#اداریہ

بیروزگاری اور پاپولیشن میں اضافہ روکنے کیلیے عملی اقدامات کی ضرورت

Fahad 01

أج کا اداریہ

پاکستان میں2021 سے 2025 کے درمیان بیروزگار افراد کی تعداد میں 14 لاکھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چار سال قبل ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 45 لاکھ تھی جو مالی سال 2025 کے اختتام تک 59 لاکھ ہو گئی۔
پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے سال 25-2024 کے لیے جاری کیے جانے والے لیبر فورس سروے کے مطابق، ملک میں بیروزگاری کی شرح 2021 میں 6.3 فیصد تھی جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بیروزگار افراد کی سب سے بڑی تعداد صوبہ پنجاب میں ہے جہاں تقریباً 35 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں بیروزگار افراد کی تعداد 12 لاکھ جبکہ سندھ میں یہ تعداد دس لاکھ ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں دو لاکھ افراد بیروزگار ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 38 لاکھ مرد جبکہ 21 لاکھ خواتین بیروزگار ہیں۔
لیبر فورس سروے کے مطابق، ملک میں تمام عمر کے افراد میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

کل 59 لاکھ بیروزگار افراد میں سے 46 لاکھ یعنی 77.5 فیصد افراد پڑھے لکھے ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً دس لاکھ افراد اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ بیروزگار افراد کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق 15 سے 29 سال کی عمر کے گروہ سے ہے۔

سروے میں سامنے آیا ہے کہ سنہ 21-2020 میں روزگار میں زرعی شعبے کا حصہ 37.4 فیصد تھا جو 25-2024 میں کم ہو کر33.1 فیصد رہ گیا۔ دوسری جانب خدمات (سروسز) کے شعبے کا حصہ 37.2 فیصد سے بڑھ کر 41.2 فیصد ہو گیا۔ روزگار میں صنعت (انڈسٹری) کے شعبے کا حصہ 25.4 فیصد معمولی کمی کے ساتھ 24.9 فیصد پر پہنچ گیاہے۔
لیبر فورس سروے کے مطابق، دیہی علاقوں میں بیروزگاری 5.8 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد ہو گئی جبکہ شہری علاقوں میں یہ تناسب 7.3 فیصد سے بڑھ کر آٹھ فیصد تک پہنچ گیا ہے
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے لیبر فورس سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافے نے قومی ایمرجنسی کی صورت اختیار کر لی ہے جس پر فوری قابو پانا ناگزیر ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے پر قابو نہ پایا گیا تو 2040 تک ملک کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ صحت مند اور باصلاحیت نسل کی تشکیل کے لیے آبادی پر مؤثر کنٹرول نا گزیر ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر قومی آبادی منصوبہ بندی پر مؤثر حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے۔
احسن اقبال نے کہا آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں ملک کو بڑے سماجی و معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب روزگار کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر مختلف تعلیمی شعبوں میں ملازمت کے مواقع میں بھی واضح تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کے گریجویٹس کو اب بھی سب سے زیادہ روزگار حاصل کرنے کے مواقع حاصل ہیں، جبکہ ایم بی اے کی مقبولیت میں کمی دیکھنے کو ملی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کامرس اور ووکیشنل تعلیم کے شعبے بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
ملک میں کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کے گریجویٹس کی روزگار کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جس میں ڈیٹا اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کے گریجویٹس کی بڑھتی ہوئی طلب اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ آج کی دنیا میں ڈیٹا، اے آئی اور کلاؤڈ ٹیکنالوجیز کی اہمیت بڑھ گئی ہے، جس کے باعث ان ڈگریوں کا مستقبل بہت روشن نظر آ رہا ہے۔
دوسری جانب ایم بی اے کی ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے روزگار کے مواقع میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، پہلے جہاں ایم بی اے کو ایک کامیاب کیریئر سمجھا جاتا تھا، اب کمپنیوں کی ترجیح وہ لوگ ہیں جو ڈیجیٹل مہارت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ بزنس کے شعبے میں بھی مہارت رکھتے ہوں، آج کل کی کمپنیاں صرف مینجمنٹ کی بجائے ڈیٹا اینالیٹکس اور ٹیکنالوجی میں ماہر افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔
پاکستان میں بھی بدلتے ہوئے رحجانات کے باعث کامرس کے گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، بینکنگ اور فنانس کے شعبوں میں اس ڈگری کی طلب بڑھ رہی ہے، اسی طرح ووکیشنل تعلیم جیسے آئی ٹی آئی اور پولی ٹیکنک کے ڈپلوما ہولڈرز کے لیے بھی روزگار کے مواقع بڑھتے جا رہے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو الیکٹریکل، مکینیکل اور آٹوموٹو جیسے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔
اگر آپ کسی تعلیمی ڈگری کا انتخاب کر رہے ہیں، تو کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی ایک محفوظ انتخاب ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ ڈیٹا، اے آئی، یا آٹومیشن جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں، کامرس اور ووکیشنل تعلیم بھی نظرانداز نہ کریں، کیونکہ یہ شعبے بینکنگ، فنانس اور پروجیکٹ مینجمنٹ جیسے شعبوں میں اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔
اگر آپ ایم بی اے کرنا چاہتے ہیں، تو جنرلائزڈ ایم بی اے کے بجائے ڈیٹا اینالیٹکس، آپریشنل ٹیکنالوجی یا ڈیجیٹل اسٹریٹیجی میں مہارت حاصل کریں تاکہ آپ کی ملازمت کے امکانات میں اضافہ ہو سکے، روزگار کے مواقع اب صرف ڈگری پر منحصر نہیں ہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارت اور عملی تجربہ کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کے گریجویٹس کا مستقبل ابھی بھی روشن ہے، لیکن کامرس اور ووکیشنل تعلیم کے شعبے بھی تیزی سے اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، اس لیے طلباء کو اپنی تعلیم میں ٹیکنالوجی اور ڈومین اسپیشلائزیشن پر توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ مستقبل کے روزگار کے لیے تیار رہیں۔غیر ہنر مند اور ناخواندہ افراد کیلیے حصول روزگار کے مواقع اگرچہ کم ہیں تاھم ایسے افراد کو چھوٹے موٹے ذاتی کاروبار اور دیگر ایسے ذرائع تكاش کرنا چاھییں جنکا سرکاری اداروں پر انحصارکم ہو۔

بیروزگاری اور پاپولیشن میں اضافہ روکنے کیلیے عملی اقدامات کی ضرورت

27/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے