#کالم

سو لفظوں کی کہانی

111

احساس

دوسو چھابڑی کا کام کرتا تھا،
امیدوں کے برعکس بیٹی کا رشتہ بڑے گھر میں طے ہو گیا،
لڑکے والے جدی ہشتی رئیس تھے۔۔۔
نکاح میں کیا شرائط لکھواو گے،
میں نے دوسو سے پوچھا۔
میری کیا اوقات کہ بھلا شرائط لکھوا سکوں،
بیٹی کے نصیب اچھے ہوں،
بڑے لوگ ہیں نہ جانے کیسے ہوں، دوسو نے جواب دیا۔۔۔
نکاح کس وقت آیا،
نکاح میں کیا لکھنا ہے،
مولوی صاحب نے دوسو سے پوچھا،
ایک گھر، پانچ لاکھ کے پرائز بانڈ اور تمام جیولری،
کونے سے ایک آواز آئی۔۔۔
دوسو کے بجائے، لڑکے کے والد نے مسکرا کر جواب دیا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے