ادب اطفال سیمینار
روبرو۔۔۔۔محمد نوید مرزا
اُردوسائنس بورڈ ایک اہم علمی و ادبی ادارہ ہے،جس کا مقصد فروغ سائنس اور اس سے وابستہ علوم کی نشرو اشاعت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر معاشی و معاشرتی و سماجی مسائل کے موضوعات کا احاطہ کرنا بھی اس ادارے نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔یہ ادارہ اب تک مختلف موضوعات پر آٹھ سو سے زائد کتب شائع کر چکا ہے۔ادارے کے چند قابل ذکر سربراہان میں جناب اشفاق احمد،جناب ظفر اقبال ،جناب خالد اقبال یاسر ،جناب امجد اسلام امجد،جناب ناصر عباس نیر کے نام شامل ہیں ۔آج کل ضیاء اللہ خان طورو اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور ان کے زیر سایہ مختلف تقریبات ہوتی رہتی ہیں۔پچھلے دنوں بورڈ کے زیراہتمام "ادب اطفال؛رُجحانات، امکانات اور مسائل”کے موضوع پر ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقادکیا گیا۔
اس سیمینار کی صدارت ادارے کے سابق ریسرچر مصنف وپروفیسر ڈاکٹرجمیل احمد نے کی ۔ جب کہ بچوں کے معروف ادیب، لکھاری، ٹرینر اور سائنسی بابو کے نام سے مشہور ڈاکٹر طارق ریاض خان مہمان خصوصی تھے۔سیمینار میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ وطالبات ، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ڈپٹی ڈائریکٹر اکیڈمکس اُردوسائنس بورڈ انجینئر امین اختر نے استقبالیہ کلمات میں مہمانوں، مقررین اور شرکا کا شکریہ اداکیااور سیمینار کے اغراض ومقاصد پر بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر طارق ریاض خان نے سیمینار میں بچوں کے ادب کے حوالے سے رُجحانات اور مسائل پرمدلل، فکر انگیز اور پُرمغز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے طلبا اور اساتذہ میں کتاب بینی کارُجحان تیزی سے کم ہورہاہے۔ وہ صرف نصابی کتابوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔آج کل سوشل میڈیااورانٹرنیٹ غیر مستند معلومات سے بھراپڑاہے ، لیکن کسی مصنف کا سالوں کی محنت کانچوڑ اُس کی کتاب ہی اصل اور مستند علم کاذریعہ ہوسکتاہے۔ اُنہوں نے طلبا پرزوردیا کہ وہ نصابی کتب کے علاوہ اپنی دلچسپی کے دیگر موضوعات پر کتابوں کا مطالعہ لازمی کریں،کہانیاں اور مضامین پڑھیں۔آج کی تعلیم یافتہ نئی نسل ہی مستقبل کی اُمید اورکامیاب قیادت ہوگی۔
صدر تقریب پروفیسر ڈاکٹرجمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادب اطفال سے مراد ایساادبی تحریریں ، مضامین،نثر ، شاعری ہیں، جو بچوں کی ذہنی سطح اور صلاحیتوں کو پیش نظر رکھ کر ادیبوں اور لکھاریوں کی طرف سے تخلیق کیاگیاہو۔یہ ادب بچوں کی ذہ ذہنی ، اخلاقی اور سماجی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کاادب اُن میں تجسس اور موضوعات میں دلچسپی پیداکرتاہے۔ یہ بچوں کو جدیدسائنسی ، سماجی علوم اور اخلاقی اقدار سکھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر جمیل احمد نے بچوں کی ادب میں دلچسپی کے حوالے سے مختلف سوالات پُوچھے۔
راقم الحروف محمد نوید مرزا نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں بچوں کے لیے کہانیاں تخلیق کرکےخوشی ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں بچوں کے ادیبوں کو وہ ستائش نہیں ملتی ، جس کے وہ حق دارہیں۔اس لئے ہمارے بہت سے اہم اور معروف شعراء و ادباء بچوں کے ادب کی طرف راغب نہیں ہوتے۔بچوں کے ادب کے لیے گھسے پٹے موضوعات نہیں ہونے چاہییں۔ بچوں کے ادیبوں کی تعدادبہت کم ہے۔ نئے موضوعات پر تخلیق کی اشد ضرورت ہے۔اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں بزم ادب کی تقریبات باقاعدگی سے منعقدہونی چاہییں اور بچوں کے ادب کے لیے اداروں کی سرپرستی ضروری ہے۔سرکاری سطح پر صرف ایک ادب اطفال کانفرنس منعقد ہوئی ہے اور ہر سال انعقاد کے وعدے کے باوجود تین سے زائد سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔
بچوں کی معروف سائنسی مصنفہ محترمہ تسنیم جعفری نے سیمینار میں بچوں کے ادب کی اہمیت، ضرورت اور درپیش مسائل پر سیر حاصل گفتگوکی۔ انہوں نے کہا کہ اب جدید ٹیکنالوجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اوراے آئی جیسے موضوعات زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ اب نئی نسل کتاب کی بجائے انٹرنیٹ،سوشل میڈیااور پوڈکاسٹ میں زیادہ وقت گزاررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے دورکے تقاضوں کے مطابق ادب کی تخلیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مصنفین کو بچوں کی ذہنی سطح اور ڈیجیٹل دور میں ضروریات کو مدنظر رکھناچاہیے۔مدیر "الف نگر”محترمہ عائشہ اطہر، ماہر تعلیم جناب شبیر احمد اور عبدالمنان نے بھی سیمینار میں اظہارخیال کیا۔
تقریب کی نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلیکیشنزجناب ظہیر خالدقریشی نے اداکیے۔ تقریب کے اختتام پر شریک ہونے والے طلبہ وطالبات کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔صدر اور مہمانان کو کتب پیش کی گئیں۔
بچوں کے ادب کے حوالے سے ہونے والی اس کوشش کو نہ صرف یاد رکھا جائے گا بلکہ آئیندہ بھی اس سلسلے میں ہونے والی تقریبات کی پذیرائی کی جائے گی۔اس سلسلے میں ادارے کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ادب سے وابستہ ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ الگ الگ ایک پروگرام کرکے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کریں اس طرح ان سے ادب اطفال کی ترویج کے لئے نئی نئی تجاویز بھی حاصلِ کی جا سکتی ہیں۔






