بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانؒ
تحریر حکیم راحت نسیم سوہدروی
انیسویں صدی کے آخر سے قیام پاکستان تک کوئی ایسی ملی دینی اور سیاسی تحریک نہ ہو گی، جس میں بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانؒ کا کردار قائدانہ حیثیت کا نہ ہو۔جنگ ِ طرابلس ہو یا جنگ بلقان، تحریک خلافت ہو تحریک عدم تعاون، افغان آزادی کا سوال ہو یا مسئلہ فلسطین، شیخ سنوسی کی تحریک جہاد ہو یا عربوں کی آزادی کا سوال، شدھی و سنگٹھن کی تحریک ہو یا فتنہ راج پال درو تمان، تحریک حریت کشمیر ہو یا مسجد شہید گنج کا مسئلہ، مسئلہ حجاز ہو یا اسلامی بازار کی مہم، مغل پورہ انجینئرنگ کالج کے پرنسپل کے خلاف احتجاج ہو یا انگریزی استبداد سے ٹکراﺅ، سائمن کمیشن ہو یا نہرو رپورٹ، تحریک پاکستان ہو یا تحریک ختم نبوت، دین دشمن تحریکیں ہوں یا آزادی صحافت کا سوال مولانا ظفر علی خانؒ ایک آتش نوا مقرر اور جادو نگار اہل قلم، نڈر عوامی راہنما اور قادر الکلام شاعر کے طور پر پیش پیش رہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ فرنگی حکمرانوں کا خوف نکالنے اور بیداری ملت کا فریضہ جس طرح مولانا ظفر علی خانؒ نے سرانجام دیا اور تحریر و تقریر سے جوخدمات کیں اس کے لئے ذکر کے لئے ایک دفتر درکار ہے، علامہ اقبالؒ نے ان خدمات کا اعتراف اس طرح کیا کہ ان کے قلم کی کاٹ کو مصطفی کمال کی تلوار سے تشبیہ دی، جبکہ قائداعظمؒ نے ان کی خدمات کا اعتراف یوں کیا کہ 1937 میں شاہی مسجد لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے مولانا ظفر علی خان جیسے دوچار افراد اور مل جائیں تو مَیں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ غلامی کی زنجیریں بہت جلد کٹ سکتی ہیں۔بدنام زمانہ انگریز گورنر سرمائیکل اڈوائر جو گورنر پنجاب رہےنے مولانا کی عظمت کو یوں تسلیم کیا کہ مولانا ظفر علی خان ماں کے پیٹ سے بغاوت کا قلم لے کر پیدا ہوئے۔الغرض مولانا صلاح الدین احمد کے بقول مولانا ظفر علی خانؒ کے نام اور کام کے بغیر ہماری تحریک ِ آزادی کا تذکرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔
مولانا ظفر علی خانؒ نے جس وقت میدانِ سیاست میں قدم رکھا آج کا پاکستان سیاسی لحاظ سے قبرستان تھا، انگریزی اقتدار کا اِس قدر دبدبہ تھا کہ پورا گاوں لال پگڑی والے ایک سپاہی سے لرزہ براندم ہو جاتامگر مولانا غلامی کی اس سیاہ رات میں آزادی کے حسین خواب کی تعبیر کے لئے حالات و واقعات سے بے پرواہ ہو کر نکل کھڑے ہوئے اور اپنی مسیحا نفسی سے ملت کو نئی زندگی بخشی، جس سے ملت جدوجہد ِ آزادی کے لئے تیار ہو گئی اور اس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔
مولانا ظفر علی خان ؒ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے سرفرازا تھا وہ بیک وقت صاحب ِ طرز ادیب، آتش نوامقرر، قادر الکلام شاعر، لاجواب مترجم، عظیم صحافی، نڈر عوامی رہنما اور سب سے بڑھ کر سچے و پکے مسلمان تھے، زندگی میں جس سرگرمی و تحریک میں حصہ لیا اس کا مقصد واحد اسلام کی سربلندی رہا اور ہمیشہ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کیا فرماتے ہیں
ہوتا ہے جہاں نام رسول خدا بلند
ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کردیا
سرکارِ دو جہاں کا بنا کر مجھے غلام
میرا بھی نام تا ابد زندہ کر دیا
ایک اور جگہ فرمایا:
اتنی ہی آرزو ہے میرے دِل میں اے خدا
اسلام کو زمانے میں دیکھوں میں سربلند
دُنیا میں سرنگوں علم مصطفےٰ نہ ہو
ہم خواہ ذلیل ہوں یا ارجمند
مولانا ظفر علی خانؒ ضلع سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاﺅں کوٹ میرٹھ میں1872ءمیں پیدا ہوئے، والد مولوی سراج دین جید عالم و فاضل شخصیت تھے اور محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے دادا مولوی کرم الٰہی سے حاصل کی۔ مشن سکول وزیر آباد سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے ریاست پٹیالہ چلے گئے، جہاں ان کے پھوپھا عربی کے پروفیسر تھے، جہاں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔سکول میں دورانِ تعلیم کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ ان کے ایک ماسٹر مکھن لال افیم(افیون) کے عادی تھے اور وہ اس کے لئے طلبہ سے پیسے اکٹھے کرتے تھے۔ ایک روز ترنگ میں آ کر انہوں نے ایک مصرعہ پڑھا:
واہ رے بے نظیر مکھن لال کیا زبان میں تیری طاقت ہے
اور اعلان کیا جو اس مصرعہ پرگرہ لگائے گا، مَیں اس کے پیسے معاف کر دوں گا۔ سب طلبہ نے کوشش شروع کر دی، مگر ظفر علی خان نے جلد سے اُٹھ کر یہ شعر پڑھ دیا:
ایڑھیاں ہیں تیری لمبی سی
تنگڑیوں میں تیری طاقت ہے
تُو تو ہوتا کہیں کا چپڑاسی
یہاں پڑھانا تیری حماقت ہے
یہ سنتے ہی مکھن لال آگ بگولا ہو گیا اور طالب علم ظفر علی خان کی پٹائی کر دی، مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ سب لڑکوں نے اسے رٹ لیا اور کورس کی صورت پڑھنا شروع کر دیا، جس سے مکھن لال کا دم ناک میں آ گیا اور سکول آنا چھوڑ دیا اور مکھن لال نے افیم کے لئے طلبہ سے رقم لینا بند کر دی۔
میٹرک پاس کر کے ظفر علی خان سری نگر چلے گئے ،جہاں مولوی سراج دین محکمہ ڈاک میں ملازمت کرتے تھے اور ملازمت کی کوشش کرنے لگے اور ایک روز ظفر علی خان ڈاکخانہ کے احاطے میں دھوپ میں بیٹھے تھے کہ ایک انگریز فوجی وردی میں ملبوس آیا اور ظفر علی خان کو بیٹھے دیکھ کر کہا”او لڑکے! اِدھر آﺅ گھوڑے کی باگ پکڑو“ مگر ظفر علی خان نے اس آواز پر کان نہ دھرا،جس پر انگریز بڑا سیخ پا ہوا اور دوبارہ بولا: لڑکے! تم نے سُنا نہیں، اِدھر آﺅ اورگھوڑے کی باگ پکڑو“۔ ظفر علی خان نے انگریز کو غور سے دیکھا اور سنجیدگی سے جواب دیا،جناب! معاف کریں مَیں آپ کا ملازم یا غلام نہیں ہوں۔انگریز کسی ہندوستانی کی زبان سے یہ سُن کر سخت غصہ میں آ گیا اور آگے بڑھ گیا اور واپس جا کر انگریز ریذیڈنٹ سے شکایت کی کہ مولوی سراج دین کو ملازمت سے نکال دیا جائے، مگر مولوی سراج دین کی کوشش سے یہ معاملہ رفع دفع کرا دیا۔اس طرح مولوی






