#کالم

کالم۔ قالو بلی کی کہانی

Untitled 11

تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق


جب انسان کسی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے تو آسمان سے زمین پر گرا دیا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات تو آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جاتا ہے ایسی صورتحال میں اس کے پاس ایک آپشن تو یہ بھی ہے کہ وہ کھجور پر بیٹھ کر مزے سے کھجوریں کھائے لیکن کھجور پر بیٹھنا اور چیز ہے اور اٹکنا بالکل ہی مختلف تجربہ ہے۔ یا راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے۔ کھجور والی بات محاورے کی حد تک تو درست ہے باقی تو کپڑے لیرو لیر کروانے والی بات ہے۔ ہمارے جد امجد آدم علیہ السلام آسمان سے سیدھے زمین پر آکر زمین زاد کہلائے اللہ تعالی نے ان کو ہاتھ اور پاوں دیئے تھے۔ انہوں نے خوب ہاتھ پاوں مارے اور پھر اپنی ایک نئی دنیا آباد کر لی۔ ابن آدم اور حوا کی بیٹی نے اس تسلسل کو آگے بڑھایا اور پھر تو انسان اس کرہ ارض پر سب پر حاوی ہوگیا۔ اس دوران اس نے یقینا کچھ غلطیاں بھی کی ہیں لیکن غلطیوں سے متواتر سبق بھی حاصل کرتا رہا۔ جمع تفریق اور ضرب تقسیم کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ حاصل کرتا رہا۔ کبھی زیرو ہوا تو کبھی ہیرو بن گیا۔ زیرو کی بھی ایک ویلیو ہوتی ہے اس بات کا بھی اس کو ادراک ہوا اس لئے اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری تاہم کبھی کبھی تساہل اور تغافل کا بھی شکار ہوتا رہا یوں زیرو سے ہیرو اور پھر ہیرو سے زیرو۔ چل سو چل۔ چلنے پھرنے والے متحرک ہوتے ہیں اور متحرک افراد ہی تحریک پیدا کرتے ہیں تحریک سے کھڑے پانی چلنا شروع ہو جاتے ہیں اور رکنے اور چلنے سے پانی کی ہیئت مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اٹک جانے والے لٹک جاتے ہیں اور جن کی سوئی اٹک جاتی ہے وہ تو پھر بند گلی میں بھی جا سکتے ہیں اور وہاں جا کر ٹکریں ہی ٹکریں۔ ٹکر مارنے سے اگلے کا کچھ ہو نہ ہو اپنا سر لازمی طور پر پھوڑا جا سکتا ہے اور اگر سر پر سینگ ہوں تو نقصان کا تخمینہ لگانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ انسان اور آسان ہم قافیہ ہو سکتے ہیں ہاں البتہ ان دونوں میں مماثلت کا کوئی امکان نہیں۔ یہ بات انسان آسانی سے سمجھتا بھی نہیں ہے۔ اور اگر سمجھ جائے تو اس کا کام آسان ہو جاتا ہے اور زندگی بہت ہی سہل مگر برق رفتار ۔ زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے اور ہم سب کو اس کے ساتھ چلنا ہے یہی ہم کو عرش سے فرش پر اتارنے والے کا بظاہر مقصد نظر آتا ہے اور اس مقصدیت میں ہم سب گوشت پوست کے انسان ہم مسلک و ہم مشرب ہیں۔ اس ساری دوڑ میں ہر کسی کا ایک اپنا ڈومین ہے اور ہر کسی نے اپنا اپنا زور مارنا ہے۔ ہم ہیں کہ کبھی کبھار ساتھ دوڑنے والے کو ڈھاک مار کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں تصادم اور خون خرابہ۔ خون کی بہت ہی بڑی اہمیت ہے اور خون کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے قیمت ادا کرکے خرید کی گئی چیز کی اہمیت اور ہوتی ہے اور دھر کی جانے والی چیز راستے کاروڑا بن جاتی ہے اور روڑا سر پھوڑنے کا باعث بنتا ہے اور سر پھوڑنے سے پھر وہی خون خرابہ اور خرابے کا حاصل کیا ہو سکتا ہے دیکھا دیکھی انسان ایک دوسرے کا دشمن بن رہا ہے اور اس کا دشمن شیطان ایک طرف کھڑا یہ سارا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ انسان اور شیطان کا مقابلہ ہے اور یہ کوئی مقابلہ حسن نہیں ہے اور نہ ہی اکھاڑا ہے۔ دانائی یہ ہے کہ اپنے دشمنوں کی صفوں میں انتشار پھیلا دیا جائے یعنی ان سب کو اپنی پڑجائے اور آپ کا مقصد بغیر کچھ کئے پورا ہو جائے۔ اس موقعہ کے لئے ہی تو خالق نے فرمایا تھا یقینا انسان خسارے میں ہے۔ اس بات کا انسان کو کب معلوم ہو گا جب اس کا شدید نقصان ہو جائے گا۔ نقصان تو ہو چکا ہے۔ فلسطین میں آگ ہی آگ۔ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ امریکہ بہادر نے افغانستان میں کیا کچھ نہیں کیا ہے اور اب افغان پاکستان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ہندوستان پاکستان کو ہڑپ کرنے کے چکر میں پورا چکرا چکا ہے اور اپنےاس مقصد کی تکمیل کے لئے کوئی بھی گھٹیا حرکت کر سکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کی سرد بلکہ سرد گرم جنگ چلتی رہتی ہے اور اسرائیل اور امریکہ مل کر ایران اور پاکستان کو عبرت کا نشان بنانا چاہتے ہیں۔ چین دھیرے دھیرے اور نیویں نیویں پوری دنیا تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور ترک اپنے تابناک ماضی کا مسلسل رونا رو رہے ہیں تاہم ان سے کچھ ہو نہیں پا رہا ہے۔ ویسے گھر گھر رولے ہی رولے۔ جمہور کی زبان اور اس میں بھی پندرہ سو بولیاں ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول کر صورتحال کو مزید خراب کرنے کے چکر میں ہے حالانکہ ہم سب اقتدار کے چکر میں ہیں اور ایک دوسرے پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم لیڈر بننے کے بھی متمنی ہیں اور لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کے بھی خواہاں ہیں۔ ہم سب نے تو خیر سوچنا ہی بند کردیا ہے کیونکہ ہم سارے گول گپوں سے متاثر ہو گئے ہیں۔ ہم گول مٹول بھی بن گئے ہیں اور گپیں ہانکنا ہم سب کا معمول۔ہم سب کی سوچ کے دائرے متذکرہ بالا صورتحال کے سانچے میں ڈھل گئے ہیں اور مجموعی طور پر ہم سب ایک ہی سوچ کے مریض بن چکے ہیں اور اس سوچ کا نام مار دھاڑ ہے۔ صوفیاء نے لوگوں پر حکمرانی کرنے کی بجائے دلوں پر حکمرانی کرنے کا ہم سب کو گر سکھایا تھا افسوس کہ ان کے مقلدین ان کے دیئے ہوئے سبق کو بھول گئے ہیں اور ان کا کام بھی قصے کہانیوں سے چل رہا ہے اور کافی حد تک وہ بھی مار دھاڑ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ منظر بلاشبہ خوفناک ہے ۔ آنکھیں بند کر لینا اس لئے ممکن نہیں ہے

کالم۔ قالو بلی کی کہانی

مصلحت سے عزم تک

کالم۔ قالو بلی کی کہانی

بات کہنے کی نہیں؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے