ضمنی انتخابات: فتح مبارک ہو ٗ لیکن۔۔۔۔
خواجہ جمشید امام
فتح و شکت کے دن بہادروں کے معمول ہوتے ہیں۔مستقل صرف اللہ کی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گی۔”رنگ بازوں“اور شعبدہ بازوں کیلئے تاریخ میں سوائے درد ناک انجام کے ٗ کچھ نہیں ہوتا۔زندگی میں چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حاصل کرنے سے کہیں بہترہے کہ انسان بڑی جدوجہد کرتا ہوا ناکام ہو جائے کہ انسانی تاریخ بڑی شکست اور بڑی کامیابی کو ہی ضبطِ تحریر میں لاتی ہے۔ چھوٹی فتح یا چھوٹی شکست کی تاریخ میں کوئی اوقات نہیں ہوتی۔ظالموں کی تاریخ مٹ جاتی ہے یا مٹا دی جاتی ہے کہ یہ قابل ِ نفرت لوگ ہی ہوتے ہیں۔انسانوں کا یا پھر انسانوں کی امیدوں کا قاتل کبھی لائق ِ تعظیم نہیں ہوتا۔ یہ بھی اہم نہیں ہوتا کہ موقف کے ساتھ کتنے لوگ کھڑے ہیں ٗ اہم تو یہ ہے کہ آپ کا بیانیہ اتنا طاقتور ہے کہ تاریخ اُسے جگہ دے سکے؟ تاریخ آج تک شکاریوں نے لکھی ہے جس دن شیروں نے لکھنا شروع کی اُس دن معلوم ہو گا کہ شکاری کتنا بزدل اور مکار تھا۔موت سے خوف زدہ انسا ن زندگی بچانے کیلئے تگ ودو کرتا رہتا ہے لیکن پھر بھی مر جاتا ہے۔ وہ اپنے آفاقی وجود کو بچانے کی کوشش نہیں کرتا کہ مادی وجود تو بنا ہی فنا کیلئے ہے۔اگر آپ ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو کچھ ایسا لکھیں جو پڑھنے کے قابل ہو یا پھر کوئی ایسا کام کریں جو لکھنے کے قابل ہو ٗ آنے والی نسلیں یا تو آپ کو پڑھتی رہیں گی یاپھر آپ پر لکھتی رہیں گی۔بس یہی تاریخ ہے جومجھے سمجھ آئی ٗ لیکن چونکہ ہمیں یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کودہراتی ہے سو ہم بھی اُس کے دہرائے جانے میں سہولت کار بن جاتی ہیں حالانکہ بے جان تاریخ نے اپنے آپ کو کیا دہرانا ہے ٗانسان اپنی غلطیاں دہرا کر ماضی کے نتائج حاصل کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تاریخ نے اپنے آپ کو دہرا لیا۔اگر غلطیاں دہرانی ختم کردی جائیں تو نتائج اپنا وجود خود ہی تبدیل کر لیں گے کہ علت و معلول کا یہی درس ہمیں تاریخ سے ملتا ہے اورکیا خوب سبق ہے۔ایفکیٹ اینڈ ریزن نتائج سمجھنے اور سمجھانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ امام غزالی نے تو اس علمی خزانے کو یہاں تک استعمال کیا کہ معجزہ کو بھی اسی اصول سے ثابت کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ یہ سوفیصد سائنسی اصول ہے۔شعبدہ بازو ں کی اس دنیا میں کمالات کا نظر آنا اور کمالات کاہونا دو الگ الگ باتیں ہیں صرف ان کو سمجھنے کیلئے عقل درکار ہوتی ہے اورعقل رب کریم کی عطا ہے ٗ قدرت کا عطیہ ہے سو قدرت کے مخالف زور آزمائی اور قدرت کی تسخیر بھی دو الگ الگ فلسفہ حیات ہیں۔کیا آپ قدرت کو تسخیرکرنا چاہتے ہیں یا اس کے مخالف اپنا ”گفتاری فلسفہ ء حیات“ پیش کرکے ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں؟
ضمنی انتخابات کے نتائج نے مسلم لیگ ن کو فاتح کو پی ٹی آئی کومفتوح قرار دے دیا۔کیا پی ٹی آئی کبھی بھی فاتح تھی؟ کیا نون لیگ کبھی بھی فاتح تھی؟ کیا پیپلز پارٹی کو ملنے والا اقتدار کبھی بھی حقیقی عوامی طاقت کا مظہر تھا؟ میں اس کاجواب نفی یا اثبات میں نہیں دوں گا البتہ میرے سامنے پاکستانی عوام کی وہ حالت ہے جس کی بنیاد پر دنیا کی کوئی بھی عوام اپنی مرضی یا پھر منشاء ہائے عمومی اقتدار کے ایوانوں میں بھیجتی ہے۔ عوام کی حالت میرے سامنے ہے سو میں جب نتائج دیکھ کر تجزیہ کرتا ہوں تو مجھے سوائے افسوس اور حیرت کے کچھ نہیں ملتا۔سیاسی دوستیاں اور دشمنیا ں بدلتی رہتی ہیں لیکن اگر کچھ مستقل ہے تو وہ ”عوامی دکھ“ہیں اتنے مستقل کہ اُن پر ”نزولی دکھوں“ کا گمان ہونا شروع ہو جاتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ عوام ہر بار انہیں قبول و منظور کرلیتی ہے۔مسلم لیگ نون لیگ کو فتح مبارک ہو کہ یہ مبارک باد کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی پی ٹی آئی کے ہاتھ بھی لگ گئی تھی۔عمران نیازی سے واقعی اُس کے بانی اراکین نے عشق کیا ہے اوراپریل 1996ء سے لے کر اکتوبر 2011ء تک(مینار پاکستان کے جلسہ سے پہلی کی رات تک)اپنے لہو سے تحریک انصاف کے پودے کو سینچا۔یقینا یہ جدوجہد ایک نئے معاشی نظام اور دولت کی ایک نئی تقسیم کے لئے تھی لیکن جب عمران نیازی اور اُس کے نومولود ساتھی گوگیوں ٗپنکیوں اور بزداروں کی فوج سمیت اُس انقلائی نعروں کونگل گئے تو وہ لوگ بھی واپس چلے گئے جو کبھی معراج محمد جیسے انقلابی کے ساتھ پی ٹی آئی میں وارد ہوئے تھے۔ اس وقت تحریک انصاف کے زیر عتاب اراکین میں عمران نیازی ٗ عارف علوی ٗ عمر سرفراز چیمہ اور اسد قیصر کے علاو ہ کوئی بھی بانی رکن نہیں ہے اور یہ پانچوں بھی وہ ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔پی ٹی آئی کی شکست ٗ اس کے سیاسی رویے ٗ بیانیے سے انخراف اور سیاسی پروگرام سے غداری تھی لیکن اس کے باوجود عمران نیازی کی سیاسی اور اخلاقی شکست سے پیپلز پارٹی یانون لیگ کا اقتدار جسٹیفائی نہیں ہو جاتاکہ عوام دکھی ہیں۔میرے سامنے اس وقت ایک راجہ بیٹھا ہے جو اب بھکاری بن چکا ہے۔ داتا دربار کے ماسٹر پلان کیلئے ٗ 1993ء اُس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جگہ خالی کروائی لیکن بندہ پروری یہ کی کہ راجہ اصغر کو سرکلر روڈ بھاٹی گیٹ کی گرین بیلٹ پر ساڑھے پانچ مرلے جگہ دیدی ٗ جگہ قیمتی تھی اور نوسرباز زیادہ ٗ سو وہ گزشتہ تینتیس سال سے نوسربازوں کے ساتھ اس خالی پلاٹ کیلئے لڑتے لڑتے نڈھال ہو چکا تھا ٗ جوان بیٹیاں لئے وہ اک عرصہ سے سمن آباد لاہور میں سرچھپائے بیٹھا ٗ اُس چار دیواری کی حفاظت کررہا تھا جو کبھی اُس بندہ پرور میاں محمد نواز شریف نے دی تھی لیکن پھر اطلاع ملی کہ راجہ اصغر ایک بار پھر کسی ”ماسٹر پلان“ کی نذر ہو چکا ہے اور اس بار یہ تیر اسی کمان سے نکلا ہے جس نے راجہ اصغر کو 1993ء میں شدید زخمی کردیا تھا۔راجہ کی چار دیواری مسمار ہوچکی ۔ میڈیم چیف منسٹر ٗ ہماری بہن ہیں ٗ بیٹی ہیں لیکن راجہ






