سو لفظوں کی کہانی
یاری
ہم یاروں کے یار ہیں بھئی،
وقت آنے پہ جان دینے سے بھی دریغ نا کریں،
دوستی کی خاطر سینے پہ گولی تک کھا لیں، مگر پیٹھ نہ دکھائیں،
نسلی لوگ ہیں، نسلوں تک ساتھ نبھاتے ہیں،
دوسو میرے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر بولا۔۔۔
مجھے خود پہ فخر سا محسوس ہونے لگا کہ،
دوسو جیسا مخلص انسان میرا یار ہے۔۔۔۔
اگلے ہی چوک پر ایک گاڑی والے سے مڈبھیڑ ہو گئی،،،
راہ چلتے راہگیر میری مدد کو آئے،
گاڑی والے کو بے نقط سنائیں۔
مسلہ ہوتے ہی،
دوسو کہاں گیا، کب گیا،
مجھے علم ہی نہیں ہو سکا۔






