#کالم

چئف منسٹر کا ویژن، جدید پاکستان, الیکٹرک گاڑیوں کا سفر شروع

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر: محمد ندیم بھٹی

لاھور گلبرگ کی روشن اور دلکش شام میں ایم جی سٹی موٹرز کی جانب سےEV جدید نئی تیز ترین طرز U9 الیکٹرک و ڈیزل گاڑیوں کی لانچنگ تقریب صرف ایک کار شو نہیں تھی، بلکہ یہ اُس سوچ، اور اُس مستقبل کی جھلک تھی جسے آج کا پاکستان معاشی، تکنیکی اور ماحولیاتی اعتبار سے اختیار کرنا چاہتا ھـے۔ محترم وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن، ایم جی سٹی موٹرز کے سی ای او انجینیئر عباس علی خان اور سینئر صحافی محمد ندیم بھٹی کی جانب سے اس شاندار تقریب کا افتتاح دراصل اُس نئے سفر کی علامت تھا جس میں پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ دنیا کے معیار کو نہ صرف چھونا بلکہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا عزم رکھتا ھـے۔
تقریب میں شریک آٹو ایکسپرٹس، بڑے کاروباری افراد، نوجوان ٹیکنالوجی لورز اور مخصوص کار شوقینوں کا جذبہ اس بات کی گواھی دے رھا تھا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل روشن ھـے۔ یہ صرف ایک گاڑی نہیں، بلکہ ایک ٹرینڈ، ایک سوچ اور ایک راستہ ھـے جو ترقی، بچت، صاف ماحول اور نئی معیشت کی طرف لے جاتا ھـے۔ U9 گاڑی کے اسمارٹ انٹیرئیر، سیفٹی سسٹم، اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی اور ہائی پرفارمنس کا جو براہِ راست ڈیمو دیا گیا اُس نے حاضرین کو حیران کر دیا۔ پہلی مرتبہ کئی لوگوں نے یہ جانا کہ ایک مکمل الیکٹرک گاڑی کس قدر طاقتور، خاموش، تیز اور ماحول دوست ھو سکتی ھـے۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ جدید آٹوموبائل ٹیکنالوجی کا فروغ صوبے میں سرمایہ کاری کے ساتھ روزگار، مقابلے کے نئے مواقع اور معاشی سرگرمیوں کو بڑھا رھا ھـے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے، بیٹری ٹیکنالوجی کو اپنائے اور حکومتی سطح پر مضبوط تعاون فراہم کیا جائے تو پاکستان کی آٹو انڈسٹری نئی بلندیوں کو چھو سکتی ھـے۔ دنیا تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف جا رھی ھے اور پاکستان اس دوڑ میں شامل ھونے کا حوصلہ رکھتا ھـے۔ حکومت ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے، ٹیکس مراعات دینے، درآمدی ڈیوٹیز کم کرنے اور صنعتکاروں کے لئے سہولتیں پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے رھی ھـے۔
ایم جی سٹی موٹرز کے سی ای او انجینئر عباس علی خان نے تقریب میں بتایاکہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل اس وقت بہت مضبوط ھوگا جب صارفین کو معیاری گاڑیاں مناسب قیمت پر دستیاب ھوں گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ایم جی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی تیاری کے لئے نہ صرف منصوبہ بندی کر رھی ھـے بلکہ پرزہ جات کی لوکل مینوفیکچرنگ پر بھی سنجیدگی سے کام کیا جا رھا ھـے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ھـے کہ پاکستان درآمدی انحصار سے نکل کر خودکفالت کی طرف بڑھے تاکہ صارفین کو کم قیمت، معیاری اور جدید ترین گاڑیاں دستیاب ھوں۔
چیف گیسٹ سینئر صحافی محمد ندیم بھٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اسموگ فری اور سموک فری سٹی ویژن کو مستقبل کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لاھور جیسے بڑے شہروں میں اسموگ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رھا ھـے اور اگر حکومت ماحول دوست پالیسیوں کو مناسب انداز میں آگے بڑھائے تو الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ آلودگی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ھـے۔ U9 جیسی بیٹری پر چلنے والی گاڑیاں اس ویژن کے عین مطابق ھیں اور مستقبل کے پاکستان کی حقیقی ضرورت بھی یہی ھـے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھنے سے نہ صرف اسموگ کم ھوگی بلکہ صحت، معاشی سرگرمیوں اور شہری زندگی کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔
ایونٹ کے دوران کمپنی کے صدر انجینئر عباس علی خان، آور معاونیں مظہر بھٹی، محمد عمر اور زبیر ضیا سے بیٹری ٹیکنالوجی، کار کی طاقت، اسمارٹ فیچرز، مارکیٹنگ حکمت عملی اور سیلز کے بعد کی سروس کے بارے میں خصوصی گفتگو ھوئی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی صارف اب تیزی سے جدت بدل رھا ھـے۔ اب لوگ صرف گاڑی نہیں لیتے بلکہ ٹیکنالوجی، سیفٹی، فیول بچت اور کم مینٹیننس کو ترجیح دیتے ھیں۔ الیکٹرک گاڑیاں ان تمام خصوصیات پر پوری اترتی ھیں اور یہی وجہ ھـے کہ آنے والے وقت میں ان کی مانگ کئی گنا بڑھ جائے گی۔
پاکستان کی معیشت کے لئے الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی تیاری ایک سنہری موقع ھـے۔ اگر یہ صنعت پاکستان میں مضبوط بنیادوں پر کھڑی ھو جائے تو اربوں ڈالر کی درآمدات کی بچت ممکن ھے۔ نوجوانوں کے لئے اس شعبے میں ٹیکنیکل اسکلز، آر اینڈ ڈی، بیٹری ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ کے بے شمار روزگار کے مواقع پیدا ھو سکتے ھیں۔ دنیا کے بڑے ممالک نے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے آٹو انڈسٹری کو ستون بنایا، اور آج پاکستان کے پاس بھی وھی موقع موجود ھـے۔
اسی لئے پاکستانی ضرورت کے پیشِ نظر اگر اس ٹیکنالوجی کو مورِس گیج کی طرز پر دنیا کی جدید، سستی اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی سطح پر تیار کیا جائے تو یہ نہ صرف گاڑی کی قیمت کم کرے گا بلکہ عام آدمی کی دسترس میں بھی لائے گا۔ اگر پاکستان بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرک موٹرز، سافٹ ویئر اور پرزہ جات کی تیاری میں سرمایہ کاری کرے تو یہ شعبہ آنے والے صرف پانچ برسوں میں ملکی معیشت کا سب سے مضبوط پہیہ بن سکتا ھـے۔ جس سے انفلیش می کمی لازم پہلو ھے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا سموگ فری شہر کا ویژن کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے معیار کا ویژن ھـے۔ یہ صرف کاغذوں پر لکھی پالیسی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ایک شکل ھـے۔ اگر حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر سبسڈی دے، چارجنگ اسٹیشنز کا جال بچھائے، انڈسٹری کے لئے خصوصی پیکیجز دے اور مینوفیکچرنگ یونٹس کو آسانی فراہم کرے تو پاکستان نہ صرف آلودگی کے خلاف جنگ جیت سکتا ھـے بلکہ معاشی ترقی کی دوڑ میں بھی آگے بڑھ سکتا ھـے U9 کی لانچ صرف ایک گاڑی کا ایونٹ نہیں بلکہ یہ علامت ھـے کہ پاکستان کا یہ جدید سفر محترمہ مریم نواز کی پاکستان کی عوام سے بے حد

چئف منسٹر کا ویژن، جدید پاکستان, الیکٹرک گاڑیوں کا سفر شروع

وہ چلے گئے ،ہم ھیں تیار

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے