مولانا محمد شفیع جوش کشمیر کی روحِ حق کا مینار
تحریر امجد اقبال امجد
جب تاریخ اپنے اوراق پلٹتی ہے تو کچھ نام روشن حرفوں میں ابھر آتے ہیں… ایسے نام جو وقت کی دھول سے بے نیاز، نسلوں کے دلوں میں جاوداں ہو جاتے ہیں۔ مولانا محمد شفیع جوش بھی انہی ناموں میں سے ایک ہیں—ایک ایسی شخصیت جن کے مزاج میں بغاوت کا حوصلہ، قلم میں سچ کی مہک، اور دل میں کشمیر کی دھڑکن بسی ہوئی تھی۔
مولانا جوش صرف ایک کشمیری رہنما نہیں ہیں ، وہ وادی کا درد اپنے سینے میں سجائے ہوئے وہ مسافر ہیں جنہوں نے اپنے لوگوں کے حقِ آزادی کو لفظوں کی تپش سے زندہ رکھا ہوا ہے ۔ سابق ایم ایل اے آزاد جموں و کشمیر حکومت کے طور پر انہوں نے نہ صرف سیاست کو وقار دیا بلکہ نظریۂ پاکستان فورم آزاد جموں و کشمیر کے صدر کی حیثیت سے قائد اعظم محمد علی جناح کے اس فرمان کو اپنی فکر کا محور بنایا کہ “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔”
یہ جملہ ان کے لیے کوئی نعرہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے — ایک عہد ہے — ایک ایمان ہے۔
مولانا محمد شفیع جوش کے لفظوں میں تحریک کی وہ حرارت ہے جو برف پوش پہاڑوں کو بھی پگھلا دے۔ وہ لکھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نیلم کے پانیوں میں سلگتی ہوئی آزادی کی لو لہرا رہی ہو۔ وہ بولتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے مظفرآباد کی ہوا خود اعلان کر رہی ہو کہ کشمیری قوم کبھی بے آواز نہیں ہوگی۔
انہوں نے دنیا کے ضمیر کو پکارا، اقوامِ عالم کے دروازے کھٹکھٹائے، اور ہر اس طاقت کو آئینہ دکھایا جو کشمیر کے درد کو نظرانداز کرتی رہی۔ ان کی تحریروں میں احتجاج بھی ہے اور استدلال بھی؛ جذبات بھی ہیں اور دلیل کی تلوار بھی۔ وہ عالمی برادری سے سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک ایک قوم کا حقِ خودارادیت، طاقت کے دبیز پردوں میں قید رکھا جائے گا؟ کب تک کشمیریوں کے خوابوں کو بارود کی بو سے مہکایا جائے گا؟
مولانا جوش نے 1947ء میں آزاد کشمیر حکومت کے قیام کو آزادی کی پہلی کرن قرار دیا— ایک ایسی کرن جو ٹھنڈی رات میں امید کا چراغ بن کر جلتی ہے۔
اور جب وہ 27 اکتوبر کے یومِ سیاہ کی بات کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں تاریخ کے اس سیاہ باب کو دیکھتی ہیں جہاں ریاستِ جموں و کشمیر کو جھوٹ، فریب اور جابرانہ سازش کے ذریعے بھارت کے ساتھ ملانے کی کوشش کی گئی۔
اس دن کو وہ صرف ایک یاد نہیں کہتے، بلکہ ”ضمیر کی تڑپ” کہتے ہیں—ایک ایسا زخم جس سے ہر کشمیری کا دل خون روتا ہے۔
مولانا جوش نے سیاست کو عبادت کا رتبہ دیا۔ ان کے نزدیک کشمیر کا مسئلہ کوئی جغرافیائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک انسانی مقدس جدوجہد ہے۔
وہ نوجوانوں کو ہمت دیتے ہیں، بزرگوں کو یقین دیتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ:
"کشمیر کی آزادی محض ایک مطالبہ نہیں — یہ ایک قوم کی سانسوں کا قرض ہے۔”
ان کی شخصیت میں درویشی اور قیادت، دونوں کا امتزاج ملتا ہے۔ وہ منبر پر ہوں تو روح کو بیدار کر دیتے ہیں؛ تحریر میں ہوں تو فکر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں؛ محفل میں ہوں تو اخلاص کی خوشبو پھیلا دیتے ہیں۔
آج جب کشمیر کا مسئلہ نئے موڑ پر کھڑا ہے، مولانا محمد شفیع جوش کی جدوجہد ایک مینارِ نور بن کر کھڑی ہے—ایک ایسی روشنی جس کے سائے میں کشمیری قوم اپنے حق کے حصول تک قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے۔
ان کا پیغام سادہ لیکن گہرا ہے:
”آزادی کا سفر مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن کبھی نہیں۔”
یہ کالم ان کی جدوجہد، ان کی سوچ، اور ان کی ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت ہے۔
وہ جوش جنہوں نے وادی کی خاموشی کو صدا بخشی،
وہ قلم جس نے ظلم کے خلاف کردار ادا کیا،
وہ دل جو کشمیر کے ہر زخم کے ساتھ دھڑکتا رہا —
وہ رہنما تاریخ کے صفحوں پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
مولانا محمد شفیع جوش…
کشمیر کی روح کا وہ چراغ جو کبھی بجھنے والا نہیں۔ گزشتہ روز گردوں کی صفائی کے مرکز ماڈل ٹاؤن میں عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز سے حضرت مولانا محمد شفیع جوش کی ملاقات ہوئی جس میں رحمٰن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام گردوں کی صفائی کا مرکز میرپور میں قائم کرنے کے لیئے مولانا محمد شفیع جوش نے اپنی خدمات پیش کر دی اور وہ چند دنوں تک میرپور جا کر سارے انتظامات کا جائزہ لے کر اپنی مفصل رپورٹ چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز کو پیش کریں گے ان کے ہمراہ ڈائریکٹر تعلقات عامہ رحمٰن فاؤنڈیشن منشا قاضی بھی موجود ہوں گے
یہ کالم ادیب و خطیب کالم نگار منشا قاضی کی خواہش کے احترام میں لکھا گیا ۔۔






