سو لفظوں کی کہانی
جنازہ
دوسو میرا پرانا یار تھا،
اس کا دنیا سے جانا میرے لیے صدمے سے کم نہیں تھا،
یاروں کا یار تھا،
کسمپرسی کا شکار رہا،
گزارہ مشکل سے ہوتا تھا،
کسی نے مدد نہیں کی اس کی،
بندہ کمال کا تھا، ہنس مکھ، زندہ دل،
جنازہ اسی لیے بہت بڑا تھا۔۔۔
دوسو کا کوئی لین دین ہو تو اس کے بھائی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے،
جنازے سے قبل اعلان ہوا۔
اور میری آنکھیں نم ہو گئیں،
کہ اسی بھائی سے دوسو دو وقت کے گزارے کے لیے مدد مانگتا مر گیا،
لیکن دوسو کو دھتکار ہی ملتی تھی۔






