اہمیت ہے جس نے ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کی دراڑیں پیدا کیں اور آئینی حدود کو غیر مرئی ہاتھوں سے پار کیا گیا اس مداخلت کے نتیجے میں ملک کو سیاسی عدم استحکام کی ایک طویل دلدل کا سامنا کرنا پڑا جس نے معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا اور ملک کے اندرونی معاملات کو بین الاقوامی سطح پر تماشا بنا دیا ایک ادارے کے سابق سربراہ کی جانب سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی نے ریاست کی سالمیت کو براہ راست داؤ پر لگا دیا اور قوم کے اس اعتماد کو مجروح کیا جو خفیہ اداروں پر ملک کی حفاظت کے لیے کرتی ہے مختصر یہ کہ جنرل فیض حمید کا معاملہ طاقت کے نشے میں فرد کی اخلاقی پستی اور ملک کو درپیش اس اہم چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے جہاں اداروں کے اندرونی احتساب کے بغیر قومی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے
​ فیض حمید کو سنائی گئی سزا کے بعد یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا احتساب کا یہ عمل ایک تنہا مثال رہے گا یا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا اس تاریخی فیصلے نے بلا شبہ ایک ایسی مثال قائم کر دی ہے جس کے سائے میں اب وہ تمام افراد آ سکتے ہیں جنہوں نے کسی بھی دور میں طاقت کے نشے میں ملکی آئین قانون اور ریاستی حدود کو غیر ذمہ دارانہ طریقے سے پامال کیا میرا خیال ہے کہ اب ان سویلین اور فوجی حکام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جو ماضی میں سیاسی انجینئرنگ غیر قانونی نگرانی یا اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سویلین حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے عمل میں جنرل صاحب کے دست و بازو رہے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو
2017
کے دھرنے
2018
کے عام انتخابات
میں مبینہ دھاندلی اور پھر بعد ازاں ایک خصوصی سیاسی جماعت کو غیر معمولی فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی پردہ پوش سازشوں میں براہ راست ملوث رہے انہیں ممکنہ طور پر اندرونی احتساب کے دائرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یہ بات اہم ہے کہ فوجی عدالتوں میں کسی بھی وقت مزید انکوائریز کھولے جانے کا امکان موجود رہتا ہے لہٰذا وہ سینیئر افسران جو جنرل فیض حمید کے ماتحت اہم عہدوں پر فائز تھے اور ان کے متنازع احکامات کی تعمیل کرتے رہے اب خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں ہیں یہ فیصلہ دراصل "سزا اور جزا” کے اصول کو اداروں کے اندر دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش ہے جس کا حتمی ہدف ریاستی اداروں میں نظم و ضبط اور آئینی بالادستی کو یقینی بنانا ہے اور اس کا دائرہ کسی بھی مشہور یا گمنام مجرم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے
​ فیض حمید کو دی جانے والی یہ تاریخی اور عبرتناک سزا محض ایک شخص کا قانونی انجام نہیں بلکہ یہ پوری قوم اور بالخصوص ان تمام حلقوں کے لیے ایک واضح گونجتا ہوا پیغام ہے جو ریاست کے اندر رہتے ہوئے یا اس کے خلاف جا کر ملکی سالمیت اور آئینی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی جسارت کرتے ہیں اس فیصلے نے عام آدمی کے اس دیرینہ تاثر کو توڑا ہے کہ ریاست کے طاقتور ترین ستون احتساب کی گرفت سے ہمیشہ آزاد رہتے ہیں یہ سزا اس بات کا دوٹوک اعلان ہے کہ پاکستان کی ریاست اگرچہ سست روی کا شکار ہو سکتی ہے لیکن بالآخر اپنے دفاعی اور آئینی اصولوں سے انحراف کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گی چاہے کوئی شخص سفید پوش عہدے پر فائز ہو یا سیاست کی اوٹ میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو حتیٰ کہ ریاستی اداروں کے اندر بیٹھ کر آئین سے غداری کا مرتکب ہو قانون کی تلوار سب کے لیے یکساں ہے یہ پیغام دراصل اس امید کو

طاقت کے ایوانوں میں قانون کی دستک

سیاسی مسافر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے