عنوان: بدلتا ہوا خطہ، پاکستان، بنگلہ دیش اور سات بہنیں ایک نیا اسٹریٹیجک منظرنامہ
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
جنوبی ایشیا اس وقت ایک خاموش مگر گہری تزویراتی ہلچل سے گزر رہا ہے۔ بظاہر معمولی سفارتی بیانات غیر رسمی رپورٹس اور پسِ پردہ رابطے دراصل آنے والے برسوں کی سیاست، سلامتی اور علاقائی طاقت کے توازن کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے جسے بعض حلقے سعودی عرب جیسے ماڈل سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں بنگلہ دیش کی جانب سے یہ عندیہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو وہ بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں، جنہیں عام طور پر “سیون سسٹر اسٹیٹس” کہا جاتا ہے، تک زمینی راستوں کی بندش پر غور کر سکتا ہے۔ یہ بیان محض ایک دھمکی نہیں بلکہ ایک پورے خطے کے جغرافیائی اور سیاسی مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی تاریخ جذبات، تلخیوں اور تدریجی حقیقت پسندی کا امتزاج ہے۔ 1971ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل خاموشی رہی، جس میں ماضی کے زخم قومی بیانیے اور داخلی سیاست آڑے آتی رہی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ نسلیں بدلیں، ترجیحات تبدیل ہوئیں اور عالمی سیاست نے نئی سمتیں اختیار کیں۔ آج بنگلہ دیش خود کو صرف بھارت کے سائے میں جینے والا ملک نہیں سمجھتا بلکہ وہ ایک خود مختار علاقائی قوت کے طور پر ابھرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس خود اعتمادی میں اس کی معاشی ترقی، برآمدات، آبادی اور جغرافیائی محلِ وقوع کا بڑا کردار ہے۔
پاکستان کے لیے بھی خطے میں نئی شراکت داریاں محض انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بنتی جا رہی ہیں۔ افغانستان کی صورتِ حال، بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات چین کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت اور مسلم دنیا میں بدلتے اتحاد پاکستان کو اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ مشرقی سمت میں بھی نئے امکانات تلاش کرے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی تعاون کی بات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر واقعی ایسا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ صرف دو ممالک کے درمیان فوجی تعاون تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات سفارت، تجارت اور علاقائی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔
دفاعی معاہدے کی بات آتے ہی بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ جانا فطری امر ہے۔ بھارت پہلے ہی اپنے شمال مشرقی حصے کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔ سات بہنوں کی ریاستیں جغرافیائی طور پر بھارت کے باقی حصے سے محض ایک تنگ راہداری، سلی گوری کوریڈور، کے ذریعے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ راہداری دفاعی اعتبار سے بھارت کی کمزور رگ سمجھی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش اگر زمینی یا لاجسٹک سطح پر ان ریاستوں تک رسائی محدود کرنے کی پالیسی اپناتا ہے تو یہ بھارت کے لیے محض سفارتی چیلنج نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سلامتی مسئلہ بن سکتا ہے۔
یہاں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ بنگلہ دیش ایسا قدم کیوں اٹھا سکتا ہے؟ اس کی ایک وجہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگیاں بھی ہیں۔ پانی کی تقسیم، سرحدی فائرنگ، غیر قانونی ہجرت اور داخلی سیاست میں مداخلت جیسے مسائل بنگلہ دیشی عوام میں بے چینی پیدا کرتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش میں یہ احساس بھی مضبوط ہوا ہے کہ بھارت اسے ایک خود مختار شراکت دار کے بجائے ایک ماتحت ریاست کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایسے میں سخت بیانات اور ممکنہ اقدامات دراصل اپنی خود مختاری کے اظہار کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کا ممکنہ دفاعی اتحاد بھارت کے لیے اس لیے بھی پریشان کن ہے کہ یہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔ اب تک بھارت یہ سمجھتا رہا ہے کہ مشرقی پاکستان کے خاتمے کے بعد وہ خطے میں بلا شرکت غیرے ایک بڑی قوت بن چکا ہے۔ مگر اگر بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن بنانے کے لیے پاکستان، چین یا دیگر مسلم ممالک کے قریب جاتا ہے تو بھارت کی علاقائی برتری کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
سات بہنوں کی ریاستوں کا مسئلہ صرف جغرافیہ کا نہیں بلکہ شناخت محرومی اور سیاسی بے چینی کا بھی ہے۔ ان ریاستوں میں کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند تحریکیں نسلی تنازعات اور مرکز کے خلاف شکایات موجود رہی ہیں۔ اگر بیرونی عوامل ان محرومیوں کو ہوا دیتے ہیں یا بھارت کی رسائی کمزور ہوتی ہے تو علیحدگی کے جذبات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جانب سے راستوں کی بندش کا اشارہ اسی حساس زخم پر انگلی رکھنے کے مترادف ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عالمی طاقتیں خاموش تماشائی نہیں ہیں۔ چین پہلے ہی خطے میں انفراسٹرکچر، تجارت اور دفاع کے ذریعے اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ بنگلہ دیش چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے، جبکہ پاکستان میں سی پیک ایک بڑی مثال ہے۔ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون بڑھتا ہے تو چین کا کردار پسِ پردہ ضرور زیرِ بحث آئے گا۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں بھی اس خطے میں کسی نئے بلاک کی تشکیل کو گہری نظر سے دیکھیں گی۔
سعودی عرب جیسے ماڈل کی بات دراصل یہ اشارہ دیتی ہے کہ دفاعی تعاون صرف جنگی اتحاد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ تربیت، اسلحہ، انٹیلی جنس اور مشترکہ مشقوں تک پھیلا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنی دفاعی صنعت اور عسکری تجربے کو ایک نئے پارٹنر کے ساتھ شیئر کرے۔ بنگلہ دیش کے لیے یہ ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش ہوگی تاکہ وہ کسی ایک ملک پر انحصار نہ کرے۔
تاہم اس سارے منظرنامے میں خطرات بھی کم نہیں۔ خطے میں اسلحے کی دوڑ، غلط فہمیوں اور جذباتی فیصلوں کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اگر سفارت کاری کی جگہ دھمکیوں اور طاقت کے مظاہرے نے لے لی تو جنوبی ایشیا ایک نئے عدم استحکام کی طرف جا سکتا ہے، جس کا نقصان سب سے زیادہ عام عوام کو ہوگا۔ غربت، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کے مسائل اور معاشی عدم مساوات جیسے اصل مسائل پسِ پشت چلے جائیں گے۔






