#کالم

عدالتی نظام انصاف میں چیف جسٹس محترمہ عالیہ نیلم کا اہم کردار

nadeem

ندیم بھٹی

چیف جسٹس لاھور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم پاکستان کے عدالتی منظرنامے کی ایک نمایاں شخصیت ھیں، جن کی قیادت میں عدالتی انتظام، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، مقدمات کے مو¿ثر انتظام اور انصاف کی بروقت فراہمی جیسے موضوعات کو خصوصی اہمیت حاصل ھے۔ کسی بھی ریاست میں عدلیہ کا بنیادی کردار صرف مقدمات کے فیصلے کرنا نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ، ریاستی اداروں کی قانونی حدود کی نگرانی اور معاشرے میں انصاف کے تصور کو عملی حقیقت بنانا بھی ھے۔ اس تناظر میں جسٹس عالیہ نیلم کی عدالتی خدمات، فوجداری قوانین پر ان کی توجہ اور اصلاحاتی اقدامات قابلِ تحسین ھیں، کیونکہ ایک مضبوط عدالتی نظام ھی قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بنیاد بنتا ھے۔ جسٹس عالیہ نیلم نے 11 جولائی 2024ئ کو لاھور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس کی حیثیت سے منصب سنبھالا، جو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ھے۔ ان کی تقرری اس حقیقت کی عکاس ھے کہ عدلیہ میں قیادت کا معیار پیشہ ورانہ صلاحیت، قانونی فہم، تجربے اور میرٹ سے وابستہ ھونا چاھیے۔ تاہم کسی چیف جسٹس کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف تاریخی تقرری نہیں بلکہ ادارے کی کارکردگی، شہریوں کو ملنے والا انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے کیے جانے والے اقدامات ھیں۔ اسی معیار پر ان کی قیادت اور اصلاحاتی کوششوں کا جائزہ لینا ضروری ھے۔ فوجداری نظامِ انصاف ریاست کے ان بنیادی شعبوں میں شامل ھے جن کی کارکردگی براہِ راست شہریوں کی جان، مال، عزت اور آزادی سے جڑی ھوتی ھے۔ قتل، ڈکیتی، اغوا، فراڈ، غیر قانونی حراست اور دیگر جرائم کے مقدمات میں تاخیر متاثرہ خاندانوں کے لیے طویل اذیت کا سبب بنتی ھے، جبکہ کمزور تفتیش اور ناقص استغاثہ مجرموں کے احتساب کو مشکل بنا سکتے ھیں۔ دوسری جانب، کسی بے گناہ شخص کو ناقص شواہد یا غیر منصفانہ کارروائی کی بنیاد پر سزا ملنا بھی انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ھے۔ اس لیے فوجداری مقدمات میں رفتار کے ساتھ معیار، شفافیت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل یکساں اہمیت رکھتے ھیں۔ جسٹس عالیہ نیلم کی عدالتی توجہ کا ایک اہم پہلو یہ ھے کہ پولیس اور متعلقہ حکام اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔ فوجداری معاملات میں پولیس کی تفتیش، شواہد کا تحفظ، گواھوں کے بیانات اور چالان کی بروقت تکمیل بنیادی اہمیت رکھتے ھیں۔ اگر تفتیش میں غیر ضروری تاخیر ھو، شواہد محفوظ نہ رکھے جائیں یا استغاثہ عدالت میں مقدمہ مو¿ثر انداز سے پیش نہ کر سکے تو انصاف کی فراہمی متاثر ھوتی ھے۔ اسی لیے عدالتی نگرانی، پولیس کمانڈ کی جواب دھی اور تفتیشی معیار میں بہتری ضروری ھے۔ عدالتوں کی ذمہ داری ھے کہ وہ قانونی تقاضوں کی تکمیل یقینی بنائیں، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور ایسے معاملات میں متعلقہ اداروں سے جواب طلب کریں جہاں غفلت یا غیر ضروری تاخیر انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رھی ھو۔ فوجداری انصاف کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ھے کہ پولیس، پراسیکیوشن، فرانزک اداروں، جیل انتظامیہ اور عدالتوں کے درمیان رابطہ مضبوط ھو۔ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر شواہد جمع کرنے، گواھوں کے بیانات، چالان کی تکمیل اور مقدمے کے حتمی فیصلے تک ہر مرحلہ قانون کے مطابق مکمل ھونا چاھیے۔ اگر تفتیشی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو اس کا اثر صرف متاثرہ شہری پر نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام پر پڑتا ھے۔ اس مقصد کے لیے مقدمات میں تاخیر کی وجوھات، تفتیش کی خامیوں، استغاثہ کی کارکردگی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاھیے۔ تاہم عدالتی نگرانی کا مقصد کسی ادارے کے روزمرہ انتظامی اختیارات میں غیر ضروری مداخلت نہیں بلکہ قانون کے مطابق کارکردگی یقینی بنانا ھونا چاھیے۔ پاکستان میں زیرِ التوا مقدمات ایک دیرینہ مسئلہ ھیں۔ مقدمات کی کثرت، ججوں کی کمی، بار بار التوا، فریقین کی عدم حاضری اور انتظامی مسائل انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بنتے ھیں۔ عدالتی نظام میں مقدمات کا مو¿ثر انتظام، ترجیحی سماعت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ھو سکتا ھے۔ تاہم مقدمات نمٹانے کی تعداد کے ساتھ فیصلوں کا معیار بھی اہم ھے۔ جلد انصاف کا مطلب جلد بازی نہیں بلکہ ایسا منظم عدالتی طریقہ کار ھے جس میں غیر ضروری تاخیر ختم ھو اور کسی
شہری کے قانونی حقوق متاثر نہ ھوں۔ مقدمات کی درجہ بندی، التوا کی وجوھات کا اندراج، عدالتی اوقات کا مو¿ثر استعمال اور زیرِ سماعت مقدمات کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کے اہم ذرائع ھیں۔ جدید دنیا میں عدالتی نظام کو مو¿ثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ھے۔ آن لائن مقدمات کی معلومات، خودکار کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹل ریکارڈ اور ای فائلنگ سے وقت اور وسائل کی بچت ممکن ھے۔ جسٹس عالیہ نیلم کی قیادت میں عدالتی انتظام کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی سمت میں پیش رفت ایک مثبت رجحان ھے۔ ان اقدامات کی کامیابی اسی وقت ممکن ھے جب ضلعی عدالتوں تک ان کا مو¿ثر نفاذ ھو، شہریوں کو مقدمے کی پیش رفت معلوم کرنے کے لیے غیر ضروری دفتری چکر نہ لگانے پڑیں اور عدالتی ریکارڈ محفوظ و قابلِ رسائی ھو۔ اس کے ساتھ سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور تکنیکی سہولتوں سے محروم شہریوں کے لیے متبادل انتظامات بھی ضروری ھیں۔ فوجداری نظام صرف عدالت اور پولیس تک محدود نہیں بلکہ جیلیں بھی اس کا اہم حصہ ھیں۔ قیدیوں کے بنیادی حقوق، خواتین قیدیوں کی ضروریات، طبی سہولتیں، قانونی معاونت اور اصلاح و بحالی کے مواقع ایک مہذب ریاست کی ذمہ داری ھیں۔ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں، زیرِ سماعت مقدمات میں قید افراد کی طویل انتظار کی مدت اور کمزور قانونی معاونت جیسے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ھوگی۔ ضمانت کے قانونی معیار پر منصفانہ عمل، مقدمات کی ترجیحی سماعت اور قیدیوں کی قانونی حیثیت کا بروقت جائزہ اس عمل میں مددگار ثابت ھو سکتا ھے۔ اصلاحات کا مقصد نہ قانون میں نرمی کے نام پر مجرموں کو غیر ضروری رعایت دینا ھے اور نہ سختی کے نام پر بنیادی حقوق نظرانداز کرنا، بلکہ قانون کے مطابق منصفانہ اور متوازن نظام قائم کرنا ھے۔ لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی قیادت کا ایک اہم دائرہ پنجاب بھر کی ماتحت عدلیہ کی نگرانی بھی ھے۔ عام شہری کی بڑی تعداد کو انصاف کے لیے پہلے ضلعی اور سیشن عدالتوں سے رجوع کرنا پڑتا ھے۔ اس لیے عدالتی اصلاحات کا فائدہ صرف اعلیٰ عدالت تک محدود نہیں رھنا چاھیے۔ ضلعی عدالتوں میں سہولتوں کی فراہمی، ججوں اور عدالتی عملے کی استعداد میں اضافہ، مقدمات کے انتظام میں بہتری اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو مو¿ثر بنانا ضروری ھے۔ ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ، بہترین عملی مثالوں کی حوصلہ افزائی اور کمزور کارکردگی کی وجوھات کی نشاندھی اصلاحاتی عمل کو مضبوط بنا سکتی ھے۔ تاہم احتساب کے ساتھ عدالتی آزادی اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کا تحفظ بھی لازم ھے۔ کسی جج کی کارکردگی کا جائزہ صرف فیصلوں کی تعداد سے نہیں بلکہ فیصلوں کے معیار، قانونی تقاضوں کی پابندی اور مقدمات کے مو¿ثر انتظام سے بھی لیا جانا چاھیے۔ جسٹس عالیہ نیلم کی عدالتی قیادت اور اصلاحاتی اقدامات اس لحاظ سے اہم ھیں کہ انہوں نے عدالتی نظام کی کارکردگی، جدید ٹیکنالوجی اور فوجداری معاملات میں ادارہ جاتی ذمہ داری جیسے موضوعات کو نمایاں کیا۔ اب ضرورت اس امر کی ھے کہ ان کوششوں کو ایک مستقل اور قابلِ پیمائش نظام میں تبدیل کیا جائے۔ مقدمات کے فیصلوں، زیرِ التوا مقدمات، التوا کی وجوھات، پولیس تفتیش کے معیار اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق باقاعدہ کارکردگی رپورٹس تیار کی جائیں۔ ان رپورٹس میں شہریوں کی شکایات اور انصاف تک رسائی کے مسائل کو بھی جگہ ملنی چاھیے۔ اسی طرح قانونی معاونت کے نظام کو بہتر بنانا، گواھوں کے تحفظ کے اقدامات مو¿ثر کرنا، خواتین اور کمزور طبقات کے لیے عدالتی سہولتیں بڑھانا اور زیرِ سماعت مقدمات میں قید افراد کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھنا ضروری ھے۔ اصلاحات کے نتائج کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے سے عدلیہ پر اعتماد مزید مضبوط ھو سکتا ھے۔ جسٹس عالیہ نیلم کے لیے سب سے اہم کامیابی یہ ھوگی کہ عدالتی اصلاحات کا فائدہ عام شہری تک پہنچے، طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کا معیار یکساں رھے اور انصاف کے حصول میں مالی حیثیت، اثرورسوخ یا سماجی مقام رکاوٹ نہ بنے۔ عدلیہ کا احترام اس کے منصب سے ضرور وابستہ ھے، لیکن اس احترام کو دیرپا بنانے کے لیے شفافیت، غیر جانب داری، بروقت فیصلے اور قانون کی یکساں عمل داری بنیادی اہمیت رکھتے ھیں۔ میری رائے میں جسٹس عالیہ نیلم کی قیادت میں عدالتی نظام کو جدید، منظم اور عوام دوست بنانے کی کوششیں قابلِ قدر ھیں۔ ان اصلاحات کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے مسلسل جائزہ، ادارہ جاتی تعاون اور جواب دھی کا شفاف نظام ضروری ھے۔ ایک کامیاب چیف جسٹس وہی ھوتا ھے جو عدالتی وقار کے ساتھ شہریوں کے اعتماد کو بھی مضبوط کرے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے کہ انصاف صرف قانون کی کتابوں میں درج اصول نہ رھے بلکہ ہر مظلوم کے لیے قابلِ حصول حقیقت بنے۔ یہی وہ معیار ھے جس پر عدالتی قیادت کی کامیابی اور تاریخ میں اس کے مقام کا فیصلہ ھوتا ھے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے