#کالم

ستائیسویں آئینی ترمیم

Untitled 1874

آئین پاکستان میں موجودہ حکومت نے ستائیسویں آئینی ترمیم کرکے پارلیمنٹ کی برتری کی جانب ایک ادنی سی کاوش کی ہے. جس پر کچھ حلقوں کی جانب سے شور شرابہ کیا جا رہا ہے. کہ جیسے کوئی انہونی برپا ہوگئ ہو. اس سے قبل بھی آئین پاکستان میں ترامیم ہوتی رہی ہیں. ترمیم کا مطلب خدانخواستہ آئین کی تبدیلی نہیں. بلکہ اس کی قباحتوں کو دور کرنا ہے. موجودہ حالات کے مطابق نظام کو چلانے کے لیے آئین کو موجودہ حالات سے ہم آہن ہونا ضروری ہے. دنیا کی برق رفتار ترقی کے ساتھ چلنے کے لیے بھی موجودہ نظام کی بہتری ضروری ہوتی ہے. ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں. جس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا. اس سے قبل ہونے والی ترامیم کو بھی تبدیل کیا گیا ہے.سابق صدر ضیاء الحق نے اپنے اختیارات میں اضافہ کی غرض سے آٹھویں آئینی ترمیم پاس کروائی. جس کی رو سے بہت سے ایگزیکٹو اختیارات صدر پاکستان کو تفویض کر دیئے گئے. وزیراعظم جوکہ قائد ایوان ہوتا ہے. اس کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا. پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے آٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعہ سے وہ تمام ایگزیکٹو اختیارات جو وزیراعظم پاکستان سے آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعہ سے لیے گئے تھے. واپس وزیراعظم پاکستان کو دیئے گئے. اور پاکستان کے آئین کو 1973 کی حقیقی شکل میں بحال کر دیا گیا. حکومتیں اپنے ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھ کر آئین پاکستان کی شقوں میں ترامیم کرتی رہتی ہیں. نئی آنے والی حکومت کی نظر میں اگر سابق حکومت کی ترامیم غلط ہوتی ہیں. تو وہ انہیں پارلیمنٹ کی مدد سے واپس اصل حالت میں لے آتی ہے. ہمارے ملک میں صدارتی، جمہوری، آمرانہ نظام حکومت کے تجربات کیے جاتے رہے ہیں. جو بھی نظام رائج ہوا. اس کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آئین پاکستان کی اصل شکل کو بگاڑا جاتا رہا ہے . بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں مضبوط نہیں. بلکہ انہیں اقتدار میں لانے والے زیادہ مضبوط ہیں. وہ جس سیاسی جماعت کے سر پر اپنا دست شفقت رکھتے ہیں. وہ برسر اقتدار آ جاتی ہے. وہ اقتدار میں آتے ہی اپنے آقاؤں اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے قانون سازی کرتی ہے. اس قانون سازی کے لیے اسے آئین پاکستان میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے. یہی ضرورت آئین پاکستان میں اب تک ستائیسویں آئینی ترامیم کا سبب بنی ہے. اس بار بھی آئین پاکستان میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعہ سے کچھ آئینی عہدوں کو مضبوطی فراہم کرنے اور کچھ آئینی عہدوں کو ان کی حدود میں رکھنے کے لیے ترامیم کی گئی ہیں. قیام پاکستان سے قبل ہم نے عرصہ دراز تک انگریز کی غلامی میں زندگی بسر کی ہے. اس لیے انگریز سرکار کی غلامی کرنے والے افسران آج بھی خود کو حاکم سمجھتے ہیں. ہماری بیوروکریسی، عدلیہ ،افواج میں انہیں لوگوں کی نسل چلی آ رہی ہے. وہ عوام کو اس کا حق دینے کو ہرگز تیار نہیں. وہ تمام اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں. خوش قسمتی سے اگر کوئی عوامی لیڈر پاکستان کی عوام کی بدولت اقتدار میں آ جاتا ہے. اور عوام کے لیے کچھ کرنا چایتا ہے. تو یہ مخصوص طبقہ اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے. عدلیہ کا کردار بھی اس سلسلہ ہمیشہ بھیانک رہا ہے. اس نے مارشل لاء حکومتوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا ہے . اس کے ججوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا. ججز کا آئینی کردار ہے. کہ وہ غیر جانبدار رہ کر اپنے فرائض منصبی ادا کرے. مگر ایسا ہو نہیں رہا. ہمارے ججز سیاسی جماعتوں کے ورکر بن کر کام کر رہے ہیں. کسی جج نے سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی ذاتی تسکین کے لیے تختہ دار پر لٹکا دیا. تو کسی جج نے منتخب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو حکومت سے اختیارات کے ناجائز استعمال کی بناء پر گھر بھیج دیا. اسی طرح سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کی دلیل دے کر ختم کیا گیا. سوال پیدا ہوتا ہے. کہ کیا ہمارے ملک میں سیاستدان ہی غلط ہیں. ججز دوددھ کے نہائے ہوئے ہیں. ہرگز نہیں ہماری عدلیہ کرپٹ ترین عدلیہ ہے. اس کے ججز قانون و آئین کو مدنظر رکھ کر نہیں. بلکہ ذاتی خواہشات اور اپنے سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں. جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے. ملک پاکستان کی بربادی میں سب سے زیادہ ہاتھ ہماری کرپٹ ترین عدلیہ کا ہے. ستائیسویں آئینی ترمیم کی روح سے ملک میں ایک آئینی عدالت قائم کی گئی ہے. جو صرف اور صرف آئینی معاملات کے متعلق کیسز کی سماعت کرے گی. اس پر ایک طوفان برپا ہے. کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے. عدلیہ کی کارکردگی کی بہتری اور اس کو غیر جانبدار بنانے کے لیے اگر کوئی اچھا اقدام ہوا ہے. تو اس کو خوش آمدید کہنا چاہیے. اگر یہ تجربہ کامیاب یا احسن ثابت نہ ہوا. تو آیندہ حکومت آئینی ترمیم کے ذریعہ سے اسے ختم کر سکتی ہے. عدلیہ کے ججز اور بیوروکریسی نے آئین پاکستان کے تحت حلف لینا ہوتا ہے. آئین پاکستان جس شکل میں بھی ہوگا. انہوں نے اس کی پاسداری کرنا ہوتی ہے. ناکہ اختلاف رائے. اگر وہ نظام کو درست تصور نہیں کرتے. تو کسی اور شعبہ میں کام کر سکتے ہیں. ماضی میں کچھ فرعون صفت ججز نے سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو من گھڑت اور جھوٹے مقدمات میں ناصرف سزا سنائی. بلکہ اپنے دل کی بھڑاس بھی اپنے عدالتی فیصلوں میں تحریر کی. انہیں مختلف القابات سے نوازا. گیا. کیا یہ ججز کا کام ہے. کہ وہ ملک کے منتخب وزیراعظم کا تمسخر اڑائے. پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سابق وزیراعظم عمران خان بھی اسی عدلیہ کی غلط پالیسیوں کی سزا کاٹ رہے ہیں. اگر بطور پاکستانی آپ کا عدالتوں میں جانا ہو. تو آپ دیکھے گے. کہ کس کس طرح کی فرعون سوچ کے مالک جج بنے بیٹھے ہیں. آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت تھا. سپریم کورٹ آف پاکستان میں لاکھوں کیسز تاخیر کا شکار ہیں. عوام کو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے