پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
قسط نمبر:9 (شاہد بخاری)
ڈاکٹر شیخ اقبال کے بیٹے تابش اقبال نے اپنے والد کے لئے اپنے ایک مضمون میں پیار او ر محبت کا اظہار کچھ یوں کیا ہے:
”دروازے پر دستک ہوئی اور میں چونک کر اٹھا! یہی کوئی صبح چارکا ٹائم ہو گا اور ایک نہایت شفیق آواز میرے کانوں سے ٹکرائی”اُٹھ گئے ہو بیٹا“ جی ہاں یہ میرے پاپا(ڈاکٹر شیخ محمد اقبال) کی آواز تھی جو روز صبح اٹھ کر (زمانہئ طالب علمی میں) مجھے پڑھنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔ نجانے کتنے سال اسی طرح گزرے اور میں علم کے مدارج طے کرتا ہوا انجینئر بن گیا جو کہ میرا اور میرے والدین کا ایک خواب تھا۔ آج میں اور میری دو بہنیں اسی خواب کی بدولت ایک اچھے مقام پر ہیں۔
یہ سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہوتے اگر میرے پاپا اپنے (لڑکپن) کے دور کے لوگوں کےSuperstitious خیالات کی نذر ہو گئے ہوتے کیونکہ (اس وقت کے) لوگوں کی نظر میں ایک نابینا شخص کا مقام محض ایک دینی مدرسہ تھا اور ایسا شخص صرف ثواب کمانے اور ثواب بانٹنے کا بہترین ذریعہ تھا اور اگر ایسا ہو جاتا تو ہم اور ہماری نسلیں انہیں ثواب پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہوتیں۔ میرے پاپا نے ہمت نہ ہاری اور نہ ہارنے کی قسم کھائی،عام لوگوں کے شانہ بشانہ اپنی راہیں نکالتے رہے اور انہی راہوں سے گزر کر اپنا خاص مقام بنایا اور نہ جانے کتنے بینا لوگوں میں بصیرت کو اجاگر کیا۔ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے رب کے کرم کے بعد اپنے پاپا کی وجہ سے ہوں جنہوں نے ہر لحظہ میری راہنمائی فرمائی،مجھے چلنا سکھایا، بولنا سکھایا مجھےتعلیم دی،تربیت کی اور اس قابل بنایاکہ میں نے جو کچھ پایا ہے جتنا شکر کروں کم ہے۔
میرے تین بچے ہیں اور بیگم جو ڈاکٹری کے شعبے سے منسلک ہے۔ میرے والد کے کچھ ادھورے خواب میرے بچوں سے پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ شاید بلکہ یقینا میرے والد مجھ سے بھی زیادہ میرے بچوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کو مجھ سے بھی زیادہ میرے بچوں کی فکر رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کی کچھ زیادہ فکر نہیں۔مجھے اپنے والد سے بے پناہ محبت ہے اور میں ان کا ساتھ کبھی چھوڑنا نہیں چاہتا۔ وہ میرے لئے ایک حوصلہ او رہمت کی تصویر ہیں۔ زندگی کے جھمیلوں میں کبھی پریشان ہو جاؤں یا ڈپریشن کا شکار ہوں تو میری بھر پور خواہش ہوتی ہے کہ ان سے باتیں کروں اور اپنا مسئلہ بیان کروں۔ مجھے ایک تحریک ملتی ہے اور میں دوبارہ حوصلہ مند ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہوں۔ انہوں نے جہاں قدم بڑھایا وہ کامیاب رہے، نابیناؤں کا سکول کھولا، علمی ادبی تنظیم بزمِ فکروخیال بنائی، 20 کتابیں لکھیں۔ میڈیا پر آئے، تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ میں نے لوگوں کو انہیں پوجتے ہوئے دیکھا ہے، وہ نہ صرف میرے لئے بلکہ نہ جانے سینکڑوں نابینا اور بینا لوگوں کے Mentorہیں اور ہر طبقہ فکر کے لوگ ان سے ملنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔
یہ شاید میری پہلی ادبی تحریر ہے لیکن نہ جانے قلم ہے کہ رواں دواں ہے خیالات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے اور کیوں ختم ہوں کہ میرے والد نے میرے اور میرے گھر والوں کے لئے وہ کچھ کیا جو کہ ایک مراعات یافتہ بھی نہیں کرسکتا۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ ایک تناور درخت کے سائے میں باقی پودوں کی Growthرک جاتی ہے لیکن یہاں یہ بات غلط ثابت ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ ساتھ سب کو جینا سکھایا زمانے کا مقابلہ کرناسکھایا اور ہمیں اس قابل بنایا کہ لوگ ہمیں دیکھ کر رشک کرتے ہیں۔ ان کی نابینائی کا میں ذکر اس لئے نہیں کروں گا کہ میں نے کبھی انہیں نابینا سمجھا ہی نہیں ان کی نابینائی نہ ان کے لئے کوئی Hurdle تھی نہ ہمارے لئے۔ بات تو تب ہوتی جب کوئی تشنگی یا آرزو ادھوری رہ جاتی۔ لیکن ہمارے والد نے ہمیں ایسا مقام دیا کہ کوئی خواہش ادھوری نہیں۔معاشرے کے رویوں کی اگر بات کی جائے تو یہ کہنا نہایت مناسب ہو گا کہ لوگوں نے میرے والد کع بہت عزت دی۔لیکن میرے والد کے چند اپنوں نے بہت دکھ پہنچائے جس کا اکثر ان کو افسوس رہا“
خود ڈاکٹر اقبال کو اپنی فیملی سے کتنا تعلق خاطر ہے اس کا اندازہ ان کی کتب کے انتسابات سے بھی لگایا جاسکتا ہے،
”ذوقِ تماشا“
انتساب:”اپنے والدِ محترم شیخ اللہ دیا کے نام“
ایک انتساب انہوں نے اپنی ذوجہ کے نام بھی کیا ہے، مگر انتساب بڑا استعاراتی ہے
”جون ڈن شخصیت اور فن“
انتساب: ”اپنی این مور کے نام“
”تلاوتِ دل“(نعتیہ مجموعہ)
انتساب:”والدہ محترمہ کے نام اگر ان کی شفقتیں اور محبتیں نہ ہوتیں تو گلشنِ حیات میں کوئی بھی پھول دکھائی نہ دیتا، خار ہی خار ہوتے یا میں ہی نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ابدی نیند میں سکون و راحت دے اور ا ن کی بخشش فرمائے آمین“
”آشوبِ آگہی“میں اپنی بیٹیوں کے نام انتساب میں لکھتے ہیں
”اپنی لائف بوٹس کشور اقبال اور کوکب اقبال کے نام اللہ تعالیٰ انہیں دن دوگنی اور رات چوگنی صلابت عطا کرے آمین“
”کب رات بسر ہو گی؟“
انتساب: ”اپنے بیٹے تابش اقبال کے نام جس میں مجھے اپنی چند امیدوں کا پر تو محسو س ہوتا ہے،دعا ہے کہ وہ میری تمنا ؤں اور آرزوؤں کے چراغوں کو روشن رکھ سکے“
”Love’s no Crime“
Dedication:
”To my daughter kokab beauty and love incarnate”
”اقبال بحضور اقبال“
انتساب:”اپنی بیٹیوں کے پھول اور کلیوں ابتہاج، جویریہ اور عائشہ کے نام“
”ابھی زندگی کا جوا ز ہے“
انتساب:”اپنے گلستانِ زندگی کے نودمیدہ پھول اور کلیوں (شایان تابش، عمار تابش، شجان اختر، سبحان تابش،زینب ملک اور لائبہ ملک) کے نام۔اللہ تعالیٰ ان کی عمریں دراز کرے اور وہ زندگی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکیں (آمین)“
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت AOL بتاریخ27مئی 2025ءقسط وارشائع کر رھے ہیں)






