#کالم

نئی نسل

new desing27

تحریر امجد اقبال امجد

یہ کالم کسی فردِ واحد کے خلاف نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اضطراب کی آواز ہے۔ ایک ایسی نسل کے بارے میں جس نے آنکھ کھولی تو ہاتھ میں موبائل تھا، کانوں میں ہیڈفون، اور آنکھوں کے سامنے اسکرین۔ یہ وہ نسل ہے جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی، آج 23، 24 برس کی دہلیز پر کھڑی ہے، مگر تاریخِ انسانی کی شاید سب سے زیادہ کمزور، ناتواں اور ذہنی دباؤ کا شکار نسل بن چکی ہے۔
یہ کمزوری محض جسمانی نہیں، یہ ذہن، دل اور کردار کی کمزوری ہے۔ جسمانی طور پر لاغر، ذہنی طور پر منتشر، اور جذباتی طور پر ناپختہ۔ اس نسل کی تربیت ماں باپ، اساتذہ اور بزرگوں کے سائے میں نہیں ہوئی، بلکہ سوشل میڈیا کے شور میں ہوئی ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور یوٹیوب نے انہیں وہ سکھایا جو لمحاتی خوشی تو دیتا ہے، مگر طویل المیعاد تباہی بھی ساتھ لاتا ہے۔
ہر وقت جھکی ہوئی گردنیں، اسکرین میں گڑی آنکھیں، اور انگلیوں کی برق رفتاری—مگر پاؤں میں چلنے کی سکت نہیں، کندھوں میں بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں، اور دل میں برداشت کی گنجائش نہیں۔ پانچ کلومیٹر پیدل چلنا ان کے لیے پہاڑ سر کرنے جیسا ہے، آدھا گھنٹہ دھوپ میں کھڑا ہونا عذاب لگتا ہے، اور ذرا سا اختلاف ہو تو بلاک، ان فالو، اور رشتہ ختم۔ یہ وہ نسل ہے جو تعلقات کو بھی ایپس کی طرح استعمال کرتی ہے—جب دل چاہا انسٹال، جب بوجھ لگا ان انسٹال۔
انہیں سب کچھ فوراً چاہیے۔ کامیابی بھی، شہرت بھی، دولت بھی، اور محبت بھی—بغیر محنت، بغیر انتظار۔ صبر صفر ہے، مگر غصہ سو فیصد۔ جذباتی ذہانت (EQ) کا حال یہ ہے کہ ذرا سی تنقید برداشت نہیں ہوتی، معمولی ناکامی ذہنی بحران بن جاتی ہے، اور زندگی کے چھوٹے مسائل بھی ڈپریشن کا نام لے لیتے ہیں۔
یہ سوال تلخ ضرور ہے، مگر ضروری ہے: اگر خدانخواستہ اس قوم پر کبھی غزہ، شام، عراق یا یمن جیسی آزمائش آ پڑی تو کیا یہ نسل کھڑی رہ سکے گی؟ لکڑی سے آگ جلانا تو دور، انہیں مشرق اور مغرب کا فرق بھی معلوم نہیں۔ سروائیول کی بات چھوڑیں، اگر چند گھنٹوں کے لیے سوشل میڈیا بند ہو جائے تو بےچینی پاگل پن میں بدل جاتی ہے۔ شناخت اسکرین سے جڑی ہے، اور خودی کا چراغ بجھتا جا رہا ہے۔
المیہ یہ نہیں کہ یہ نسل کمزور ہے؛ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں کمزور بنایا ہے۔ ہم نے سہولتوں کی بھرمار میں انہیں مشکلات سے بچایا، مگر مضبوطی سکھانا بھول گئے۔ ہم نے انہیں ڈگریاں تو دیں، مگر مقصد نہیں دیا۔ ہم نے انہیں زبانیں تو سکھائیں، مگر تہذیب نہیں۔ ہم نے انہیں آزادی تو دی، مگر ذمہ داری نہیں۔
ابھی وقت ہے بیداری کا۔ ابھی وقت ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو واپس انسان بنائیں—صرف صارف نہیں۔ انہیں قرآن سے جوڑیں، سیرتِ رسول ﷺ سے روشناس کرائیں، غیرت اور حیا کا مفہوم سمجھائیں، قربانی اور جدوجہد کی قدر سکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ زندگی فلٹرز اور فالوورز کا نام نہیں، بلکہ کردار، خدمت اور استقامت کا سفر ہے۔
انہیں میدانوں میں اتاریں، کتابوں سے دوستی کروائیں، بزرگوں کے ساتھ بٹھائیں، اور محنت کا ذائقہ چکھائیں۔ مقصد دیں، ورنہ یہ دنیا انہیں اپنی چکاچوند میں گم کر دے گی۔ قومیں نسلوں سے بنتی ہیں، اور نسلیں تربیت سے۔ اگر آج ہم نے ہوش نہ کیا، تو کل تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس کے پاس سب کچھ تھا—سوائے مضبوط انسانوں کے۔

نئی نسل

20/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

نئی نسل

سیاسی مسافر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے