سوچ اور ترجیحات بدلیں
تحریر: خالد غورغشتی
مملکت خداداد کو معرضِ وجود میں آئے، 80 برس کے قریب کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ہم نے وقت اور حالات سے کیا کچھ سیکھا، کُھویا اور پایا؟ آپ کے سامنے ہے۔ معیشت سے لے کر سیاست اور مذہب تک کی گھمبیر صُورتِ حال سے کون واقف نہیں ہے؟
ہمارا ملک جو کہ زرعی اعتبار سے دُنیا کے بہترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں آج بھی گندم سے لے کر سبزیوں اور پھلوں تک بیرون ممالک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ جو کہ گندم، سبزیوں اور پھلوں کی بہترین پیداوار رکھنے والی سر زمین کے باسیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اب بھی ہم اپنے اردگرد زرعی رقبے پر پھل دار درخت اور سبزیاں نہیں اُگاتے کہ ان کی پیداوار سے کہیں پڑوسیوں کو عشر نہ دینا پڑ جائے۔
ایک طرف دُنیا جدید زراعت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے؛ جب کہ دوسری جانب ہم جگہ جگہ زرعی رقبے پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور بڑے بڑے گھر تعمیر کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے؛ زرعی شعبے، کاروبار اور علم و ہنر کے میدان میں ترقی نہ ہونے کے باعث ہمارا سارا زور بچوں کی پیدائش اور دو مرلے کے علاحدہ گھر تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے باعث اینٹ، بجری، سریا اور سیمنٹ کی بنی؛ بے ڈھنگی عمارتیں کھنڈرات، گلیاں تالاب اور راستے جوہڑ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
میں نے بعض تاریخی کتب میں پڑھا، جب فرنگی ہندوستان داخل ہوئے تو اُنھوں نے دیکھا یہاں کے باشندے کُھلی زمینیں ہونے کے باوجود تنگ گلیوں میں رہنا پسند کرتے تو اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تو اُنھیں معلوم ہوا، یہاں کے باشندوں کا ہر معاملے میں دُکھ سُکھ سانجھا ہے؛ لہذا انھوں نے یہاں سب سے پہلے مذہب اور سیاست کے نام پر دڑاریں ڈالنے کے لیے اُنھی میں سے چند افراد کا انتجاب کیا، جو آج بھی عیش و عشرت میں پڑے ہیں اور عوام کی اکثریت دو مرلے کے مکان میں بند ہو کر رہ گئی ہے۔
آج دنیا سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن کاروبار کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جب کہ ہم نے سوشل میڈیا کو بھی سیاسی اور مذہبی جنگ کا میدان بنا دیا ہے۔ ہمارے نوجوان اس نظام سے اس قدر بیزار ہو چکے ہیں کہ اکثریت آج عبادات سے دُور دِکھائی دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہمارے نوجوان فری لانسر، تاجر یا ورکر بننے کے بجائے تربیت نہ ہونے کے باعث مشہور ٹک ٹاکر، یوٹیوبر بن کر عجیب و غریب حرکتوں سے دُنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں۔ آج ان نوجوانوں کی سب سے بڑی ترجیح ٹک ٹاک اور یوٹیوب مونیٹائیز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؛ اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے اکثر سرکاری اداروں سے لے کر نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد کا رویہ انتہائی نازیبا ہوتا ہے۔ جہاں رشوت اور جی حضوری کے بغیر کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، ملازم اور آفیسر کام کے پیسے لینے کے باوجود جب تک "صاحب جی” نہ کہا جائے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کیا پیسے اور رشوت دے کر بھی صاحب جی اور جی حضوری کا یہ سلسلہ اب ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ہم کب تک پیسے دے کر بھی دوسروں کی خوشامد کرتے رہیں گے؟






