غریب کا ٹیکس، امیروں کی عیاشیاں: اصل بدنامی کہاں ہے؟
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
پاکستان کا تصور ایک ایسی ریاست کے طور پر کیا جاتا تھا جو امانت، دیانت داری اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر کھڑی ہو، لیکن آج حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔ 5300 ارب روپے کی کرپشن کا انبار صرف ایک مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ قوم کے اجتماعی ضمیر پر لگنے والا وہ داغ ہے جسے دنیا پوری توجہ سے دیکھتی ہے۔ جب ایک ملک کے اپنے حکمران اور ادارے اپنے اندر شفافیت قائم نہ رکھ سکیں تو پھر یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ دنیا اس ملک کے شہریوں اور ان کے پاسپورٹ کو عزت دے گی؟ کرپشن نے پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا اور عالمی برادری نے اس صورت حال کو اس ملک کی کمزوری کا ثبوت سمجھا۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر جب پاکستان جیسے ملک میں قومی تعلیمی بجٹ محض 40 ارب روپے پر محدود رکھا جائے اور اس کے مقابلے میں 700 ارب روپے ایک ایسے سماجی پروگرام پر خرچ ہوں جو اکثر اوقات سیاسی مفادات یا بدانتظامی کی وجہ سے اصل ضرورت مندوں تک نہیں پہنچتا، تو دنیا لازمی سوال کرتی ہے کہ اس قوم کی ترجیحات کیا ہیں؟ تعلیم پر ضرب لگے گی تو نسلیں پیچھے رہیں گی، اور جب نسلیں پیچھے رہ جائیں تو ملک کبھی دنیا میں مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کو کمزور بناتا ہے۔
دنیا کے 140 ممالک میں سے پاکستان کو 138ویں نمبر پر رکھا جانا کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی پالیسیوں، فیصلوں اور بدعنوانی کا منطقی نتیجہ ہے۔ یہ درجہ بندی پاکستان کے نظامِ انصاف، گورننس، معاشی ڈھانچے اور سرکاری اداروں کی مجموعی کارکردگی کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دلیر قومیں اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر ان پر قابو پاتی ہیں۔ تاہم پاکستان میں اکثر اوقات اس آئینے کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ خود کو سنوارنے کی۔
لاقانونیت کی بڑھتی ہوئی لہر نے ملک کے اندر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں لوگ انصاف سے مایوس اور قانون سے بے خوف نظر آتے ہیں۔ عدالتوں میں برسوں کیس لٹکنے، پولیس کا طاقتوروں کے سامنے بے بس ہونا اور کمزور کا ہمیشہ دب جانا دنیا کو یہی دکھاتا ہے کہ پاکستان میں قانون اور انصاف کا نظام کمزور ہے۔ جب ملک کے اندر انصاف نایاب ہو جائے تو باہر کی دنیا میں عزت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
مہنگائی نے عام آدمی کی کمر اس بے رحمی سے توڑی ہے کہ لوگ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ غریب کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد بن چکی ہے، جب کہ اشرافیہ ٹیکس عام آدمی سے لیتی ہے اور مراعات خود رکھتی ہے۔ ایسے معاشرے میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے اور باقی عوام اذیت میں مبتلا رہتے ہیں، اور دنیا دیکھتی ہے کہ پاکستان میں طبقاتی ناانصافی کس سطح تک بڑھ چکی ہے۔
سرکاری اور مذہبی غنڈہ گردی نے پاکستان میں خوف کی فضا کو بڑھا دیا ہے۔ جب کچھ لوگ مذہب یا طاقت کے نام پر دھونس جماتے ہیں، اداروں کو کمزور کرتے ہیں اور قانون سے بالاتر ہو کر فیصلے مسلط کرتے ہیں تو دنیا اسے بے امنی، انتہا پسندی اور نافرمانی کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس سے پاکستان کا وہ مثبت چہرہ دھندلا جاتا ہے جو کبھی دنیا میں ایک نرم اور مہمان نواز قوم کے طور پر جانا جاتا تھا۔
اگر پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت کم ہے تو اس کی وجہ پاسپورٹ خود نہیں بلکہ وہ حالات ہیں جنہوں نے پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کو دنیا بھر میں بے نقاب کیا۔ دنیا پاسپورٹ پر اسٹیکر نہیں دیکھتی، دنیا ملک کے نظام، اس کے اداروں اور عوام کے طرزِ عمل کو دیکھتی ہے۔ جب اندرونی نظام کمزور ہو تو پاسپورٹ کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے۔
پاسپورٹ کی عزت اس وقت بلند ہوتی ہے جب کسی ملک کی معیشت مضبوط ہو، حکمران ایماندار ہوں، ادارے شفاف ہوں اور عوام قانون کی پاسداری کریں۔ مگر اگر ملک میں پالیسی سازی کمزور، کرپشن مضبوط اور انصاف نایاب ہو، تو پاسپورٹ کی وقعت کو کون بڑھائے گا؟ دنیا صرف وہی قومیں تسلیم کرتی ہے جو خود کو بہتر بناتی ہیں۔
پاکستان کا اصل مسئلہ باہر والوں کا رویہ نہیں بلکہ اندرونی بے حسی ہے۔ جب ملک کے اندر عوام اور حکمران دونوں ہی اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لینے سے گریز کریں تو پھر کوئی عالمی ادارہ، کوئی رینکنگ اور کوئی پاسپورٹ پاکستان کو عزت نہیں دلوا سکتا۔ عزت ہمیشہ خود کما کر حاصل کی جاتی ہے، مانگ کر نہیں۔
پاکستان کا نظام کئی دہائیوں سے زوال کا شکار ہے۔ وہی پرانے قوانین، وہی پرانی سوچ اور وہی طاقت کے مراکز آج بھی ملک کو جکڑے ہوئے ہیں۔ اصلاحات کا ذکر تو کیا جاتا ہے مگر عملی میدان میں کچھ نہیں ہوتا۔ جب تبدیلی کا نعرہ حقیقت نہ بن سکے تو پھر قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک نے اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کی، انہیں تعلیم دی، صحت دی، انصاف دیا، مواقع دیے۔ پاکستان میں اس کے برعکس عوام پر خرچ ہمیشہ کم ہوا اور اشرافیہ پر زیادہ۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے پاکستان کو عالمی میدان میں پیچھے دھکیل دیا۔
پاکستان کے نوجوان اس قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، لیکن یہی نوجوان بہتر زندگی، بہتر تعلیم اور بہتر مواقع کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کیونکہ ایک قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب وہ اپنے بہترین دماغوں کو اپنے اندر رکھ سکے، نہ کہ انہیں کھو دے۔
مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور لاقانونیت نے قوم کے اندر بے چینی بڑھا دی ہے۔ جب لوگ مایوسی میں ڈوب جائیں تو پھر معاشرے کی ترقی رک جاتی ہے۔ مایوس قومیں کبھی مضبوط نہیں رہ سکتیں، اور مضبوط قومیں کبھی دنیا میں بے وقعت نہیں ہوتیں۔
عالمی اداروں نے پاکستان کی کارکردگی پر جو رپورٹس جاری کی ہیں وہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ






