#کالم

تاج محل پتھرہے ؟

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر:۔ جاویدایازخان 

احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ 

یہ غالبا”اسی کی دھائی کا واقعہ ہے جب طارق عزیز کا نیلام گھرپی ٹی وی پر شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا ۔میں بھی بڑی باقاعدگی سے یہ پروگرام دیکھا کرتا تھا ۔اسی پروگرام میں بیت بازی کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا ۔جس میں مختلف کالج کے بچے شرکت کرتے تھے ۔اسی بیت بازی کے مقابلے میں ایک بچی نے یہ شعر پڑھا تو طارق عزیز چونک اٹھے اور پوچھا کہ یہ کس کا شعر ہے ؟ تو بچی نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے ۔تو طارق عزیز نے اس شعر کے بارۓ میں یہ تاریخی الفاظ  ادا کئے کہ "مجھےبھی نہیں معلوم کہ یہ شعر کس کا ہے مگر اس شعر کا خالق جو بھی ہے وہ ہماے  ادب کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا "۔وہ شعر آج بھی ہر جانب اکثر سنائی دیتا ہے ۔یقینا” ادب میں شہرت کا پیمانہ ہمیشہ تخلیق نہیں رہا بلکہ ماحول ،تعلقات ،رسائی اور شہر کی وسعت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی 

اردو ادب کی دنیا بھی ایک عجیب دنیا ہے۔یہاں کبھی ایک مصرعہ پوری صدیوں کا سرمایہ بن جاتا ہے لیکن اس کا خالق ایک بےنشان گوشہ گمنامی میں دفن رہتا ہے ۔ایسا ہی ایک شعر اکثر سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے لیکن شاید کوئی نہیں جانتا کہ یہ کس عظیم شاعر کی تخلیق ہے ۔یہ شعر  شادی بیاہ کی تقریبات ہوں ،ریڈیو کی نغمہ بار لہریں ہوں یا دوستوں کی بیٹھکیں ہوں یا بیت بازی کا مقابلہ ہو یہ شعر جگہ جگہ پڑھا ضرور جاتا ہے مگر کتنے لوگ جانتے ہیں کہ یہ شعر بیاض سونی پتی ایک صوفی اور درویش شاعر کا ہے ؟ جسے شاید بہت کم  ہی جانتے ہیں ۔لوگ ان کے اشعار تو پڑھتے اور گنگناتے  ضرور ہیں مگر شاعر کے نام سے واقف نہیں ہیں ۔اردو ادب کی سرزمین ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں شاعر گمنام رہے مگر ان کے اشعار زندہ صداوں کی طرح معاشرے کے ہر گوشے میں گونجتے رہے ۔جی ہاں ! ایسا ہی ایک نام محمد بیاض خان مرحوم کا تھا جنہیں ادبی حلقوں میں بیاض سونی پتی کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔یہ سادہ مزاج شاعر مگر گہری معنویت کا مالک  اپنے شہر میں ادبی سرگرمیوں کی روح رواں سمجھا جاتا تھا ۔جس نے بیاض اکیڈیمی کے زیر اہتمام پرورش لوح قلم کا علم اٹھاۓ رکھا ۔اور یہ ثابت کیا کہ بڑے فکری رجحانات  دھڑکتے ہوۓ بڑے شہروں میں ہی نہیں خاموش بستیوں میں بھی پروان چڑھتے ہیں ۔بیاض سونی پتی کا شمار بھی انہی سچے فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے شہرت کے بغیر شاعری کا اعلیٰ معیار قائم رکھا اور یہی ان کی عظمت ہے ۔

جس کی تخلیق ہے یہ ہاۓ وہ احساس لطیف 

یہ حقیقت ہے بجا تاج محل پتھر ہے ۔

بیاض سونی پتی مرحوم  پاکستان  کے ان گمنام تحلیق کاروں میں شامل ہیں جن کی شاعری ،جن کا وژن اور جن کے الفاظ اور کلام ان کے نام اور شہرت سے کہیں آگے نکل گیا ہے ۔ان کے بےشمار اشعار آج بھی عوام و خواص کی زبان پر موجود ہیں مگر افسوس کہ شاعر کا نام کہیں کھو گیا ہے ۔یہ صرف ان کا ہی نہیں بلکہ اردو ادب کے ہزاروں شاعروں کا المیہ ہے جنہوں نے قصبوں ،چھوٹے شہروں ،گلیوں اور بستیوں  میں رہ کر بھی ایسے ایسے اشعار تخلیق کئے جن پر بڑے بڑے ایورڈ بھی قربان کئے جا سکتے ہیں ۔ادب کی دنیا میں  شہرت کا حصول ہمیشہ محض قابلیت کا مرہون منت نہیں رہا ۔بہت سے ایسے شاعر گزرے ہیں جنہوں نے کسی بڑے ادارۓ کی سرپرستی نہیں پائی ،کسی بڑے شہر میں رہائش نہیں رکھی ،کسی بڑے ادبی حلقے سے تعلق نہیں بنایا ۔یوں ان کی تخلیقات تو آگے بڑھتی رہیں مگر نام وہیں رہ گیا جہاں وہ پیدا ہوا یا پلا بڑھا اور شعروسخن کی خدمت کی اور کسی چھوٹے سے قصبے کی گمنام سی گلی کے پرانے اور ٹوٹے پھوٹے کمروں کے کونے میں کھانستا ،سگریٹ کا دھواں نگلتا اور اشعار لکھتا رہا ۔کہتے ہیں کہ "ادب کے تخت پر اکثر شہرت نہیں نصیب بیٹھا ہوتا ہے ” ایسے شاعر عوامی زبان اور ذہن میں ہمیشہ آباد  رہتے ہیں ۔یہ عظیم مگر گمنام شاعر بیاض سونی پتی بھی ان میں سے ایک تھا ۔اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ 

احساس   کے  افق  پہ جو    ابھری  کوئی کرن 

میں نے قلم سے شعرکے سانچے میں ڈھال دی 

ہم نے یہ بھی دیکھاہے کہ بڑے بڑے شعراء کی زمینوں پر قصباتی شاعر اپنے خون دل سے ایسے اشعار لکھ گئے کہ دل بے اختیار جھوم اٹھتا ہے ۔مگر جب تحقیق کی جاۓ تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اشعار کسی بہترین مگر "غیر معروف ” شاعر کے تھے ،جن کا نام کسی کتاب کے دیباچے میں بھی درج نہیں ہو پاتا۔یہ المیہ صرف بیاض سونی پتی کا ہی نہیں بلکہ یہ ہمارا قومی رویہ ہے کہ ہم شعر تو یاد رکھتے ہیں مگر شاعر کو یاد نہیں رکھتے ۔آج گھروں میں دیوان یا مجموعہ شاعری نہیں وٹس ایپ اسٹیٹس زیادہ پڑھے جاتے ہیں ۔ادبی قدریں کمزور پڑ یں تو تخلیق کار کی پہچان بھی مٹ جاتی ہے ۔ہمیں ان بے آواز مگر بامعنی قلمکاروں کا حق دوبارہ لوٹانا ہوگا ۔ان کے نام کو سامنے لانا ہو گا ،ان کی تخلیقات کو محفوظ کرنا ہوگا ،ان کے کام اور فن پر گفتگو کرنا ہوگی کیونکہ یہ ادب کا قرض بھی ہے اور قاری کا اخلاقی فرض بھی ہے کہ بیاض سونی پتی کے مکمل سرمایہ ادب کو  دیوان کی صورت شائع کرنے کا اہتمام کیا جاۓ ۔ان کے چند اشعار سے ان کی پوری شاعری کا احاطہ ممکن ہو سکتا ہے ۔ 

کب عطا انسان کو ہوگا بیاضؔ احساس غم 

روح کب پتھر کے اس پیکر میں ڈالی جاے گی 

بیاض سونی پتی جیسے شاعر اس لائق ہیں کہ ان پر تحقیق ہو ،ان کے اشعار جمع کئے جائیں اور انہیں ادبی منظر نامے میں وہ مقام دیا جاۓ جس کے وہ مستحق ہیں ۔کیونکہ اگر ہم نے یہ ذمہ داری نہ نبھائی تو آنے والی نسلیں صرف اشعار کے مزے لیں گی لیکن ان کے خالق ہمیشہ کے لیے گمنام ہو جائیں گے ۔ادب کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ لوگ آپ کے لفظوں کو زندہ رکھیں ۔بیاض سونی پتی  کو یہ انعام ملا ،ان کے اشعار عوام و خواص کے درمیان ضرب المثل بنے لیکن نام کہیں پیچھے رہ گیا ۔آج یہ ذمہ داری نئی نسل پر ہے کہ وہ اپنے ادبی محسنوں کو کیسے یاد رکھتے ہیں ؟گذشتہ روز ایک کوٹ ادو کی ایک طالبہ نے ان کی شخصیت پر تحقیقی مقالہ لکھنے کا آغاز کیا ہے مجھے امید ہے کہ اس کی یہ تحریر بیاض سونی پتی اور ان کی شاعری کو ادبی دنیا کی تاریخ میں امر ضرور کرۓ گی ۔بیاض سونی پتی ایک درویش صفت صوفی  شاعر تھے ۔ان کا صوفیانہ شاعری کا ایک بالکل الگ پہلو بھی ہے جو ابھی تک سامنے نہیں آسکا ۔مجھے امید ہے یہ نوجوان بچی اپنے مقالہ میں اس پہلو کا احاطہ ضرور کرے گی ۔

میں بہر کیف رہا حسن تغزل کا امیں 

رکھنا ہر رنگ میں اردو  کا بھرم میرے بعد 

شعر پڑھ کر یہ سنا دینا اگر آجاۓ 

کوٹ ادو میں کوئی اہل قلم میرے بعد 

شعر تو پتھر پر کندہ نام کی طرح زندہ رہتے ہیں مگر ان پتھروں کو تراشنے والے ہاتھ اکثر وقت کی دھول میں گم ہوجاتے ہیں ۔کاش ہم ان ہاتھوں کو پہچان سکیں اور بیاض سونی پتی جیسے شاعروں کو جان سکیں ۔کیونکہ ایسے تخلیق کار کم یاب  نہیں  نایاب ہوتے ہیں ۔اور نایاب لوگ تاریخ میں پتھروں کے نہیں دلوں کے تاج محل بنایا کرتے ہیں ۔بیاض سونی پتی جیسے شاعر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ادب شہرت سے بڑا ہوتا ہے ۔نام نہ بھی ہو تو تحلیق زندہ رہتی ہے ۔تاج محل واقعی پتھر ہے ۔اصل تاج محل تو وہ احساس لطیف ہے جو شاعر نے اپنے لفظوں سے تعمیر کیا اور جس کا  احساس آج بھی زندہ ہے اور  وہ بھی ان دلوں میں جو شاید شاعر کا نام نہ جانتے ہوں مگر اس کی محبت اور سچائی کو ہر لفظ میں محسوس کرتے ہیں ۔ آج کوٹ ادو کے ایک قبرستان کی کچی قبر پر لگا کتبہ لوگوں کو اپنی جانب ضرور متوجہ کر لیتا ہے ۔جس پر لکھا ہوا ان کا ایک قطعہ  ان کی  شاعری اور ادبی عظمت کا اعتراف اور  اعلان کر رہا ہے ۔ 

ہر چیز پر قادر وہی معبود خدا 

انسان تو مجبور ہے راضی بارضا ہے 

کب جانیے کب اس کو بجھا دۓ کوئی جھونکا 

یہ زیست لرزتا ہوا مٹی کا دیا ہے 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے