اب مرغے نہیں لڑیں گے
صدا بصحرا
رفیع صحرائی
۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت پنجاب نے مرغوں کی لڑائی کے مقابلے کرانے والوں کو 15 سال تک قید کی سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم نہ صرف جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی طرف ایک مضبوط پیش رفت ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ، جوا، تشدد اور غیر قانونی ہتھیاروں کے کلچر کو روکنے کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔ حکومت کا یہ اعلان آئینی اور اخلاقی سطح پر ایک مثبت پیش رفت ہے جو مستقبل میں دوسرے جانوروں سے متعلق بنانے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
مرغوں کی لڑائی جنوبی ایشیا میں ایک قدیم تفریح تصور کی جاتی رہی ہے۔ ابتدا میں یہ نوابی شوق تھا۔ خاص طور پر لکھنوی تہذیب میں جہاں ادبی ذوق خوب پروان چڑھا وہیں پر مرغ بازی، بٹیربازی اور کبوتربازی بھی اس تہذیب کا خاصا تھے۔ ابتدا میں اسے طاقت کے مظاہرے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ طاقت ور لوگوں کا یہ خاص شغل ہوتا تھا کہ وہ خود ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پنجہ آزمائی نہیں کرتے تھے۔ وہ کتوں کی لڑائی، کبوتروں کی اڑان اور مرغوں کی لڑائی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھایا کرتے تھے۔ آج کل تھوڑی ترقی ہو گئی ہے۔ اب بڑے لوگ جانوروں والا کام انسانوں سے لینے لگے ہیں۔ آپ ہمارے سیاست دانوں ہی کو لے لیجیے۔ ان کے ورکرز اور پیروکار وحشی جانوروں کی طرح ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری بھی کرتے ہیں، پُرتشدد مظاہرے بھی کرتے ہیں اور مرغوں کی طرح ایک دوسرے کو لہولہان بھی کر دیتے ہیں۔ اپنے لیڈر کی خاطر کئی ورکرز موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔ بعد میں ان کے زیرِ کفالت افراد اور پورے خاندان کو ان کی بے لوث محبت اور قربانی کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے جن کا کوئی پرسانِ حال بھی نہیں ہوتا۔ یہ ورکرز ٹشوپیپر کی طرح استعمال ہونے کے بعد مسل کر پھینک دیئے جاتے ہیں۔
مرغوں کی لڑائی مقامی میلوں کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھی۔ اسے ابتدا میں تفریح کے طور پر ہی لیا جاتا تھا جب مالکان صاف ستھری جیت پر یقین رکھتے تھے۔ نامناسب ذرائع کا استعمال کر کے جیتنے کو برا سمجھا جاتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح اس صاف ستھرے کھیل میں بھی جیت کو انا کا مسئلہ بنا لیا گیا۔ ابتدا مرغوں کی چونچیں اور پنجے تیز کرنے سے ہوئی۔ پھر ایسا بھی ہونے لگا کہ ان لڑاکا مرغوں کے پنجوں کے ساتھ باریک مگر تیز دھار بلیڈ باندھے جانے لگے۔ یہ کھیل تفریح کے بجائے ظلم بن گیا جس کے اصل فریق یعنی مرغے ہی مظلوم ہوتے۔
جانوروں پر ظلم ایک نظرانداز شدہ حقیقت ہے۔ لڑائی میں اکثر مرغے شدید لڑائی کے بعد اپاہج ہو جاتے ہیں، بعض تو مر بھی جاتے ہیں۔ کئی مرغوں کی آنکھیں چلی جاتی ہیں۔ مرغوں کی لڑائی اب کھیل نہیں رہا بلکہ یہ ایک غیرسرکاری انڈسٹری بن چکی ہے۔ لڑاکا مرغوں کو ہارمونز دیئے جاتے ہیں۔ انہیں خاص خوراک کھلائی جاتی ہے جو ان میں جارحانہ پن پیدا کرتی ہے۔ انہیں طاقت بڑھانے والی ادویات دی جاتی ہیں۔ اب تو پروفیشنل ٹرینرز بھی میدان میں آ چکے ہیں جو ان مرغوں کو لڑائی کی تربیت دیتے ہیں۔ لڑاکا مرغے کی لڑنے کی صلاحیت کے مطابق اس کی قیمت لاکھوں میں لگائی جاتی ہے۔
دیہات میں مرغوں کی لڑائی کے باقاعدہ ٹورنامنٹس منعقد کیے جاتے ہیں جہاں دور دراز سے مرغ لڑانے والے پہنچتے ہیں۔ اس موقع پر تماشائیوں کا بھی بے پناہ رش ہوتا ہے جو اپنے پسندیدہ مرغوں پر شرطیں لگاتے ہیں۔ ایک ایک لڑائی پر لاکھوں کا جوا ہوتا ہے۔ ہر ایک جواری کی خواہش ہوتی ہے کہ جس مرغے پر اس نے رقم لگائی ہے وہی مرغا جیتے۔ یوں کچھ روپوں کی خاطر یہ شائقین بھی اس ظالمانہ اور سفاکانہ کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں۔ مرغے لڑ لڑ کر اپنے ہی خون میں نہا جاتے ہیں لیکن یہ ظالم اس سے بھی مزا لیتے ہیں اور زخمی کرنے والے مرغے کو داد دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان مقابلوں کے دوران بات زبانی تلخی سے شروع ہو کر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے جو مزید بڑھ کر خونیں لڑائے جھگڑے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسلحہ نکل آتا ہے اور مرغوں کی لڑائی کا میدان قتل گاہ بن جاتا ہے۔ مرغوں کی لڑائی کھیل کی بجائے اب ایک تماشا، ایک قانون شکن کلچر بن گیا ہے۔ یہ کھیل زیادہ تر غیر قانونی جوا گروہوں کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔ یہ ظلم محض "تفریح” یا "روایت” کے نام پر دہائیوں سے جاری ہے۔ بظاہر یہ تمام کام قانون سے چھپ کر ہوتے ہیں مگر حقیقت میں پولیس کی سرپرستی کے بغیر ان ٹورنامنٹس کا انعقاد ممکن ہی نہیں۔
پنجاب سرکار نے مرغوں کی لڑائی پر پابندی لگا کر مثبت قدم اٹھایا ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ اس سے جانوروں کے حقوق کے تحفظ مل سکے گا، جوئے کی روک تھام ہو گی، غیر قانونی ہتھیاروں کے خاتمے میں مدد ملے گی اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کی روک تھام ہو سکے گی۔ بچے اور نوجوان تشدد پسند رویّے کے اسیر ہونے سے بچ جائیں گے نیز معاشرتی اقدار پروان چڑھانے میں یہ حکومتی اقدام مددگار ثابت ہو گا۔
مرغوں کی لڑائی پر پابندی کا یہ حکومتی اعلان آئینی اور اخلاقی سطح پر ایک مثبت پیش رفت ہے جو مستقبل میں مزید جانوروں سے متعلق قوانین کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ حکومت نے تو اپنے حصے کا کام کر دیا ہے۔ عوام کو بھی اب اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مرغوں پر ظلم و ستم روکنے کے لیے یہ ہماری سماجی ذمہ داری ہے کہ ایسے مقابلوں کی اطلاع مقامی انتظامیہ کو دیں۔ بچوں کو جانوروں پر رحم اور ہمدردی کا سبق سکھائیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلائیں۔ جانوروں کے حقوق کے اداروں کی مدد کریں۔ اپنے علاقوں میں اس کلچر کے خلاف آواز اٹھائیں۔
"کسی بھی معاشرے کی حقیقی تہذیب کا اندازہ اس بات






