#کالم

کردار اور تخلیق

Untitled 5 1

. احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

جاپان ایمانداری اور سماجی اخلاقیات میں دنیا کے لیے مثال بن چکا ہے اور ہم اخلاقی درجہ بندی میں کہیں دود دھند میں بھی دکھائی نہیں دیتے ۔دو ایٹم بموں سے تباہی کے باوجود آج جاپان نے اخلاق کو قانون نہیں بلکہ ثقافت بنادیا ہے ۔جاپان میں ایمانداری کتابوں یا صرف مذہب میں نہیں ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں گھلی ہوئی ہے  بچوں کو تیسری جماعت تک کوئی کتاب نہیں پڑھائی جاتی صرف تربیت کی جاتی ہے ۔انہیں شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جھوٹ اورچوری اپنی ذات کی توہین  ہوتی ہے معاشرے کی نہیں ہوتی ۔جاپانی معاشرہ انفرادی ذمہ داری پر کھڑا ہے ۔ہر فرد اپنی صفائی ،اپنا کام ،اپنی ایمانداری کو خود سے شرمندگی اور عزت سے جوڑ کر دیکھتا ہے یعنی اگر وہ بےایمانی کرۓگا تو پورا ملک ہی نہیں وہ خود بھی بدنام ہوتا ہے ۔ہم اخلاق کی بات کرتے ہیں  تو وہ اخلاق کورائج کرتے ہیں ۔جاپان میں خود احتسابی کو قومی اصول سمجھا جاتا ہے ۔جاپان میں قوم پہلے اور فرد بعد میں کی سوچ جنم لے چکی ہے ۔جاپانی ملکی مفاد کے لیے اپنی خواہش قربان کرنے پر تیار رہتے ہیں ۔جاپان میں ایمانداری کوئی معجزہ نہیں بلکہ یہ سو سالہ  مستقل تربیت ،انصاف پر مبنی نظام اور کردار کی اجتماعی تعمیر کا جذبہ ہے ۔ہر شعبہ زندگی میں بات کم اور عمل زیادہ  دکھائی دیتا ہے ۔وہ اپنی بات کو اپنے کردار سے ثابت کرتے ہیں ۔ جو وہ کہتے ہیں وہی وہ کرتے ہیں ۔غیر مسلم ہونے کے باوجود  ان کے قول وفعل میں دور دور تک تضاد نظر نہیں آتا ۔

قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ "اۓ ایمان والو  تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟یہ اللہ کے نزدیک سخت ناپسند یدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں ” ( سورۃ الصف)اسلامی تعلیمات میں اس تضاد کی سخت مذمت سامنے آتی ہے کہ ہم جو بات  دوسروں کے لیے کرتے ہیں اس پر خود عمل نہیں کرتے ۔ہمارے اخلاقی اقدار اور عمل کا سوشل میڈیا کے  اس جدید دور میں  تضاد  بڑھتا جارہا ہے ۔لکھنے اور بولنے والوں کی بھرمار اور ان کی تقاریر اور تحریریں بہت پر اثر اور متاثر کن ہوتی ہیں ۔سوشل میڈیا پر مذہبی اور اخلاقی مواد پوسٹ کرنا یا شیئر کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے ۔بس ا یک کلک یا ٹچ   کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کے مقابلہ میں ان اقوال ،تقاریر اور تحریروں  کو اپنی زندگی میں لاگو کرنا اپنے کردار اورعمل میں ڈھالنا ایک مشکل اور مسلسل جدوجہد کا کام ہے ۔ہم اس طرح کی تخلیقات سے لوگوں کی توجہ ،لائکس ،کمنٹس اور فالورز  کے حصول کے لیے اچھی اور جذباتی باتیں ،تحریریں اور پوسٹ کرتے ہیں ۔مگر ان کا مقصد اصلاح ذات کی بجاۓ سماجی حیثیت یا اپنی قابلیت کی تصدیق  حاصل کرنا ہوتا ہے ۔اور پڑھنے والے بھی صرف ہماری پوسٹ کو سراہاتے ہیں ہمارے کردار کو کبھی نہیں دیکھتے ۔لوگ اسے نیک عمل  تو سمجھتے ہیں لیکن اپنے نجی عمل کو اس سے الگ رکھتے ہیں ۔یہ وہ اخلاقی کمزوری ہے جہاں زبان اور دل کا عمل ایک نہیں ہوتا ۔ہم مذہب اور اخلاق کی تصویر تو اچھی پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں اس کے تقاضے پورے نہیں کرتے ۔شاید ہم دنیا کو خوش کرنے کی کوشش میں خود کو کھو دیتے ہیں ۔میں نے دیکھا ہے کہ ایسے لوگ جو دوسروں کو تو جینے کا طریقہ بتاتے ہیں مگر جب وہ خود ہنستے ہیں تو ان کی آنکھوں کے کنارے بھیگ جاتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ جو تکلیف تم خود برداشت نہیں کرسکتے وہ کسی اور کو بھی مت دو۔اس سے ہمارے کردار اور تخلیق میں تضاد واضح ہوتاہے ۔کہنا اور کرنا دو الگ دنیائیں ہیں ۔کہنا علم ہے جبکہ کرنا تربیت ،کہنا سوچ ہے جبکہ کرنا قربانی ،کہنا تخلیق ہے جبکہ کرنا کردارہوتا ہے ۔

کہتے ہیں کہ کردار اندر کاسچ ہے اور تخلیق باہر کی تصویر ہوتی ہے ۔کردار وہ ہے جو انسان باطن میں رکھتا ہے یعنی نیت ،اخلاق ،احساس اور ایمان اور تخلیق وہ ہےجو انسان ظاہر میں بتاتا ،کہتا اور لکھتا ہے یعنی الفاظ ،اعمال اور فیصلے کا الگ ہونا ۔اندر اور باہر میں ہمیشہ فاصلہ رہتا ہے ۔انسان کی نیت پاک ہو سکتی ہے مگر عمل کمزور یا کبھی عمل مضبوط ہوتا ہے مگر نیت کمزور ہوتی ہے ۔ہم کہتے اس لیے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ "صیح کیا ہے ” اور کرتے اس لیے نہیں کہ نفس مانع بن جاتا ہے ۔گو انسان کی عقل اسے فورا”بتا دیتی ہے کہ سچ کیا ہے ؟لیکن نفس ،خواہش ،خوف یا ماحول اسے وہ کام کرنے نہیں دیتا ۔یوں ہم گفتار کے غازی تو بن جاتے ہیں کردار کے غازی نہیں بن پاتے ۔عمل کرنا قیمت مانگتا ہے یعنی محنت ،قربانی ،وقت ،ارادہ اور کبھی کبھی پورے سماج سے ٹکرانے کی ہمت اور جرات درکار ہوتی ہے ۔اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا میں نظریات تو بہت ہیں لیکن عمل کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں ۔درحقیقت کردار سے کی گئی تبلیغ زبان اور تحریر سے کی گئی تبلیغ سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ سماجی دباؤ ہمیں "اچھا بولنے اور لکھنے "پر تو مجبور کرتا ہے مگر” اچھا کرنے "نہیں دیتا ۔معاشرۓ میں اچھی بات نہ کرنا عیب سمجھا جاتا ہے لیکن اچھی بات پر عمل نہ کرنا کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا ہے ۔یوں قول کی عزت بھی بچی رہتی ہے اور فعل کی کمزوری بھی چھپی رہتی ہے ۔خودی کا سامنا  کرنا سب سے مشکل ہوتا ہے ۔اسی لیے ہم  دوسروں کو فلسفہ اخلاقیات ،نصیحتیں اور اچھائی کے لیکچر جھاڑتے رہتے ہیں مگر جب اپنی باری آتی ہے تو خاموش ہو جاتے ہیں ۔ انسان تخلیق کا بھید اور ہنر تو جانتا ہے مگر اپنے کردار کا آئینہ دیکھنا پسند نہیں کرتا ۔گویا انسان کہتا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے مگر کرتا وہی ہے جس کے لیے وہ  مجبور ہوتا ہے ۔جبکہ عمل وہ پھل ہے جو کردار کی جڑوں سے پھوٹتا ہے اور جب جڑیں ہی کمزور ہوں تو  پھل کہاں سے آۓ گا ؟ اصل مسئلہ شاید ارادہ نہیں استقامت کا ہوتا ہے ۔انسان جب اپنے کردار کی گہرائی  کو مضبوط کر لیتا ہے تو اس کے قول وفعل میں یکسانیت آجاتی ہے ۔پھر وہ جو کہتا ہے وہی کرتا بھی ہے اور یہی انسانیت کی اصل تکمیل ہے ۔آج پاکستان میں برائی ،کرپشن اور بدعنوانی کی شرح میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ ایک لمحہ فکریہ بن چکا ہے ۔

آج ہمارا سب سے بڑا انسانی المیہ یہ ہے کہ ہماری بات اور ہمارا عمل دو الگ سمت میں چلتے ہیں ۔ہماری زبانوں پر اخلاقیات کے چراغ تو روشن ہوتے ہیں لیکن مگر زندگی کے اندھیرے ان چراغوں کی روشنی قبول نہیں کرتے ۔ہم نیکی کی بات تو کرتے ہیں ،دوسروں کو بھلائی کا درس بھی دیتے ہیں مگر جب اپنی باری آتی ہے تو وہی ہاتھ بےبسی سے جھک جاتے ہیں وہی زبان خاموش ہو جاتی ہے ۔یہ تضاد صرف کسی ایک فرد کا نہیں پورے معاشرے کا بحران بن چکا ہے ۔یوں ہمارے الفاظ تو معتبر رہتے ہیں لیکن ہمارے اعمال کا دیوالیہ نکل چکا ہوتا ہے 

ہمارے ملک میں مختلف نیک لوگ مختلف جماعتوں اور گروپوں میں شامل ہوکر دین  نیکی اور بھلائی کی تبلیغ کرتے چلے آۓ ہیں ۔جس کے لیے وہ دور دراز کا سفر بھی کرتے ہیں اور تکالیف بھی برداشت کرتے ہیں ۔بےشک ان کا یہ  مالی و جانی جہاد  بے حد قابل تعریف اور قابل ستائش ہے ۔ان کامقصد نیکی پھیلانا اور لوگوں تک اللہ اور اسکے رسول کا پیغام پہنچانا ایک اچھا عمل ہے ۔مگر اس کے باوجود کرپشن بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔شاید ہم نیکی کا درس تو دیتے ہیں مگر برائی سے روک نہیں پارہے ہیں۔ہم برائی دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں کیونکہ ہمیں یا تو نقصان کاخوف ہوتا ہے یا تعلقات خراب ہونے کاڈر یا پھر یہ کہ "مجھے کیا ضرورت ہے ؟”ہم دین بھی پڑھتے ہیں اور اخلاقیات بھی جانتے ہیں مگر ان کی روح ہمارے اندر نہیں اترتی ہمیں تعلیم تو یاد رہتی ہے تربیت نہیں ہو پاتی ۔اسی لیے گھروں ،مدارس ،منبروں اور میڈیا سب جگہ نصیحت اور ہدایت تو موجود ہے مگر کردار کا نمونہ بہت کم دکھائی دیتا ہے ۔کہتے ہیں کہ نیکی  کا ثواب تو اسے سوچنے سے ہی مل جاتا ہے لیکن نیکی کی فضیلت یہ ہے کہ نیکی ہماری عادت اور ہمارا کردار بن جاۓ ۔یہ کردار صرف قول سے نہیں عادت ،استقامت ،جرات اور سچائی سے بنتا ہے۔ہمیں جاپان جیسے معاشرۓ کے لیے اپنی تخلیق اور کردار دونوں کو یکساں تر جیح دینا ہوگی بےشک معاشرے کی ترجیہات ہی قوموں کے عروج وزوال کی نشاندہی کرتی ہیں ۔

کردار اور تخلیق

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے