اسٹڈی ویزا کا بحران: کون بچ پائے گا اور کون متاثر ہوگا؟
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
برطانیہ میں حالیہ عرصے کے دوران ویزا پالیسیوں میں کی جانے والی سختیوں نے بین الاقوامی تعلیم کے شعبے کو گہری نوعیت کے جھٹکے دیے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے آنے والے طلبہ کے لیے اس صورتحال نے بے شمار خدشات کو جنم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر تعلیمی رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کی بات کی جا رہی ہے، مگر برطانیہ نے اپنے داخلی معاملات اور تحفظاتی پالیسیوں کے تحت ایک مختلف سمت اختیار کی، جس کے اثرات ہزاروں طلبہ کی تعلیمی مستقبل پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔
ان اقدامات کی بنیادی وجہ ہوم آفس کے مطابق ویزا کے غلط استعمال کے بڑھتے ہوئے خدشات اور غیر حقیقی طلبہ کی تعداد ہے، جنہیں وہ نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس فیصلے نے بہت سے حقیقی طلبہ کو بھی متاثر کیا ہے جو برطانوی یونیورسٹیوں کی معیاری تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند تھے۔ کئی برسوں سے برطانیہ عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم کا مرکز رہا ہے، لیکن اب قوانین کی شدت نے نہ صرف طلبہ کو پریشان کیا ہے بلکہ ان یونیورسٹیوں کے اخراجات، مالی منصوبہ بندی اور بھرتی کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔
متعدد برطانوی یونیورسٹیوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو ’’ہائی رسک‘‘ ممالک قرار دے کر ان سے بھرتی روک دی ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ برطانیہ اب مخصوص خطوں کے طلبہ کو زیادہ محتاط نظر سے دیکھ رہا ہے۔ کم از کم نو یونیورسٹیوں کے ایسے فیصلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہوم آفس کی پالیسیوں نے اداروں کو سخت دباؤ میں ڈال دیا ہے، اور کوئی بھی ادارہ اسپانسر لائسنس کھونے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں۔
بارڈر سیکیورٹی کی وزیر کی جانب سے چند ماہ قبل دیا گیا بیان بھی اس تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اسٹوڈنٹ ویزا کو برطانیہ میں داخلے کے "پچھلے دروازے” کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس بیان نے ملک میں جاری سیاسی اور عوامی بحث کو شدت بخشی، اور کئی اداروں نے اپنی درخواستوں کی جانچ کے طریقہ کار کو مزید سخت کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ حکومتی پالیسیوں سے ہم آہنگ رہ سکیں۔
یونیورسٹی آف چیسٹر نے پاکستان سے داخلے خزاں 2026 تک بند کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا، جس نے بہت سے طلبہ کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یونیورسٹی کے مطابق انہیں ویزا ریجیکشن کی شرح میں اچانک اضافہ دیکھنے کو ملا، جس نے ان کے اسپانسر لائسنس کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا کیے۔ اس فیصلے کی وجہ سے نہ صرف موجودہ طلبہ بلکہ آئندہ آنے والے کئی سیشن بھی متاثر ہوں گے۔
اسی طرح یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے بھی پاکستان اور بنگلہ دیش سے انڈرگریجویٹ طلبہ کی درخواستیں قبول کرنا بند کر دیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی قومیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اپنے نظام کو ایسے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے جو انہیں مستقبل میں بھاری نقصان سے دوچار کر سکتے ہیں۔ طلبہ کی جانب سے اس کے بعد شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا، مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے ناگزیر قرار دیا۔
یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے بھی پاکستان سے نئی بھرتیاں روک کر اسی حکمتِ عملی کی پیروی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ صرف ایسے طلبہ کو ترجیح دیں گے جن کے ویزے کے منظور ہونے کے امکانات زیادہ ہوں۔ یونیورسٹی کے مطابق یہ فیصلہ وقتی ہے، لیکن اس نے بہت سے طلبہ کو ذہنی طور پر غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
سنڈر لینڈ، کوونٹری، اور چند دیگر اداروں نے بھی اسی نوعیت کے فیصلے کرتے ہوئے کہا کہ وہ سخت اقدامات اٹھانے پر معذرت خواہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے اسپانسر لائسنس کی حفاظت کے لیے ایسے فیصلے کرنے ضروری ہیں، کیونکہ چند غلط کیسز بھی ان کے پورے نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس دباؤ نے انہیں زیادہ سختی کے ساتھ درخواستوں کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
یونیورسٹی آف سنڈر لینڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ ویزا نظام کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ان کے مطابق چند غلط درخواستیں بھی پورے ادارے کے لیے بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں، اس لیے وہ چھوٹے یا جذباتی فیصلوں کی بجائے بروقت سخت اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔
نئے قوانین کے مطابق یونیورسٹیوں پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ویزا ریجیکشن کی شرح کو 5 فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیں، جبکہ پہلے 10 فیصد تک کی اجازت تھی۔ اس نمایاں تبدیلی نے یونیورسٹیوں کے لیے بھرتی کا معیار سخت کر دیا ہے اور وہ زیادہ چھان بین کے بعد ہی کسی درخواست کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کی ویزا ریجیکشن شرح بالترتیب 18 اور 22 فیصد ہونے کے باعث یونیورسٹیاں ان ممالک کو ’’ہائی رسک‘‘ سمجھنے پر مجبور ہو گئی ہیں، کیونکہ اگر ان کی مجموعی شرح مقررہ حد سے بڑھ جائے تو ان کا اسپانسر لائسنس خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ادارے اب محتاط رویے پر قائم ہیں۔
اسی عرصے میں مسترد ہونے والی 23 ہزار سے زائد درخواستوں میں نصف کا تعلق انہی دونوں ممالک سے تھا۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ درخواستوں کے معیار اور حقیقی ارادے کو پرکھنے کے لیے مزید جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کی پناہ کی درخواستوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو ہوم آفس کی نظر میں تشویش کا باعث ہے۔ کئی افراد کام یا تعلیم کے ویزے پر آئے اور بعد میں پناہ کی درخواست دائر کر دی، جس نے حکام کو اس پورے نظام پر دوبارہ نظر ثانی پر مجبور کر دیا۔
بین الاقوامی تعلیم کے مشیر وینچینزو رائیمو کہتے ہیں کہ یہ قوانین خاص طور پر ان یونیورسٹیوں






