عنوان: اگر دولت رحم بن جائے “کوئینز مرسی” ایک علامتی خواب
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
گزشتہ دنوں میری نظر سے ایک علامتی کہانی گزری۔ یہ نہ کوئی خبر تھی نہ کسی سرکاری اعلان کا حصہ، بلکہ ایک فکری تصور تھا جو دنیا میں گردش کرتا ہوا میرے قلم تک آن پہنچا۔ اس کہانی نے مجھے چونکا دیا اس لیے نہیں کہ اس میں دولت کا ذکر تھا، بلکہ اس لیے کہ اس میں دولت کو رحم میں ڈھلتے دکھایا گیا تھا۔ اسی تاثر نے مجھے یہ کالم لکھنے پر آمادہ کیا۔
کہانی یوں تھی کہ دنیا کی چکاچوند ایک لمحے کو مدھم پڑ جاتی ہے۔ سرخیوں میں شیئر مارکیٹ نہیں انسان آ جاتے ہیں۔ کیمروں کا رخ ایوارڈ شوز سے ہٹ کر فٹ پاتھوں کی طرف مڑ جاتا ہے، جہاں سرد راتوں میں بے گھری اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ ایسے میں ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت کا تصور ابھرتا ہے، جس نے کامیابی کے ہر معیار کو چھو لیا، مگر اس کے دل میں ایک سوال باقی رہ گیا کیا سب کچھ پا لینے کے بعد بھی انسان کچھ قرض دار نہیں رہتا۔
اسی سوال کے جواب میں ایک خواب نما تصور جنم لیتا ہے“کوئینز مرسی”۔ ایک ایسا طبی شہر جہاں داخلے کے لیے شناخت نہیں، تکلیف کافی ہے۔ جہاں مریض سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کون ہے، بلکہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ اسے درد کہاں ہے۔ بارہ سو بستروں پر مشتمل یہ اسپتال عمارتوں سے زیادہ نیت کا مظہر ہے۔ یہاں علاج مفت ہے، مگر عزت انمول۔
اس تصور میں افتتاح کسی ربن سے نہیں ہوتا۔ پہلا مریض کوئی وی آئی پی نہیں، بلکہ ایک بے ہوش سابق فوجی ہےوہ جسے ریاست نے سلام تو کیا مگر زندگی کے کٹھن موڑ پر تنہا چھوڑ دیا۔ کسی نرس کے ہاتھ کا لمس اسے بتاتا ہے کہ وہ اب بھی انسان ہے، فائل نمبر نہیں۔ اسی لمحے یہ کہانی محض ایک فرد کی سخاوت نہیں رہتی بلکہ ہمارے اجتماعی نظام پر ایک سوال بن جاتی ہے۔
اسی اسپتال کے صحن میں ایک بچی ہاتھ میں تختی اٹھائے کھڑی ہے:
“امی اپ جانیں بچاتی ہیں۔”
یہ جملہ دیر تک دل میں گونجتا رہتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں مقابلہ یا ہمدردی شہرت یا خدمت جب کامیابی کا آخری مفہوم انسان بچانا بن جائے تو نسلیں بدلتی ہیں رجحانات بدلتے ہیں اور معاشرے نئی سمت اختیار کرتے ہیں۔
اس کہانی کا ایک نمایاں پہلو اس کی خاموشی ہے۔ نہ پریس کانفرنسیں، نہ سوشل میڈیا مہمات، نہ خود ستائشی جملے۔ بس ایک لفظ—خاموشی۔ وہ خاموشی جو چیخ چیخ کر سوال کرتی ہے کہ کیا ہماری نیکیاں بھی شور کی محتاج ہو چکی ہیں کیا ہم خیر کو اشتہار بنائے بغیر انجام نہیں دے سکتے
یہ علامتی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل انقلاب قانون سازی سے پہلے نیت میں آتا ہے۔ جب تک ہم بے گھری اور بیماری کو محض ایک “مسئلہ” سمجھتے رہیں گے حل ادھورا رہے گا۔ ہمیں اسے ذمہ داری ماننا ہوگا۔ ریاستوں کو پالیسیاں درکار ہیں، شہروں کو وسائل مگر معاشروں کو رحم۔ اور رحم کوئی بجٹ لائن نہیں یہ ایک اخلاقی فیصلہ ہے۔
“کوئینز مرسی” کا پتہ بھی محض اتفاق نہیں
1 کورٹ سرینا وے۔
کورٹ جہاں انصاف ہونا چاہیے۔
وے
جہاں راستہ بنتا ہے۔
اگر انصاف راستہ بن جائے تو شہر بدل جاتے ہیں۔ اگر عدل علاج بن جائے تو زندگیاں بچ جاتی ہیں۔
یہ کہانی ہمیں اس غلط فہمی سے بھی نکالتی ہے کہ انفرادی فلاح ہی نظامی حل ہے۔ ایک فرد چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ریاست کا متبادل نہیں بن سکتا۔ مگر ایک فرد ضمیر ضرور جگا سکتا ہے۔ وہ ہمیں مجبور کر سکتا ہے کہ ہم اپنے بجٹ اپنی ترجیحات اور اپنی اجتماعی بے حسی پر نظرِ ثانی کریں۔
یہ تصور ہمیں بتاتا ہے کہ صحت صرف علاج نہیں عزت ہے۔ جب مریض کو قطار میں کھڑا کر کے اس کی انسانیت چھین لی جائے تو ہم نے شفا نہیں توہین بانٹی ہے۔ “کوئینز مرسی” اسی توہین کے خلاف ایک اخلاقی احتجاج ہےخاموش مگر مضبوط۔
آخر میں یہ کالم کسی ایک علامتی خواب کی تحسین نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کبھی نہ کبھی مریض بنتا ہے یا کسی مریض کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، مگر ہمارے ہسپتالوں میں آج سب سے کمیاب شے دوا نہیں احترام ہے۔ عوام کی بے صبری، عملے کی تھکن، اور نظام کی بے حسی یہ سب مل کر مریض کو بیماری سے پہلے شکست دے دیتے ہیں۔ ہم قطار میں کھڑے انسان کو انسان نہیں، بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔
ریاستی سطح پر صحت کو اب بھی ایک انتظامی مسئلہ سمجھا جاتا ہے انسانی ذمہ داری نہیں۔ بجٹ میں اعداد و شمار تو بڑھتے ہیں مگر وارڈ میں عزت گھٹتی جا رہی ہے۔ حکومتیں منصوبے بناتی ہیں، اعلانات کرتی ہیں، مگر مریض آج بھی سفارش، پہچان اور رسائی کے بغیر دروازوں پر رُلتا ہے۔ صحت کوئی رعایت نہیں ایک بنیادی حق ہےاور حق فائلوں میں نہیں رویّوں میں ادا ہوتا ہے۔
مگر یہ سچ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم سب اس نظام کا حصہ ہیں۔ صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا کر ہم خود کو بری الذمہ نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر کو گالی، نرس کو حقارت اور کمزور مریض کو دھکا یہ سب بھی اسی اجتماعی زوال کی علامت ہیں۔ “کوئینز مرسی” ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شفا کا پہلا مرحلہ دوا نہیں، رویّہ ہوتا ہے۔
اگر یہ علامتی کہانی ہمیں ایک قدم بھی آگے بڑھا دےایک عطیہ، ایک پالیسی، ایک رضاکارانہ گھنٹہ، یا محض ایک نرم جملہ تو یہ تحریر اپنا مقصد پا لیتی ہے۔ کیونکہ اصل تبدیلی کسی ایک عظیم شخصیت سے نہیں آتی۔ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب ریاست ذمہ داری لے، اور عوام انسانیت۔
آخر میں سوال اب بھی وہی ہے مگر اب یہ سوال ہم سب سے مخاطب ہے
کیا ہم صرف بیماریوں کا علاج چاہتے ہیں
یا
ہم انسانوں کو بھی بچانا چاہتے ہیں؟






