شہرت، ڈکی بھائی اور ہمارا اجتماعی رویہ
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
آخر ہم کس کو اپنا ہیرو بناتے ہیں، کیوں بناتے ہیں اور کن بنیادوں پر بناتے ہیں۔ کیا شہرت واقعی عزت کی سند ہوتی ہے یا یہ صرف ہجوم کی عارضی پسند ہوتی ہے۔ انہی سوالوں کے بطن سے ڈکی بھائی اور ہمارے اجتماعی ضمیر کی کہانی جنم لیتی ہے۔
یہ جو آپ کو اسٹار بننے کا شوق ہے، یہ جو مشہور ہونے کی طلب ہے اس کے پیچھے چھپی قیمت کا اندازہ شاید بہت کم لوگ لگا پاتے ہیں۔ دعا تو یہی ہونی چاہیے کہ اللہ انسان کو آزمائش میں نہ ڈالے کیونکہ شہرت بھی ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ آج جو لوگ اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ کل یہی شہرت انہیں ایک عام انسان بننے کو ترسا دے گی۔ سوشل میڈیا نے شہرت کو اتنا سستا کر دیا ہے کہ ہر دوسرا شخص وائرل ہونا چاہتا ہے چاہے اس کی قیمت کردار، اخلاق اور سچائی ہی کیوں نہ ہو۔
سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی اسی سوشل میڈیا کلچر کی ایک علامت ہے۔ ایک نوجوان جس نے گیمنگ ویڈیوز اور طنزیہ کمنٹری سے سفر شروع کیا دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نوجوانوں کا آئیڈیل بن گیا۔ اس کے انداز پر ہنسا گیا اس کی نقل اتاری گئی، اس کی زبان اپنائی گئی اور اس کے رویے کو اسٹائل بنا دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ وہ مشہور کیوں ہوا اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے کیوں مشہور کیا۔ ہم نے بطورِ معاشرہ کس چیز کو قابلِ تقلید سمجھا۔
یہ کہنا بھی حقیقت سے قریب تر ہے کہ سوشل میڈیا کا یہ کھیل صرف تفریح تک محدود نہیں رہتا، یہ ذہن سازی بھی کرتا ہے۔ جب ایک بچہ روزانہ گالی، تضحیک، تماشا اور تیز زبان کو کامیابی کے ساتھ جڑا دیکھتا ہے تو اس کے لیے شائستگی فرسودہ اور بدتمیزی جدید بن جاتی ہے۔ بہت سے بچے بگڑے، بہت سی زبانیں زہر آلود ہوئیں، بہت سا شعور سطحی ہو کر رہ گیا۔ ان سب کا حساب تو ہر فرد کو اپنے رب کے سامنے دینا ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ یہی ڈکی بھائی بعد میں کرپٹ نظام کے سامنے کھڑا بھی دکھائی دیا۔ ایف آئی اے، یوٹیوبرز کی گرفتاری، بلیک میلنگ کے اسکینڈلز اور سوشل میڈیا مافیا کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہیں تھا۔ یہاں دوست بھی پیٹھ پیچھے مخبر ہوتے ہیں، یہاں مسکراہٹ کے پیچھے حسد اور تعریف کے پیچھے سازش چھپی ہوتی ہے۔ یہاں لوگ بکتے ہیں ضمیر نیلام ہوتے ہیں اور سچ اکثر تنہا رہ جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص طاقتور نظام کے سامنے ڈٹ جائے تو کم از کم اتنی داد ضرور بنتی ہے کہ وہ خاموش نہیں رہا۔
لیکن کیا اتنا کافی ہے۔ کیا ایک موقع پر سچ بول دینا ایک مرحلے پر مزاحمت کر دینا انسان کے پورے ماضی کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر مشہور چہرے کے ساتھ ہمیں بھی اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ کیونکہ شہرت صرف ایک فرد کی نہیں ہوتی وہ ایک نسل کی تربیت بھی کرتی ہے۔ جب لاکھوں لوگ آپ کو دیکھ رہے ہوں تو آپ صرف آپ نہیں رہتے، آپ ایک رجحان، ایک رویہ اور ایک سمت بن جاتے ہیں۔
ڈکی بھائی کا معاملہ دراصل ہمارے اجتماعی تضاد کی کہانی ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو سر پر بھی بٹھاتے ہیں اور وقت آنے پر پتھر بھی ہم ہی مارتے ہیں۔ ہم پہلے وائرل کرتے ہیں، پھر خود ہی عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں۔ ہم خود ہی ہیرو بناتے ہیں اور خود ہی ولن۔ یہی تضاد ہماری سوشل میڈیا کلچر کی روح میں شامل ہو چکا ہے۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ ہر کوئی ڈکی نہیں ہو سکتا۔ بہت سے لوگ اسی راستے پر چلتے ہوئے گم ہو گئے، ان کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ کچھ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے، کچھ نشے میں ڈوب گئے کچھ خود سے ہار گئے۔ شہرت کا راستہ پھولوں کا بستر نہیں، یہ کانٹوں کی ایسی سیج ہے جس پر نیند نہیں، صرف اضطراب ملتا ہے۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خوف ہوتا ہے، ہر پوسٹ کے پیچھے ایک دباؤ اور ہر تعریف کے پیچھے ایک انجانا عدم تحفظ۔
اصل مسئلہ ڈکی بھائی یا کسی ایک یوٹیوبر کا نہیں اصل مسئلہ وہ نظام ہے جو شور کو فروغ دیتا ہے اور سناٹے کو دفن کر دیتا ہے۔ جو گالی کو ویوز دیتا ہے اور علم کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ جو تماشے کو ٹرینڈ بناتا ہے اور فکر کو بوجھ سمجھتا ہے۔ یہی وہ کرپٹ سسٹم ہے جس کے خلاف بات کرنا صرف ایک فرد کی نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
یہاں ہر شخص میں، میں، میں کے خول میں بند ہے۔ ہر کوئی خود کو برتر، خود کو اہم اور خود کو حق پر سمجھتا ہے۔ دوسرے کی کامیابی کانٹے کی طرح چبھتی ہے، دوسرے کی تعریف زہر کی طرح لگتی ہے اور دوسرے کا عروج اپنی شکست محسوس ہوتا ہے۔ یہی حسد، یہی جلن، یہی اندرونی کھوکھلا پن ہمارے رویوں کو زہریلا بنا رہا ہے۔ ہم دوسروں کو گرانے میں اتنے سرگرم ہیں کہ خود کو اٹھانے کا ہنر بھول چکے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ انسان اگر اپنے اندر کے سچ کو مثبت راستے سے باہر آنے دے تو نہ اسے چیخنے کی ضرورت پڑتی ہے، نہ گالی دینے کی، نہ کسی کو نیچا دکھانے کی۔ مثبت شعور خاموشی سے دلوں میں اترتا ہے، شور مچا کر نہیں۔ اگر نیت صاف ہو، اگر ارادہ خیر کا ہو تو راستے خود بنتے ہیں۔ اور اگر آپ نے کسی کا برا نہیں چاہا تو یہ قدرت کا قانون ہے کہ آپ کے ساتھ بھی برا نہیں ہوگا۔ دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔
ڈکی بھائی کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شہرت نہ مکمل خیر ہے نہ مکمل شر۔ یہ ایک طاقت ہے اور ہر طاقت کے ساتھ ذمہ داری جڑی ہوتی ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس طاقت کو روشنی بناتے ہیں یا آگ۔ یہ بھی زندگی بتائے گی کہ کیا واقعی سبق حاصل ہوا یا






