#کالم

نظریۂ ضرورت سے نظریۂ بنیادی آئینی ساخت تکستائیسویں آئینی ترمیم کا قانونی ، منطقی اور سیاسی تجزیہ

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخار الحق

پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی گورنر جنرل ملک غلام محمد نے ستمبر 1954 میں کلیتاً غیر قانونی اور آمرانہ انداز میں تحلیل کر دی اور اس وقت کی سپریم / فیڈرل کورٹ نے ایک نرالی منطق “ نظریۂ ضرورت “ کے تحت اس اقدام کو جائز قرار دے کر سیاسی عدم استحکام کی مستحکم بنیاد رکھ دی ۔بعد میں نظریۂ ضرورت نامی تلوار نے متعدد غیر جمہوری اور غیر آئینی حکومتوں کے سر قلم کردیے ۔ یوسف رضا گیلانی کیس کی شنوائی کے بعد 2012 میں سپریم کورٹ نے اسے “ ہمیشہ کیلئے دفن “ کر دیا لیکن اس بابت پارلیمنٹ نے کوئی قانون سازی نہیں کی ۔تاریخِ عالم میں اس نظریے کو ایک انگریز قانون دان مصنف ہنری ڈی بیکٹن نے یہ لکھ کر متعارف کرایا :” وہ عمل جو عمومی طور پر غیرقانونی ہوتا ہے، حالات کی “ضرورت “کے تحت قانونی ہو جاتا ہے۔”
اس کے بعد تھامس ہابز، جون لاک اور ولیم بلیک سٹون جیسے عظیم ماہرینِ قانون نے اس نظریے پر وقیع کام کیا لیکن جدید نظامِ عدل میں اسے دو دھاری تلوار کے طور پر لیا جاتا ہےاور معدودے ممالک میں ہی اس سے “ استفادہ “ کیا جاتا ہے ۔
بدقسمتی سے پاکستان میں نظریۂ ضرورت کے 1954 میں پہلی بار استعمال نے ایک طرف عالمی شہرت پائی تو دوسری جانب اس نے عدلیہ کی آزادی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا جو وقت کے ساتھ پرورش پاتے ہوئے اتنے قدآور ہوگئے کہ 2025 میں یہ سب مل کر جب “ آئین کی بنیادی ساخت کے نظریے “ کی شکل اختیار کر گئے تو ایک بار پھر جیسے پوری قوم گویا ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔ اکتوبر 2024 میں عدلیہ کے اختیارات میں تبدیلی کے نام پر 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے بعد نومبر 2025 میں غیر معمولی عجلت کے ساتھ 27ویں آئینی ترمیم کی گئی جس نے اعتراضات اور مباحث کا گویا ایک پینڈورا باکس کھول دیا ہے ۔ غالباً ایسا ہونا ہر صاحبِ شعور و مطالعہ کے لیے ہرگز غیر متوقع نہیں تھا ۔یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتاہے کہ اس اہم اور متنازعہ فیصلے پر احتجاجی اور دفاعی دلائل کا ایک طویل سلسلہ ابھی کافی دیر چلے گا تآنکہ عدالتِ عالیہ اس کے خلاف از خود کوئی کاروائی نہیں شروع کرتی ( جس کا بظاہر امکان صفر کے قریب ہے ) یا ماضی کی طرح ایسے معاملات پر وکلا تحریک شروع نہیں ہوجاتی ۔ حکومتی حلقے اور اس ترمیم کے دیگر حامی 27 ویں ترمیم کے جواز میں آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 اور 5 کو پیش کرنے میں مسلسل مصروف ہیں ۔
اس موضوع پر گفتگو کا تقاضا ہے کہ پہلے ہمیں پوری طرح 27 ویں آئینی ترمیم کے مشمولات کا علم ہو تاکہ اس سے متعلق ممکنہ پیچیدگیوں پر سوالات اٹھائے جا سکیں ۔ چونکہ اس تحریر کا مقصد ریاست کے تین ستونوں کے باہمی تعلق کا تجزیہ کرنا ہے تو متذکرہ ترمیم کے صرف انھی پہلوؤں کا حوالہ دینا مناسب ہوگا ۔ اس ترمیم میں موجود دیگر اداروں اور عہدوں کی بابت قانون سازی ایک بالکل الگ موضوع ہے۔
اس ترمیم کے تحت ایک نئی اعلیٰ عدالت ، وفاقی آئینی عدالت / Federal Constitutional Court بنائی گئی ہے جو آئین کی تشریح ، عوام کے بنیادی حقوق اور مرکز اور صوبوں کے مابین اختلافی نوعیت جیسے مقدمات کو نمٹائے گی ۔شاید اس خصوصی عدالت کا نام کچھ اور ہونا چاہیئے تھا کیونکہ اس کے عنوان سے یوں لگتا ہے جیسے دیگر عدالتیں خدانخواستہ غیر آئینی ہیں ۔مثلاً خصوصی وفاقی عدالت سمیت کئی بہتر متبادل نام ممکن تھے ۔
خیر اب سپریم کورٹ صرف دیوانی و فوجداری مقدمات کا آخری فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی اور آئینی تشریح اور ازخود نوٹس لینے / Suo motu والے اختیارات اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں رہیں گے ۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور بقیہ ججوں کی تقرری وزیرِ اعظم کی مشاورت سے صدرِ پاکستان کیا کریں گے ۔اسی طرح سپریم جوڈیشل کونسل میں انتظامیہ / ایگزیکٹو اور عدلیہ / جوڈیشری جو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی کرتی ہے ، کا تناسب انتظامیہ کے حق میں زیادہ ہوگا ۔سربراہِ مملکت کو ہر قسم کے فوجداری مقدمات سے تاحیات استثنا / Lifelong immunity حاصل ہوگا ۔
بغور مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ 27 ویں ترمیم سے 1973 کے آئین کی بنیادی ساخت براہِ راست متاثر ہوئی ہے ۔ اب آرٹیکل 184 ، جو اعلیٰ عدلیہ کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار دیتا تھا ، وہ غیر موثر شمار ہوگا ۔ اسی طرح وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ کو آرٹیکل 186 کے تحت حاصل مشاورتی قوت بھی ختم تصور ہوگی ۔آرٹیکل 191 A کے ذریعے سپریم کورٹ مقدمات کو دیگر عدالتوں میں منتقل کرتی تھی ۔ متعلقہ ترمیم کے مطابق اس کی جگہ آرٹیکل 186 A لا کر یہی اختیار وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
اب ان سوالوں کی طرف آتے ہیں جو اس ترمیم کی منظوری سے پیدا ہوتے ہیں ۔ آرٹیکل 8 صراحت سے کہتا ہے کہ کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہوں ۔ کیا 27 ویں ترمیم کے بعد یہ آرٹیکل بھی حذف ہو جائے گا کیونکہ سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس لینا بنیادی حقوق کا جزوِ لازم ہے ؟ بعینہِ آرٹیکل 175 واشگاف انداز میں مکمل طور پر آزاد عدلیہ کی ضمانت دیتا ہے ۔ کیا وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری انتظامیہ کے حوالے کرنے سے یہ آزادی مجروح نہیں ہوگی ؟ عدلیہ ریاست کا ایک ستون ہے اور انتظامیہ کے تحت کام کرنے والا ادارہ نہیں ہے۔ آرٹیکل 227 کے مطابق پارلیمنٹ اس امر کی پابند ہے کہ کوئی قانون قرآن اور سنّت/ شریعتِ مطہرہ کے منافی نہیں بنایا جائے گا ۔ رسولِ کریم جو انسانی تاریخ کے عظیم ترین قانون ساز ہیں ، ان کی تعلیمات کے مطابق خلفائے راشدین نے ہمیشہ عدلیہ کو انتظامیہ سے آزاد رکھا ۔ کیا 27 ویں ترمیم کے وہ حصے جن میں واضح طور پر عدلیہ پر انتظامیہ کی برتری منظور کی گئی ہے ، شریعتِ مطہرہ کی صریحاً خلاف ورزی نہیں کریں گے ؟ ان سوالوں کے ممکنہ جوابات دینے کے لیے دیکھتے ہیں کہ آئین میں پارلیمنٹ کے ترمیم سازی کے دائرۂ کار کی بابت پاکستانی اور

نظریۂ ضرورت سے نظریۂ بنیادی آئینی ساخت تکستائیسویں آئینی ترمیم کا قانونی ، منطقی اور سیاسی تجزیہ

اب مرغے نہیں لڑیں گے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے