بات کہنے کی نہیں؟
جمع تفریق۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات سے بات نکلتی ہے تو بہت دور تک پہنچتی ہے لیکن آ دم زادے اگر منصب اور طاقتور ہوں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں حالانکہ جانتے سب ہی ہیں کہ سدا بادشاہت مالک کائنات کی ہے جسے زوال نہیں ،جانتے ہیں کہ ہم اس کے بندے ہیں ہماری کوئی اوقات نہیں، پھر بھی کھمنڈ جینےنہیں دیتا ،ذرا سی گردن گھمائیں تو ایک آ مر مطلق من مرضی میں منتخب وزیراعظم کو پھانسی دیتا اور آ ئین کو بالائے طاق رکھ کر انسانی حقوق پامال کرتا دکھائی دے گا اس نے آ زادی اظہار پر بھی قدغن لگائی ،اسلام اور جہاد افغانستان پر واعظ فرمایا ،12 سال مملکت پاکستان پر حکومت کی اور غلط منصوبہ بندی سے مملکت کو دہشت گردی کا تحفہ ہی نہیں ،منشیات و ناجائز اسلحہ برداری کا فن بھی سکھایا ،معاشرے میں گروہ بندی سے اپنے حمایتی پیدا کئے، قلم کی حرمت کو سر بازار نیلام کیا ،صحافیوں کو آ واز میں آ واز نہ ملانے پر کوڑے مارے گئے ،پھر کیا ہوا ؟ات خدا دا ویر،، زمین سے فضا میں بلند ہوا تو ضیا ۔۔ زمین پر واپس آ یا تو محض راکھ کا ڈھیر تھا تاریخ لکھی گئی کہ آ مریت نے ملک و ملت کو نقصان پہنچایا لیکن کیا کسی نے کچھ سیکھا؟ ہرگز نہیں، چند سال لنگڑی لولی جمہوریت چلی، پھر ایک طاقتور نے منتخب وزیراعظم کو اٹک جیل پہنچا دیا قوم سہم گئی پھر بھی کچھ نے سہولت کاری کی اور جمہوریت کے نام پر مختلف تجربات کیے گئے، اچھے برے کام بھی ہوئے ،مصلحت پسندی آ ڑے آ ئی، سیاسی موسم میں انگڑائی لی تو حالات بھی بدلے، جمہوریت کی بحالی کا راستہ بھی نکلا، زبردستی کے صدر کو ٫٫فیس سیونگ،، بھی دی گئی بلکہ گارڈ آ ف آ نر دے کر رخصت بھی کیا گیا جمہوری جدوجہد کی دعویدار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے قائدین اس بات کا کریڈٹ لیتے ہیں کہ ہم نے مفاہمتی سیاست سے ایک آ مر سے جان بھی چھڑائی اور جمہوریت بھی بحال کی یقینا صدر زرداری کی حکمت عملی سے پہلی مرتبہ کسی منتخب حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کئے، یہ الگ بات ہے کہ اسے اپنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ناجائز قربانی دینی پڑی، دوسرا اقتدار مسلم لیگ ن کو ملا تو وہ بھی طاقتوروں کے ایک خاص گروہ کو پسند نہیں آ یا ایسا آ نکھ میں٫٫ ریڑکا،، کہ انہیں بھی بذریعہ عدالت پانامہ سکینڈل کے حوالے سے٫٫ اقامہ،، دریافت کر کے اقتدار چھین لیا گیا کچھ سیانے کہتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کیسے وزیراعظم بنتے ہیں؟ ان کی قسمت نےزور مارا اور پس پردہ طاقتوں کی سازشیں کامیاب ہو گئیں کیونکہ وہ اس سوچ پر کاربند تھے کہ دونوں بڑی پارٹیوں کی باریاں ختم کر کے تیسری طاقت کو سامنے لا کر ٫٫بیلنس،، کیا جائے، کھچڑی پکتے پکتے 2024 آ یا ،دھرنا تحریک نے بہت کچھ قوم کو دکھایا لیکن ذمہ داروں نے اناڑی کو سیاسی کھلاڑی بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا لہذا منصوبہ سازوں نے دلجمی سے کام کیا ،بہت سے گھر بھی گئے تاہم سیاسی افق پر پوری آ ب و تاب سے کھلاڑی لایا گیا لہذا 2018 میں تیسری طاقت ابھری بلکہ ابھاری گئی اور اسے تخت نشین بھی کر دیا گیا، سرپرستوں نے اعلان بھی کرا دیا کہ سیاست اور سیاستدان گئے چھٹی پر، تبدیلی آ چکی ہے چور اور ڈاکوؤں کا ٫٫کڑا احتساب،، ہوگا ریاست مدینہ کا انصاف ملے گا، بے گھروں کو گھر اور بے روزگاروں کو لاکھوں نوکریاں بھی دی جائیں گی، بس گھبرانا نہیں ہے، منتخب حکومت کا آ ئینی اقتدار پانچ سالہ تھا لیکن جو بات کہنے کی نہیں تھی وہ باور کرائی گئی کہ اب یہی نظام چلے گا، عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے اس لیے ماضی کے حکمران اقتدار کو بھول جائیں، اس مرتبہ مرشد، اگلی مرتبہ مرشد اور اس کے بعد بھی مرشد۔۔۔ چیف آ ف آ رمی سٹاف قوم کا باپ ہوتا ہے اب اگر کسی نے باپ کے خلاف گستاخی کی تو اس سے بھی نمٹا جائے گا اسی دوران بہت سے اہم فیصلے ہوئے، جنرل باجوہ ہی مان نہیں تھے ان کے ساتھ جنرل فیض حمید کا ٹانکا ایسا فٹ ہوا کہ مت پوچھیں ۔۔۔ان کا بھی طاقتوری اور منصب کے نشے میں یہی خیال تھا کہ ہم تو ہم ہیں ہمیں کون پوچھے گا ؟پھر دوران سروس ہی نہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی طاقت اور خوش فہمی نے انہیں کنارہ کش نہ ہونے دیا اور اب نتائج سامنے ہیں
بظاہر چار الزام اور 14 سال قید با مشقت لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی، الزامات ابھی اور بھی ہیں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ 9. مئی تھا اس کے ذمہ دار بھی وہی ہیں جی ۔ایچ۔ کیو سمیت دیگر اہم اداروں پر حملوں کی منصوبہ سازی بھی بقول شخصے وھی کرتے تھے پاکستان کے منظم ترین ادارے نے احتسابی عمل اپنے اندر سے شروع کیا ابھی تک تفصیلات اور اعداد و شمار منظر عام پر نہیں آ ئے، اس لیے کہ بات کہنے کی نہیں، کتنی عجیب بات ہے کہ چند منصوبہ سازوں نے اپنے ہی گھر کو فتح کرنے کی ٹھان لی تھی، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کی اکثریت سزا پا چکی ہے لیکن ابھی بہت سے سزا کے انتظار میں ہیں کیونکہ ادارے نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ معافی کی گنجائش نہیں، برصغیر کی تاریخ میں سزا کے حوالے سے فیض حمید ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے کیونکہ پہلی سزا ھی انہیں نشان عبرت بنانے کے لیے کافی ہے ،ملٹری کورٹ کی سخت ترین سزا کا مطلب بھی یہی ہے کہ دیکھو۔۔۔ ایک اہم خوبصورت اور باصلاحیت جنرل نے آ رمی ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاست میں مداخلت کی کوشش کی تو حالات اور واقعات نے اسے کیسے شکنجے میں دبوچا۔۔۔ پیغام سب کو دے دیا گیا ہے کہ اگر اس قدر اہمیت کی شخصیت قانون اور آ ئین کے قابو آ سکتی ہے تو بچت اب ہی نہیں ، آ ئندہ بھی کسی کی نہیں ہوگی، ذرا سوچیں۔۔۔ ابھی ابتدا ہے






