#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

Untitled 13

قسط :5
(شاہد بخاری)


پی ایچ ڈی کے مقالے کے حوالے سے ڈاکٹر اقبال نے اپنے مقالے میں اقبال پر برطانوی شعراء کے اثرات کا جائزہ پیش کیا،تھیسز کے تمام اصولوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اقبال بعض برطانوی شعراء سے یقینا متاثر تھے اور شعوری طور پر انہوں نے اثر قبول کیا۔ علامہ اقبال نے خود بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ بہت سی نظمیں جو ”مخزن“ میں شائع ہوئیں ان کے ساتھ شعراء کا نام یا ماخوذ لکھا ھوا ھے۔”بانگِ درا“ میں بھی بعض نظموں کے عنوان کے ساتھ شعراء کا نام درج ہے۔اقبال نے خود برطانوی شعراء کو پڑھا اور اسلامیہ کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھایا بھی۔ ناقدین نے اپنے مضامین میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ کس حد تک اقبال، انگریزی شعراء سے متاثر تھے لیکن ان کی تحقیق،مضامین تک محدودتھی۔ ڈاکٹر اقبال نے کوشش کی ہے کہ اقبالؒ کے اردو فارسی کے کلام کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور برطانوی شعراء کے دواوین کو پڑھ کر تحقیقی اصولوں کے مطابق اثرات کا ٹھیک ٹھاک اندازہ لگائیں اور اس سلسلے میں انہیں جو کامیا بی حاصل ہوئی ہے،اس سے وہ بہت مطمئن ہیں۔ علامہ اقبال مواد کے حوالے ہی سے نہیں بلکہ اسلوب اور لفظیات کے حوالے سے بھی برطانوی شعراء سے متاثر ہیں۔اقبال جس برطانوی شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں، وہ ورڈزورتھ ہے لیکن ملٹن کے اثرات بھی اقبال پر بہت گہرے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اس کا برملا اظہار نہیں کیا لیکن وہ ”پیر ڈائز لاسٹ“ کی سی نظم واقعہ کربلا کے حوالے سے تحریر کرنے کی خواہش کا اظہار ضرور کرتے تھے۔ اقبال اور ملٹن کا کلام پڑھیئے تو کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اقبال ان سے ضرور متاثر ہوئے۔ بہت سے اردو ناقدین نے اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کی آراء مقالے میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ وہ ملٹن سے متاثر ہوئے، ملٹن اور اقبال دونوں اپنی شاعری کے آغاز سے اختتام تک مذہبی اور اخلاقی اقدار کے احیاء میں محو،ر ہے۔دونوں شعراء کے یہاں ابلیس سے متعلق خیالات میں حیرت انگیز ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں شعراء ابلیس یا شیطان کو ایک مثبت قوت گردانتے ہیں۔ دونوں ابلیس کو تحرک، تجسس، تگ و تاز، جوش و ولولہ اور عزت نفس کا داعی سمجھتے ہیں۔ اقبال اور ملٹن دونوں انسان کو قسمت کااسیر نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے اور خدا نے اسے یہ صلاحیت دی ہے۔ دونوں شعراء انتہائی پڑھے لکھے اور اپنے دور کے نابغہ تھے۔ دونوں شعراء کے ملکی حالات کم و بیش ایک جیسے تھے اور دونوں نے اپنے عہد سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کی۔ دونوں کے نجی حالات بھی کئی معاملات میں مماثلت رکھتے ہیں دونوں کے خواتین کے بارے میں نظریات ایک جیسے ہیں اور خواتین کی بے محابہ آزادی کے خلاف ہیں۔ ملٹن کے ساتھ ساتھ جو برطانوی شعراء اقبال کے زیرِ مطالعہ رہے وہ انیسویں صدی کے ربع اول کے شاعر تھے جنہیں رومانی شعراء بھی کہا گیا ہے۔ اقبال کلاسیکی رنگوں کے ساتھ ساتھ رومانی نکہتوں سے بھی فیض یاب تھے۔ انہیں رومانی شعراء کتنے اچھے لگتے تھے اس کا اندازہ ان کے کلام سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ورڈزورتھ کے بارے میں تو ان کا یہ قول کہ ورڈزورتھ نے طالب علمی کے دو رمیں مجھے الحاد سے بچایا بڑا اہم ہے۔ علامہ کے دور اول کی بیشتر نظموں پر ورڈزورتھ کے اثرات نمایاں ہیں۔ خاص طور پر ان نظموں پر جن میں اقبال کا وحد ت الوجودی تصور موجود ہے۔ اقبال اور ورڈزورتھ دونوں بنیادی طور پر رجائی شاعر ہیں دونوں فطرت کے حسن پر فریفتہ ہیں۔دونوں نے بچوں کے نغمے گائے،دونوں نے ملی شاعری کی۔ دونوں شاعر انسان کی قبل از پیدائش کی تھیوری اور بعد از موت کی زندگی کے قائل ہیں۔
ورڈزورتھ کی طرح اقبال کولرج سے بھی متاثر ہیں بلکہ نظریاتی طور پر شاید وہ ورڈزورتھ کے مقابلے میں کولرج سے زیادہ متاثر ہیں کیونکہ ان کے خیال میں فطرت کے مزاج سے انسان کا مزاج متفق نہیں ہوتا بلکہ خوشی تو ساز دل سے ابھرتی ہے۔دونوں شاعر قوتِ متخیلہ کو بڑی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ دونوں کا ذہن مابعد الطبیعاتی ہے۔ دونوں نے نقد و نظر میں اپنے جوہر دکھائے ہیں کولرج کی نظم To an infantکا اثر تو اقبال کی نظم ”طفل شیر خوار“ پر بڑا ہی واضح ہے۔
بائرن ایک بڑ ا رومانی شاعر مانا جاتا ہے اگرچہ اس کی ذاتی زندگی میں تاریک پہلو موجود ہیں لیکن پھر بھی اقبال نے اسے اپنی شاعری میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے کیونکہ علامہ اس کے ولولہ حیات اور جہدِ زندگی سے بڑے متاثر تھے۔بائرن نے آزادی کے لئے اپنی جان دے دی اور مردہ قوم کی رگوں میں خونِ حریت دوڑانے کی کوشش کی۔ اقبال کویہ بات بڑی اچھی لگی ہے جو ابلیس کے مثبت پہلوؤں کو دیکھ سکتے تھے۔
اقبال شیلے سے بڑے متاثر تھے ان کے ایک طالب علم کے مطابق وہ شیلے پڑھاتے وقت شیلی کی بحروں میں طبع آزمائی کرتے تھے۔وہ شیلے کے وجودی نظریات، اس کی رجائیت اس کی سیمابیت اور تغزل کے جادو سے بچ نہیں سکے تھے۔
کیٹس کے اثرات بھی علامہ پر کہیں کہیں معلوم ہوتے ہیں۔ وہ کیٹس کی طرح سارے حواس کے شاعر تھے حسن کے دلدادہ اور کیٹس کی طر ح جمال میں جلال کے بھی قائل تھے۔ رومانی شعراء کی طرح اقبال پر وکٹورین شعراء کا بھی بڑا اثر ہے بالخصوص براؤننگ اور ٹینی سن دونوں وکٹورین عہد کے بڑے شاعر تھے۔ اقبال نے براؤننگ کی رجائیت کا بڑا ذکر کیا ہے۔ براؤننگ شکست سے کبھی ہراساں نہیں ہوتا۔ اس کے خیال میں کوشش انسانی زندگی کے خمیر میں شامل ہے۔ کوشش کرتے رہنے سے زندگی کو چار چاند لگ جاتے ہیں اور یہ بات علامہ کو بڑی پسندتھی،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے براؤننگ کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا اور انہوں نے براؤننگ پر ایک لیکچر بھی دیا اور اس کا ذکر اپنے خطبات میں بھی کیا۔ اقبال

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے