مصلحت سے عزم تک
ڈیرے دار
سہیل بشیر منج
گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا رنگین منظر قومی بیانیے کے کینوس پر ایک اور گہری لکیر کھینچ گیا جہاں ایک طرف اندرونی سلامتی کے درپیش خطرات کی ٹھوس حقیقتیں بیان ہوئیں تو دوسری طرف ایک ایسے سیاسی بیانیے کو ہدف بنایا گیا جو قومی یکجہتی کے لیے زہر قاتل ہے ترجمان پاک فوج کا لہجہ نہ صرف ذمہ دارانہ تھا بلکہ اس میں ایک واضح اور غیر مبہم پیغام بھی مضمر تھا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کسی بھی لچک کی گنجائش نہیں اور عسکری قیادت اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملک و قوم کے دفاع کا فریضہ ہر قیمت پر انجام دیتی رہے گی یہ بریفنگ دراصل ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان غلط فہمیوں کے پردے چاک کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی جس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ مسلح افواج کسی خاص سیاسی ایجنڈے کی بجائے صرف اور صرف پاکستان اور اس کے چوبیس کروڑ عوام کی محافظ ہیں اس پرزور بیان نے بلاشبہ قومی منظر نامے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کی بازگشت آنے والے دنوں میں سیاسی و ابلاغی حلقوں میں سنائی دیتی رہے گی
موجودہ سیاسی افق پر پاکستان تحریک انصاف کا سفر کسی المیاتی ڈرامے سے کم نہیں رہا جہاں پارٹی کا بنیادی ڈھانچہ متزلزل ہوا اور ‘نظریاتی کارکن’ کا تصور پُر اسرار ‘نئی پی ٹی آئی’ کے سامنے دم توڑتا نظر آیا یہ وہ جماعت ہے جو تبدیلی کا نعرہ لے کر نکلی تھی مگر آج اس کے کئی اہم ستون کرسی اور مفادات کی ہوا کے جھونکوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ کرتے ہوئے نئی صف بندی اختیار کر لی یہ تقسیم اور دراڑ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ تحریک انصاف محض ایک نظریاتی تحریک نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسے گروہ میں بدل گئی ہے جن کا مقصد قوم کی مجموعی روایات ،تہذیب و تمدن ،اخلاقیات ،نئی نسل کے دماغوں میں زہر انڈیلنا، نفرت برائے نفرت،عدم برداشت ،خود پسندی کی انتہا ،میں نہ مانوں کی روایت ،اور اپنے ملک اور فوج سے نفرت شامل ہے جہاں قیادت کی گرفت کمزور ہوتے ہی مصلحت پسند عناصر نے اپنے سیاسی وزن کو محفوظ بنانے کی خاطر الگ ٹھکانے ڈھونڈ لیے یہ نئی طرز کی سیاست درحقیقت پاکستان کی نظریاتی سیاست پر ایک بدنما داغ ہے جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہمارے سیاسی کارکنان کا نصب العین صرف اقتدار ہے یا وہ واقعی عوامی فلاح کے لیے کسی نظریے سے جڑے ہوئے ہیں
ریاست جو کہ ایک اجتماعی وجود اور قوم کے مشترکہ مستقبل کی ضامن ہوتی ہے کے خلاف سازش کا ہر تانا بانا درحقیقت اپنی جڑوں کو خود کاٹنے کے مترادف ہے ایسے عناصر جو ذاتی اغراض سیاسی عناد یا بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک کے بنیادی ڈھانچے سالمیت اور داخلی استحکام پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں واضح اور غیر مبہم الفاظ میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان کی یہ مذموم حرکتیں کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں یہ وطن کسی ایک فرد یا گروہ کی ملکیت نہیں بلکہ ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا ثمر ہے اور اس کی حفاظت ہر شہری پر لازم ہے لہٰذا جو بھی شخص ملک میں انتشار نفرت اور بدامنی کا بیج بو کر قومی یکجہتی کی دیوار کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا اسے قانون کے آہنی شکنجے کا سامنا کرنا پڑے گا یہ تنبیہ صرف ایک رسمی اعلامیہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں کا پختہ عزم ہے کہ وہ کسی بھی داخلی یا خارجی خطرے کو ملک کی امن و امان اور ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے ریاست اپنی بقاء اور استحکام کے دفاع کا حق پوری قوت اور صلاحیت کے ساتھ استعمال کرے گی
یہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ کبھی سیاست دانوں کے کہنے پر اپنے ملک اور ریاست کے خلاف کھڑے نہ ہوں جب آپ پر مصیبت آئے گی تو یہ بھاگ جائیں گے اگر نہیں یقین تو نو مئی کہ ان کرداروں کو دیکھ لیں جنہوں نے لیڈروں کے کہنے پر ملک میں پرتشدد کاروائیاں کیں اور بعد میں لیڈروں نے انہیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیا آج وہ جیلوں میں اپنے کیے کی سزائیں بھگت رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ دربدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ریاست کے مجموعی موڈ مزاج کو ایک ایسی کھلی کتاب کی طرح واضح کرتی ہے جس میں جذباتیت کی بجائے ٹھوس عزم اور غیر لچکدار پالیسی کا عکس نمایاں تھا یہ بریفنگ دراصل ریاست کی جانب سے "حدیں متعین” کرنے کا ایک سخت اور واضح پیغام تھا جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ
ریاست کا مزاج اب مصالحتی یا مبہم نہیں رہا بلکہ یہ ناگزیر فیصلوں اور قومی سلامتی کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کا عکاس ہے اس پریس بریفنگ میں
پیغام یہ تھا کہ ریاستی سالمیت اور تنظیمی نظم و ضبط پر حملہ کرنے والی کسی بھی قوت خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی کے خلاف سخت گیر رویہ اختیار کیا جائے گا اس میں نرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے
ریاست کو اپنی نظریاتی سرحدوں اور عسکری نظم کو درپیش موجودہ سیاسی و ابلاغی چیلنجز پر گہری تشویش ہے اور اس بریفنگ کا مقصد ان چیلنجز کے خلاف ایک سخت حصار قائم کرنا تھا
یہ پریس کانفرنس محض ایک روایتی ابلاغی مشق نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسے ریاستی مزاج کی عکاسی کرتی ہے جو اب مزید اُلجھن اور لچک کا متحمل نہیں ہو سکتا یہ دراصل ایک تاریخی موڑ کا اعلان ہے جہاں قومی سلامتی کے محافظوں نے اپنے بیانیے میں کسی بھی قسم کی ابہام کی گنجائش ختم کر دی ہے ان کے الفاظ میں جو سنجیدگی اور قطعیت تھی وہ اس بات کا دوٹوک ثبوت ہے کہ ریاست اب حفاظتی موڈ سے نکل کر فیصلہ کن کارروائی کے موڈ میں داخل ہو چکی ہے یہ بیان قومی سیاست کے میدان میں کھیل کے قواعد کو ازسرِ نو واضح کرتا






