افغان عبوری حکومت کو ایک بار پھر سخت انتباہ
أج کا اداریہ
جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں تقریب کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسرز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئےچیف آف ڈیفنس فورسرز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغانستان کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو فتنۃ الخوارج یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔یہ پہلاموقع نہین ھے کہ پاکستان نے افغانستان کو سخت الفاظ میں یاددہانی کرائی ہے کہ طالبان حکومت اپنی ذمے داریوں کا احساس کرے اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا مقام پیداکرے۔
گزشتہ ماہ بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور کے دورے کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی برداشت نہیں کی جائےگی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھاکہ پاکستان، افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور متعدد مواقع پر افغانستان کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوشش کی، مگر اس کے باوجود افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
قبائلی عمائدین نے اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بے لاگ گفتگو کو سراہتے ہوئے مسلح افواج کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا تھاکہ فتنہ الخوارج کے نظریے کو قبائل میں کسی طور قبولیت حاصل نہیں۔
پاکستان متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔یورپی یونین، ڈنمارک اور کئی دیگر ممالک بھی افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کو خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے جو علاقائی سلامتی کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔اس کے باوجود بھارت افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔
اکتوبر 2025ء میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت کے دوران متعدد معاہدے طے پائیجبکہ اسی وقت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے بلااشتعال کارروائی بھی سامنے آئی۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے سفارت خانوں میں تجارتی نمائندے بھی تعینات کریں گے۔تجزیاتی حلقوں کے مطابق بھارت افغانستان کو خیرسگالی کی بنیاد پر نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔
افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے جنوبی ایشیا کی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال مزید غیر مستحکم ہو رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے بڑھتی تشویش میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت۔افغان گٹھ جوڑ اور شدت پسندانہ پالیسیوں کے امتزاج نے خطے کے امن اور عالمی سلامتی کے لیے نئے اور شدید خطرات پیدا کر دیے
گزشتہ کئی ماہ سے سرحد پار افغان حدود سےحملوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کا عمل اس امر کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال جاری ہے اور افغان باشندے پاکستان میں دہشت گردی کے عمل میں ملوث ہیں۔ اس امر کی واضح تصدیق کے بعد کہا گیا افغان طالبان چیلنج ہیں اور کیا افغان انتظامیہ اس مذموم طرز عمل اور جارحانہ طرز عمل کا سدباب کر پائے گی، یا یہ سمجھا جائے کہ افغان سرزمین کے پاکستان کیلئے استعمال کو ان کی خاموش تائید حاصل ہے ۔لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ آخر افغان سرزمین اور افغان باشندوں کا پاکستان کے خلاف استعمال کیوں ہے ، اس مذموم عمل کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں ۔ حکومتی ذمہ دار ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ افغان سرزمین سے 62خودکش بمباروں کو لانچ کیا گیا ہے جنہیں دد شہروں کے حوالہ سے ٹارگٹ دئیے گئے ہیں۔
افغان سرزمین سے حملوں اور دہشت گردی کے عمل بارے مصدقہ ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں کہ اس مذموم عمل کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی‘را ’ان کی فنڈنگ کررہی اور ان کے پاس امریکی اسلحہ موجود رہا اور وہ اس حوالہ سے پسپائی اس لئے اختیار نہیں کرتے کہ انہیں خود افغان انتظامیہ میں شامل بھارت نواز ذمہ داران کے اشارے اور تھپکی حاصل رہی ۔ شروع شروع میں پاکستان سمجھتا رہا کہ افغان طالبان کی اپنی کمزوری رہی جس کا فائدہ دہشت گرد اٹھاتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پتہ چلا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں خصوصاً ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں تھے ، جس کا ثبوت استنبول مذاکرات میں ان کا اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر آمادگی ظاہر نہ کرنا اور کوئی یقین دہانی نہ کرانا تھا۔ پاکستان کی مسلسل کوشش رہی کہ افغانستان پر براہ راست حملوں سے گریز کرناچاہئے اور افغان تنازع کا کوئی پرامن حل نکالا جائے ۔ بھارت کے حوالہ سے خود ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ بھارت پاکستانی فوج کے ہاتھوں اپنی ہونے والی سبکی اور دنیا بھر میں ہونے والی ذلت و خواری کا بدلہ خود تو نہیں لے سکتا، اب اس نے افغان انتظامیہ اور فورسز کو شہ بھی دی ہے اور اسلحہ کی فراہمی اور فنڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جو انہیں پسپائی اختیار نہیں کرنے دیتا۔ لہٰذا اب جبکہ وزارت داخلہ دہشت گردوں اور حملہ آوروں تک پہنچ چکی ان کی شناخت ظاہر ہو چکی ہے تو اب پاکستان کے پاس دہشت گردی کے خلاف کسی بڑے اقدام کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آ رہا۔ اب پاکستان افغان سرزمین پر دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو کب ،کیسے اور کس طرح نشانہ بنائے گا یہ اہم ہے ۔
اس لئے کہ پاکستان کی حکومت اور ریاست یہ






