#کالم

سڑکوں کی حالت زار اور ٹریفک کے جرمانے

Untitled 25

پرواز خیال تحریر۔۔۔عرفان حفیظ ملک

مجھے انتہائی حیرت ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران اور ارباب اختیار پر کہ وہ عوام الناس کو نچوڑنے کے لئے کیسے کیسے حربے استعمال کر رہے ہیں اور ان لاچاروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ایک بے سمت منزل کی طرف ہانکے چلے جا رہے ہیں۔
ان عقل کے اندھوں سے انسان یہ پوچھے کہ جس ٹریفک قانون کی پاسداری کےلئے آپ لوگوں کو ای چالان اور بھاری جرمانے ٹھوک رہے ہیں، کیا وہ خود بھی ان قوانین کا احترام ویسے ہی کرتے ہیں۔۔؟ اکثر شاہرائیں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں، ٹریفک سگنلز بھی اکثر و پیشتر خراب رہتے ہیں اور روڈ سائنز اور لائین مارکنگ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لہذا ان حالات میں سیٹ بلٹ، ہیلمٹ، لین کی تبدیلی اور سپیڈ وغیرہ پر چالان سمجھ سے بالا تر ہیں۔ میری رائے میں حکومت کو پہلے اپنے گھر کو باقاعدہ آرڈر میں لانا چاہئے تھا اور پھر لوگوں میں ٹریفک پابندی کی آگاہی اور شعور پھیلانے کی مہم چلانی چاہیے تھی، ناکہ ایک دم ڈنڈا اٹھا کر بے دریغ پہلے سے ہی پسی ہوئی عوام کے سروں پر برسانا شروع کر دیں۔۔۔ مجھے یہ رویہ اور پالیسی ایسے ہی لگ رہی ہے جیسے کسی گاوں کا کوئی چوہدری کسی ایک صبح اچانک اعلان کردے کہ کل سے گاوں کا ہر شخص تھری پیس سوٹ پہنے گا اور نہ پہننے والے کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔۔؟
میری حکومت وقت اور ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ معاشرے کی اصلاح اوپر سے شروع کریں اور پہلے خود عوام کو ان قوانین کی پابندی کرکے دکھائیں اور پھر بعد میں عوام سے بھی توقع کریں کہ وہ ٹریفک قوانین کا احترام کریں۔۔؟ اس ضمن میں ہر پوائنٹ پر کھڑے ٹریفک اہلکاروں کو ٹریفک سگنلز کو کسی وی آی پی کی موومنٹ کےلئے بند کرنے سے منع کر دیا جائے اور ہمارے حکمران اور اعلی افسران کو بھی عام شہریوں کی طرح سڑکوں پر گھومتے پھرتے دکھائی دینا چاہئے۔ دراصل اصلاح معاشرہ ایک لگاتار عمل ہے اور اس میں ہر پاکستانی کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ قابل ستائش ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح قانون کی پاسداری کروانی چاہیے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے باقی ادارے اور دیگر معاملات بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف شمار کیے جاسکتے ہیں۔۔۔؟ یقینا آپ کا جواب ایک بڑی نہیں میں ہوگا تو پھر آ جا کر سارا نزلہ ٹریفک قوانین اور غریب عوام پر ہی کیوں گرتا ہے۔۔؟ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران گوروں کا منہ لال دیکھ کر اپنے منہ پر تھپڑ مارنے پر تلے ہوئے ہیں تاکہ ان کے چہروں پر بھی شاید لالی آ ہی جائے۔۔۔ لاحول ولا قوہ اللہ بااللہ
کچھ خدا کا خوف کریں اور معصوم عوام پر ظلم کی انتہا نہ کریں اور خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ مجبور ہوکر تنگ آمد و بجنگ آمد کی نہج تک پہنچ جائیں۔۔؟

سڑکوں کی حالت زار اور ٹریفک کے جرمانے

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے