#کالم

میاں محمد نواز شریف ۔سیاست، مزاج اور جدوجہد کی داستان

Untitled 1

منشاقاضی حسبِ منشا

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی نام نے اقتدار، آزمائش، عروج و زوال اور عوامی سیاست کے تمام رنگ ایک ساتھ دیکھے ہیں تو وہ نام میاں محمد نواز شریف کا ہے۔ وہ محض تین مرتبہ وزیرِ اعظم رہنے والے سیاست دان ہی نہیں، بلکہ پاکستان کے سیاسی مزاج، ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات، جمہوری کشمکش اور عوامی امنگوں کی ایک مکمل داستان ہیں۔

WhatsApp Image 2025 12 16 at 02.43.19 1

ابتدائی زندگی اور پس منظر

میاں محمد نواز شریف 25 دسمبر 1949ء کو لاہور میں ایک صنعتکار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں محمد شریف مرحوم ، اتفاق فاؤنڈری کے بانی تھے، جنہوں نے صنعت اور محنت کی بنیاد پر اپنا مقام بنایا۔ یہی صنعتی پس منظر نواز شریف کی شخصیت میں عملی ذہن، معاشی ترجیحات اور انتظامی سوچ کی بنیاد بنا۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ خاندانی کاروبار سے وابستہ ہوئے، مگر سیاست کی کشش انہیں جلد ہی اقتدار کے ایوانوں تک لے آئی۔
میاں نواز شریف کا سیاسی سفر جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوا۔ 1981ء میں وہ پنجاب کے وزیرِ خزانہ بنے اور پہلی مرتبہ حکومتی نظم و نسق کا عملی تجربہ حاصل کیا۔ یہ دور ان کی سیاسی تربیت کا زمانہ تھا، جہاں ریاستی ڈھانچے، بیوروکریسی اور طاقت کے مراکز کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔ یہاں سے ان کی شناخت ایک متحرک منتظم، ترقیاتی منصوبوں کے حامی اور کاروبار دوست سیاست دان کے طور پر ابھری۔
1988ء میں جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد جمہوری عمل بحال ہوا۔ نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کی قیادت کی اور بالآخر 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے پہلی مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔
ان کا پہلا دور حکومت معیشت کی نجکاری، صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے خوابوں سے عبارت تھا، مگر صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ اختیارات کی کشمکش نے اس حکومت کو کمزور کر دیا اور 1993ء میں دونوں کو مستعفی ہونا پڑا۔ عبقری دانشور فرماتے ہیں کہ اگر میاں صاحب کی حکومت جاری رہتی تو آج پاکستان کی معاشی زلفِ پریشاں سنور چکی ہوتی ۔
1997ء کے انتخابات میں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ وزیر اعظم بنے۔ یہ ان کے سیاسی عروج کا نقطۂ عروج تھا۔ انہوں نے تیرھویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیارات ختم کیئے اور پارلیمان کی بالادستی کو مضبوط کیا۔
ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ ان کے اسی دور کا سب سے اہم اور تاریخی قدم تھا، جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا، اگرچہ اس کے نتیجے میں عالمی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
تاہم فوجی قیادت کے ساتھ اختلافات، خصوصاً جنرل پرویز مشرف سے ٹکراؤ، 12 اکتوبر 1999ء کے مارشل لا پر منتج ہوا۔ میاں نواز شریف کو گرفتار کیا گیا، مقدمات قائم ہوئے اور بالآخر سعودی عرب جلا وطن کر دیئے گیئے۔
جلا وطنی کے سال نواز شریف کے لیئے خود احتسابی اور سیاسی فکر کے سال تھے۔ 2007ء میں وہ وطن واپس آئے اور جمہوری جدوجہد میں دوبارہ شامل ہوئے۔ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی اور وہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے۔
اس دور میں توانائی بحران پر قابو پانے، موٹرویز، سی پیک اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے شروع کیئے گئے، مگر پانامہ پیپرز کے انکشافات نے ان کی حکومت کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا۔ 2017ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں وہ نااہل قرار پائے۔
نواز شریف کی شخصیت میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ بیک وقت نرم گفتار، خاندانی اقدار کے حامل اور عوامی لہجے کے سیاست دان ہیں، مگر اقتدار میں آ کر مضبوط فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
ان کی سیاست کا مرکز معاشی ترقی، کاروبار دوستی اور انفراسٹرکچر رہا ہے۔ ناقدین انہیں اسٹیٹس کو کا نمائندہ کہتے ہیں، جبکہ حامی انہیں ترقی، استحکام اور جمہوری تسلسل کی علامت سمجھتے ہیں۔
نواز شریف کی سیاسی جدوجہد دراصل پاکستان میں جمہوریت اور طاقت کے مراکز کے درمیان مسلسل کشمکش کی کہانی ہے۔ وہ تین بار اقتدار میں آئے، تین بار اقتدار سے نکالے گئے، مگر ہر بار سیاست میں واپس لوٹے۔
ان کی سب سے بڑی سیاسی وراثت مسلم لیگ (ن) کی صورت میں ایک مضبوط جماعت، اور ایک ایسی سیاسی داستان ہے جس میں شکست بھی ہے، استقامت بھی، اور اقتدار کی ناپائیداری کا گہرا شعور بھی۔
میاں نواز شریف کی زندگی اور سیاست پاکستان کی تاریخ کا ایک مکمل باب ہے—جس میں اقتدار کے ایوانوں کی چمک بھی ہے اور جلا وطنی کی تلخی بھی۔ وہ آج بھی پاکستانی سیاست میں ایک موثر اور معنی خیز کردار سمجھے جاتے ہیں۔
ان کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سیاست محض اقتدار کا نام نہیں، بلکہ صبر، مزاحمت اور وقت کے ساتھ بدلتے فیصلوں کا امتحان بھی ہے۔ میاں محمد نواز شریف اعلیٰ خاندانی روایات کے پاسدار ہیں ۔ رشتوں کو نبھانا انہیں آتا ہے دوستوں کے وہ دوست ہیں ۔ اپنے والدِ گرامی میاں محمد شریف کے ارشاداتِ گرامی پر ہمیشہ عمل پیرا رہے ہیں ۔۔

بیکا باں اصیل دی بھولے سے چھو جائے

خود نبھائے عمر بھر اور بیٹوں سے کہہ جائے

میاں محمد نواز شریف ۔سیاست، مزاج اور جدوجہد کی داستان

تاج محل پتھرہے ؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے