شالیمار لنک روڈ پر ٹریفک کا دباؤ اور مغلپورہ نہر پل کی اصلاح کی اشد ضرورت
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
لاہور کی سڑکیں اس شہر کی علامت بھی ہیں اور اس کی سانسیں بھی۔ روزانہ لاکھوں لوگ ان سڑکوں پر سفر کرتے ہیں، اپنا وقت، محنت، روزگار اور زندگی کا ایک حصہ انہی راستوں پر گزار دیتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی سڑکیں جب بدنظمی، بے ہنگم ٹریفک، تجاوزات اور ناقص منصوبہ بندی کی زد میں آجائیں تو پورا شہر اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ شالیمار لنک روڈ آج انہی سڑکوں میں سے ایک ہے—یا شاید سب سے زیادہ برباد شدہ سڑک—جو شہری منصوبہ بندی کی ناکامی کا کھلا ثبوت بن کر روزانہ ہزاروں لوگوں کے لیے دردِ سر اور جان کا خطرہ بنی ہوئی ہے۔مغلپورہ چوک سے شالیمار باغ تک پھیلی یہ سڑک کبھی ایک آسان گزرگاہ تھی، مگر آج یہاں کا منظر ایک مستقل بحران کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ٹریفک کا بے قابو بہاؤ، غیر قانونی تجاوزات، بے ترتیب دکانیں، ریڑھیاں، ٹھیلے، اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے سڑک کو اتنا تنگ کر دیا ہے کہ اب اس پر سفر کرنا کسی امتحان سے کم نہیں رہا۔ فٹ پاتھ جن کا مقصد پیدل چلنے والوں کی حفاظت ہوتا ہے، مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ کہیں دکانیں فٹ پاتھوں پر قبضہ کیے بیٹھی ہیں، کہیں ریڑھی والے گزرگاہ کے بیچوں بیچ اپنی دنیا آباد کیے بیٹھے ہیں۔ شہری مجبور ہیں کہ سڑک کے درمیان سے گزریں اور موٹر سائیکلوں، رکشوں اور گاڑیوں کے درمیان اپنی جان بچانے کی کوشش کریں۔شالیمار لنک روڈ پر ٹریفک جام اب کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک معمول ہے۔ دن کا کوئی وقت ایسا نہیں جب یہاں ٹریفک رواں دواں نظر آئے۔ صبح کے اوقات میں اسکول جانے والے بچوں، دفتروں کا رخ کرنے والے ملازمین اور خواتین کو قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوپہر اور شام کے اوقات میں تو یہ سڑک مکمل طور پر جام ہو جاتی ہے، جیسے کسی نے راستے میں کنکریٹ کی دیوار کھڑی کر دی ہو۔ ٹریفک کا یہ دباؤ نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ایک مسلسل ذہنی اذیت بھی ہے جو شہریوں کو تھکا دیتی ہے۔
اس بدنظمی کا سب سے خطرناک پہلو روزانہ ہونے والے حادثات ہیں۔ بے ہنگم ٹریفک کے درمیان معصوم بچے، خواتین اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سڑک پار کرنے کا کوئی محفوظ طریقہ موجود نہیں۔ ٹریفک اشارے یا تو خراب ہیں یا ان کی پابندی کوئی نہیں کرتا۔ وارڈنز کبھی کبھار نظر آتے ہیں مگر ان کی تعداد اس قدر کم ہے کہ وہ حالات کو قابو میں نہیں رکھ پاتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حادثات معمول بن چکے ہیں —کوئی زخمی ہوتا ہے، کوئی گرتا ہے، کوئی رکشے کے نیچے آجاتا ہے، کوئی موٹر سائیکل کی زد میں۔ مگر افسوس کہ انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔نہر پر واقع پل اس سڑک کی بدنصیبی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ یہ پل ایسے ڈیزائن کے ساتھ بنایا گیا ہے جو ٹریفک کے تمام چیلنجز کو حل کرنے کے بجائے مزید بڑھاتا ہے۔ پل صرف شالیمار لنک روڈ سے چڑھ کر صدر گول چکر کے قریب اترتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے چاروں سمتوں —مغلپورہ، شالیمار، ہربنس پورہ اور صدر—کی ٹریفک کے لیے قابلِ استعمال بنایا جا سکتا تھا۔ ایک پل جو پورے علاقے کی ٹریفک کو تقسیم کر کے دباؤ کم کر سکتا تھا، وہ اب ایک تنگ ناقص راستہ بن کر روزانہ ہزاروں گاڑیوں کو بلاوجہ جھنجھوڑتا ہے۔ اگر یہی پل مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیر ہوتا اور اس کے لنک روڈز چاروں اطراف تک پہنچتے تو شالیمار لنک روڈ کی آدھی پریشانی خود بخود ختم ہو جاتی۔یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور کی شہری منصوبہ بندی میں دور اندیشی کی شدید کمی ہے۔ مسئلہ صرف سڑک کی نہیں، مسئلہ اس سوچ کا ہے جو شہر کو چلانے والوں میں موجود ہی نہیں۔ تجاوزات صرف اسی لیے پنپتی ہیں کہ انہیں پنپنے دیا جاتا ہے۔ دکانداروں کو کھلی چھوٹ مل جائے، ریڑھی والوں کو کوئی روکنے والا نہ ہو، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ ہو، اور حکومت صرف تصویری کارروائیوں پر اکتفا کرے تو نتیجہ وہی ہوتا ہے جو شالیمار لنک روڈ کی شکل میں نظر آتا ہے۔
شالیمار لنک روڈ سے گزرنے والا ہر شہری اس بات کا گواہ ہے کہ یہاں پر انتظامیہ کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ وارڈنز کی عدم موجودگی، ٹریفک کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ نہ ہونے کے برابر، اور تجاوزات کے خلاف وقتی کارروائیاں —یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔ شہریوں کا وقت، صحت، اور سلامتی سب کچھ روزانہ اس بدنظمی کی نذر ہو رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سڑک خراب کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ اسے ٹھیک کیوں نہیں کیا جا رہا؟ پہلے بھی راقم کئی مرتبہ حکومت پنجاب، چیف سیکریٹری اور کمشنر لاہور سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرچکا ہے۔ اگر اس سڑک کو ابھی ٹھیک نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔حل سیدھا اور واضح ہے: شالیمار لنک روڈ کو تجاوزات سے پاک کیا جائے، اس کی چوڑائی میں اضافہ کیا جائے، دونوں اطراف فٹ پاتھ بحال کیے جائیں، ٹریفک کے جدید نظام نصب کیے جائیں، وارڈنز کی تعداد بڑھائی جائے اور سب سے بڑھ کر نہر کے پل کو مکمل طور پر فعال اور چاروں سمتوں کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ یہ اقدامات نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم کریں گے بلکہ شہریوں کی زندگی آسان بنا دیں گے۔مغلپورہ چوک سے لے کر شالیمار باغ تک شالیمار لنک روڈ شہریوں کے لیے اذیت کا گڑھ بن چکا ہے۔ سڑک پر نہ پیدل چلنا ممکن ہے اور نہ سڑک پار کرنا محفوظ۔شالیمار لنک روڈ کے دونوں جانب گنجان آبادی اور دکانوں کے باعث سڑک شدید تنگ ہو چکی ہے۔ناجائز تجاوزات اور غیر قانونی اسٹالز نے فٹ پاتھوں اور سڑک کے ایک بڑے حصے کو نگل لیا ہے۔مختلف سمتوں سے آنے والی بے ہنگم ٹریفک کی بھرمار کے باعث آئے روز حادثات رونما ہو رہے ہیں۔خواتین، بچے اور بزرگ سڑک






