پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
قسط نمبر:12
(شاہد بخاری)
ان کی تدریسی کاوشوں کا علم انتہائی ضروری ہے اس سے مترشح ہو گا کہ مصمم ارادے کیسے راہیں تلاش کرلیتے ہیں اور حقیقی تدریسی مزاج کس طرح نمو پذیر ہوتا ہے، اس ضمن میں ہم اگلے کسی باب میں ان کے کالج کے سربراہان، رفقائے کار اور طلبہ اور طالبات کی آراء کے کچھ حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کریں گے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اصل استاد وہ ہوتا ہے جو محض تدریس نہیں کرتا بلکہ بے پناہ تحریک کا باعث بھی بنتا ہے اور طلبا ء کے لئے رول ماڈل ہوتا ہے۔ ان کے ایسے تلامذہ کی کمی نہیں جو انتہائی افسردگی اور مایوسی کی حالت میں ان سے ملے اور ایک دو نشستوں کے بعد ہشاش بشاش ہو کراپنے مقاصد کے حصول میں لگ گئے اور ہر حوالے سے ان کی جیتی جاگتی اور متحرک شخصیت کو اپنا رول ماڈل بنایا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ریٹائر نہیں ہوئے بلکہ ابھی تک ان میں اضمحلال کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ بعد ازاں انہوں نے2003 میں یونیورسٹی آف پنجاب لاہور میں شعبہ خصوصی تعلیم میں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دیئے اور تدریسی عمل بھی جاری رکھا۔2005 میں سرگودہا واپس آ کر سرگودہا یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے اور ایم اے اردو کی کلاسز لیں اور بی ایس انگریزی تین چار سال تک پڑھاتے رہے۔ طولِ کلام کے خوف سے بہت کچھ لکھنا ممکن نہیں۔ ہماری خواہش ہو گی کہ اگر آپ ان کی متحرک رنگا رنگ، ہمہ جہت،ولولہ انگیز اور ہمت افزاء شخصیت کا مطالعہ کرنا چاہیں تو ان کی نظم و نثر کا مطالعہ کریں۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ ایک اچھا شاعر اچھا ادیب کس طرح اچھا انسان ہو سکتا ہے اور یہ کہ دلِ گداختہ رکھنے والا انسان ہی بڑا شاعر ممتاز ادیب اور سربرآوردہ دانشور ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرشیخ اقبال کی تدریسی کہانی کی اتنی جہتیں ہیں کہ ان پر کئی کتابیں تحریر ہو سکتی ہیں لیکن جانے کیوں اربابِ اختیار اور حل و عقد نے اتنی بڑی شخصیت کو لائم لائٹ میں لانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ ان کی نگاہِ دروں، ان کی صلاحیتوں کا ادراک کیوں نہیں کر پائی؟ ہماری رائے میں ان کی سوانح عمری تدریسی نصاب کا حصہ ہونی چاہیے تاکہ طلبا و طالبات میں ایک نئی زندگی پید اہو اور انہیں یہ احساس ہو کہ بینائی کے نہ ہوتے ہوئے، ذرائع انتہائی محدود ہونے کے باوجود اور بہت سے نامساعد حالات کے ہوتے ہوئے ارادوں کی تکمیل کیسے ممکن ہے؟۔
ادبی خدمات
پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال کی ادبی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے مجھے بہت دقت محسوس ہو رہی ہے کہ ان کی خدمات کے جانے کتنے پہلو ہیں کتنی وسعت ہے اور کس قدر گہرائی اور گیرائی ہے، تنوع اور بوقلمونی ہی بوقلمونی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے ادب کی کسی ایک صنف میں طبع آزمائی نہیں کی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ سوائے ناول اور سفر نامے وغیرہ کے انہوں نے ادب کی کسی صنف کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ اس لئے ان کی ادبی خدمات پر قلم اٹھاتے ہوئے بڑی وسعت نظری اور وسیع مطالعہ کی ضرورت ہے اور ان کے تمام کلام کو اور تمام تصنیفات کو ایک اکائی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ان کے فنی سفر کی تمام راہیں، منازل اور پڑاؤ قابل غور اور قابل ذکر ہیں۔ ان کا فنی سفر بہت سرعت سے ارتقا پذیر ہوا۔ شعر پر شعرہوتے چلے گئے، مضمون پر مضمون،نثر میں بھی جو انہوں نے تحریر کیا وہ بذاتِ خود بڑی توجہ کا مستحق ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ شاعری کے میدان میں ہی گامزن نہیں بلکہ اسی کامیابی اور سرعت کے ساتھ نثر میں بھی انہوں نے اپنے دل و دماغ کی جانے کتنی صلاحیتیں صرف کر دی ہیں۔
ان کی شاعری کے نو مجموعے شائع ہو چکے ہیں،سات اردو میں، ایک انگریزی اور ایک پنجابی میں(اب مجموعوں کی تعداد 11ھوچکی ھے)ان کی کچھ غزلیں فارسی میں بھی ہیں۔ان چاروں زبانوں میں جتنی روانی اور شعری اُپج نظر آتی ہے وہ صرف ڈاکٹر اقبال ہی کا حصہ ہے، بہت کم شعراء ایسے ہوں گے جنہوں نے ان چاروں زبانوں میں بڑی کامیابی سے طبع آزمائی کی اور جریدہء حیات پر اپنے نقوش ثبت کئے ہوں، شاعری میں غزل ہی نہیں بلکہ نظم میں بھی، انہوں نے انتہائی خوبصورت تخلیقات پیش کر کے ایک قد آور نظم گو شاعر کا مرتبہ حاصل کر لیا ہے۔ کہیں کہیں قطعات بھی ہیں اورفردیات بھی۔ان کی شاعری پوری زندگی کا احاطہ کرتی ہے، رومان کی بوقلمونی تو شاعری کا طرہءامتیاز ہوتی ہی ہے لیکن ان کے یہاں سماجی دکھوں اور معاشرتی المیوں کا جس شاعرانہ پیکر میں اظہار ملتا ہے وہ قابلِ صد تحسین ہے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ایک دنیا کی سیر کی ہے وہ ہزاروں دلوں میں مقیم رہے ہیں ہزاروں اذہان کے ہم سفر رہے ہیں۔ انہوں نے گلی کوچوں میں آہ و بکا کرتی ہوئی انسانیت کے دکھوں کو بھی محسوس کیا ہے اور شہروں کی گھٹن، خود غرضی، آپا دھاپی، شورو غوغا، عجلت پسندی، مادیت اور وہ تمام ذہنی اور قلبی واردات جو اس دھماکہ خیز بڑھتی ہوئی آبادی میں دکھائی اور سنائی دیتی ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ فطرت کی رعنائی، خوبصورتی، دلآویزی، چاند کی چاندنی، پھولوں کی صباحت، دریاؤں کی روانی، چاند تاروں کی چمک دمک، حسین چہروں کی دلربائی اور سحر انگیزی، ہجرو وصال کی لذتیں،تنہائی کے کچوکے، بے دری اور بے گھر ی کے عذاب، افلاس کی چیخیں، ننگے دھڑنگے بھوکے مصیبت زدہ بیمار اور بے دست و پا مخلوق کی جس انداز سے انہوں نے ترجمانی کی ہے اس سے محسوس ہوتا کہ ان کے دل کا دریا سمندر سے بھی گہرا ہے اور ان کا تخیل پہاڑوں سے بھی زیادہ بلند ہے وہ بے بال و پر اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وہ الفاظ کے جادو، جملوں کے سحر، علم الکلام اور علم البیان کی تمام تر خوبیوں سے بخوبی واقف ہیں۔
ویسے تو ہر شاعر کے ہاں حمد و نعت کے عمدہ نمونے مل جاتے






