#کالم

سیاسی مسافر

Untitled 14

جمع تفریق۔۔ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس جہان فانی میں روزانگنت مسافر آ تے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر بہت سے نظام قدرت کے مطابق واپس چلے جاتے ھیں، اسی لیے زندگی کو ایک سفر کہا جاتا ہے ہماری آ پ کی بلکہ سب کی سب کے لیے دعا ہونی چاہیے کہ مالک کائنات اس سفر میں آ سانیاں پیدا کرے اور ہر کلمہ گو کوایمان کے ساتھ موت نصیب کرے کیونکہ موت حق ہے اس رنگین دنیا سے جب بھی کسی کی واپسی ہوتی ہے تو خونی رشتے، دنیاوی تعلقات اور معاشرتی روایات میں ہر کسی کو تعلق کی بنا پر دکھ اور افسوس ہوتا ہے اس لیے کہ برسوں کا ساتھ ،برتاؤ اور اچھائی کے بہت سے زاویے نظروں کے سامنے گھومنے شروع ہو جاتے ہیں پھر یہ حقیقت ہے کہ جس کی جتنی قرابت داری ہو یا جس کا جتنا مضبوط رشتہ ہو، وہ اتنا ہی زیادہ دکھی ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی ایسی خدمات اور کارنامے ہوتے ہیں کہ ان کا غم پوری قوم اور معاشرے کو ہوتا ہے، خواہ وہ اس سے اتفاق یا اختلافی کیوں نہ رکھتے ہو ں ،اس حوالے سے سیاسی لوگ حقیقی قومی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں بلا امتیاز کہ کس پارٹی اور کون سے نظریات رکھتے ھیں، وجہ یہی ہوتی ہے کہ پارٹی چھوٹی ہو کہ بڑی ان کی سیاسی بصیرت اجتماعی رہنمائی کا باعث بنتی ہے ایسی ایک شخصیت سے ملک کی سیاست محروم ہوئی تو صدر مملکت، وزیراعظم وزرائے اعلی، صوبائی گورنرز سب نے ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا لیکن سب سے زیادہ نقصان اوکاڑہ اور گردونواح کےعام آ دمیوں کا ہوا، جن کی وہ توانا آ واز تھے۔۔ عمر بھی ماشاءاللہ اچھی پائی، پھر بھی اجتماعی اور ملک و ملت ہی نہیں، عوامی بھلائی کی مثبت سوچ رکھنے والے کی رخصتی 86 سال میں بھی بھلی نہیں لگی لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہر ذی نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے سو ان کی باری بھی آ گئی، اللہ مغفعرت فرمائے۔۔ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میری مراد شریف النفس، انتہائی مخلص قابل اور اعلی اخلاقی اقدار کے حامل منظوراحمد وٹو سے ہے ، ان کے انتقال سے ایک منفرد سیاسی باب بند ہو گیا دیکھیں کہ ان کی برد باری اور اعلی اخلاقی روایات کو خرم جہانگیر وٹو ،جہاں زیب وٹو، ذیشان وٹو اور صاحبزادیاں کس طرح آ گے لے کر چلتیں ھیں، خاندان سیاسی ہے ماضی میں صوبائی اور قومی اسمبلی تک رسائی بھی پا چکا ہے لیکن سرپرست کی کمی ضرور محسوس ہوگی اس لیے کہ تجربے کا متبادل کچھ اور نہیں ہوا کرتا ،دلچسپ بات یہ ہے کہ 1977 کا پہلا اور 2018 کا آ خری الیکشن مرحوم نے آ زاد حیثیت سے لڑا اور دونوں میں شکست کا سامنا بھی کیا ،ان کی سیاست کی ابتدا پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ہوئی انہیں پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیا لیکن پھر واپس لے کر غلام محمد مانیکا کو دے دیا گیا ،رد عمل میں منظور وٹو نے آ زاد لڑا اور ہار گئے تاہم یہ بات اہم ہے کہ منظور وٹو نے سیاسی تالاب میں خوب ڈبکیاں لگائیں، میدان سیاست میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ، وزیراعلی پنجاب اور وفاقی وزیر بھی بنے لیکن تادم مرگ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں ہی تھے اگر سیاست کا جائزہ لیا جائے تو 1985 سے 1993 تک پاکستان مسلم لیگ میں رہے ،1993 سے 1995 تک مسلم لیگ جونیجو، 1995 سے 2002 تک مسلم لیگ جناح، 2002 سے 2008 تک مسلم لیگ ق، 2008 سے 2018 تک دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی اور 2018 سے 2020 تک تحریک انصاف میں رہے لیکن 2020 میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ایسے میں وہ ایک سے زیادہ مرتبہ اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیراعلی پنجاب بنے بلکہ 1993 میں صرف پانچ نشستوں سے پیپلز پارٹی کی حمایت سے پہلی مرتبہ وزیراعلی پنجاب منتخب ہوئے تھے یعنی ان کی سیاسی زندگی کا سفر بھی تہلکہ انگیز رہا
منظور وٹو کی سب سے بڑی خوبی تھی کہ وہ ہر بات پر گہرائی سے سوچتے اور فیصلہ انتہائی سوچ و بچار سے کرنے کے عادی تھے، انھیں مشکل سے مشکل حالات میں بھی وقت گزاری کا فن آ تا تھا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھی اور منظور احمد وٹو وزیراعلی پنجاب ان دنوں لاہور پریس کلب کی نو منتخب باڈی کی تقریب حلف برداری آ گئی، جناب منو بھائی سے عباس اطہر صاحب نے سپاس نامہ لکھوایا جس میں ایک مطالبہ تھا کہ شملہ پہاڑی پریس کلب کو دے دی جائے مہمان خصوصی بے نظیر بھٹو اور وزیراعلی منظور احمد خان وٹو بھی موجود ،مطالبے کے جواب میں محترمہ نے منظور وٹو صاحب کی اس مطالبے پر توجہ دلائی مگر وٹو نے کچھ دیر فضاؤں میں گھورا ادھر ادھر دیکھا اور جب وزیراعظم نے زور دیا تو منظور وٹو نے صاف انکار کر دیا اس غیر متوقع جواب پر محترمہ تھوڑی دیر پریشان ہوئیں، پھر انہوں نے کمال مہارت سے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ وٹو صاحب اگر صحافیوں کو آ پ پہاڑی نہیں دے سکتے تو انہیں کوئی میدان ہی الاٹ کر دیں، اس اعلان پر سمجھدار نو منتخب عہدے داروں نے ترجمہ فرمایا کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے میدان کی بات ٫٫ہاؤسنگ سوسائٹی،، کے حوالے سے کی ہے اب صحافی کالونی بنے گی اور معصوم صحافی برادری کئی سال اسی نعرے پر مستقبل کے خواب دیکھتی رہی جبکہ حقیقت یہ نہیں تھی حقیقت تو یہ تھی کہ مئیر لاہور میاں عبدالمجید پہاڑی پہلے ہی میرے دور میں پریس کلب کے نام کر چکے تھے دراصل ان کی درخواست تھی کہ اس فیصلے کی تشہیر نہ کی جائے ورنہ میاں برادران مسئلہ کھڑا کر سکتے ہیں کیسی راز کی بات ہے کہ یہ بات منتخب باڈی اور ان کے سرپرستوں کو پتہ نہیں تھی، نہ ہی وزیراعلی کے علم میں تھا منظور وٹو انتہائی زیرک انسان تھے مختلف فورم پر ان سے بات چیت اور رائے حاصل کرنے کے مواقع ملے لیکن انہوں نے ہمیشہ سوچ کے مطابق چال چلی اور مد مقابل کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ میری بطور سپیکر، وزیراعلی

سیاسی مسافر

نئی نسل

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے