دو دیگ چاول کا سوال ؟
احساس کے انداز تحریر:۔ جاویدایازخان
گذشتہ روز ہمارۓ ٹاون فیصل باغ کی مسجدمیں نماز کے بعد ایک شخص نے اٹھ کرامام صاحب کی اجازت سے مدد کی اپیل کی کہ وہ ایک غریب آدمی ہے اور اپنی بچی کی شادی کا فرض بڑی سادگی سے ادا کرنے جارہا ہے ۔سادگی کے باوجود بارات کے لیے کھانے کا انتظام بہت ضروری ہے جس کے لیے دو عددچاول کی دیگیں کم پڑ رہی ہیں اس لیے کوئی خدا ترس دو دیگ چاول دے کر میری مدد کرۓ تاکہ میں اپنے فرض کی ادائیگی کر سکوں ۔ہماری مسجد میں مساجد ومدارس کے لیے چندہ جمع کرنے والے اور مدد مانگنے والے اکثر آتے رہتے ہیں اور ان کے علاوہ بھی مختلف وجوہات بتا کر بھی لوگ چندہ یا مدد مانگتے رہتے ہیں ۔مگر یہ اپیل مجھے بڑی حیران کن محسوس ہوئی کیونکہ سادگی سے نکاح یا شادی میں کھانے کا اہتمام اور بھی لوگوں سے مدد مانگ کر کرنا بڑا عجیب سا لگا اور بڑا دکھ بھی ہوا ۔وہ واقعی ضرورت مند تھا یا پھر پیشہ ور بھکاری یہ تو اللہ ی بہتر جانتا ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے ۔مجھے تو اس کے سوال نے چونکا دیا اور پھر میں یہ سوچتا رہا کہ ہماری رسومات کیوں والدیں کو قرض لینے یا مددمانگنے پر مجبور کر دیتی ہیں ؟ کیا ہم اور ہمارا معاشرہ رسم ورواج اور نمود ونمائش یا مقابلہ بازی کا شکار ہو چکا ہے ؟جو ایک باپ کو مانگنے پر مجبور کردیتا ہے ۔سوچنے کی بات صرف دو دیگ چاول کی نہیں بلکہ انسانی عزت نفس اور مجبوری کی ہے ۔آج کل ہمارے ہاں جہیز کے بعد بارات کا کھانا لڑکی والوں کے لیے سب سے بڑا خرچہ سمجھا جاتا ہے ۔لوگوں نے اس کھانے کو اپنی عزت کا سوال بنا لیا ہے ۔باپ پوری زندگی بیٹیوں کی شادی کے بہتر انتظام کے لیے اپنا تن من دھن لگا دیتا ہے اور شادی کے بعد بھی ان اخراجات کے بوجھ تلے دب کر برسوں یہ قرض اتارتا رہتا ہے ۔اسی لیے ہمارے اباجی کہا کرتے تھے کہ گو کہ لڑکی والےکی طرف سے کھانا ہونا ہی نہیں چاہیے لیکن پھر بھی اگر مجبورا” ایسا ہو تو جیسا اور جو بھی کھانا ہو کبھی بیٹی والے کے کھانے میں عیب مت نکالو کیونکہ وہ کسی باپ کی زندگی بھر کی بچت ،جمع پونجی اور محنت کی کمائی ہوتی ہے جو وہ ہمیشہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس لیے خرچ کرتا ہےکہ اپنی بیٹی کے سسرال والوں کو خوش کرسکے اور بیٹی کو سسرال میں کوئی کمی محسوس نہ ہو ۔اس کھانے کا ہر دانہ محبت ،احترام اور مہمان نوازی کے خلوص سے لبریز ہوتا ہے ۔یہ ان کی جانب سے یہ ظاہر کرنے کا طریقہ ہوتا ہے کہ وہ نئے رشتے کا کتنا احترام کرتے ہیں ۔
مجھے چالیس سال قبل کی اپنے دوست سعید چشتی اور رفیق چشی کی شادی یاد آگئی جب ہم ایک بس پر بارات لےکر بہاولپور روانہ ہونے لگے تو ان کے والدرسول بخش چشتی مرحوم نے میری اور استاد منیر کی ڈیوٹی لگائی کہ دو دیگ چاول کی پکوا کر بس کی چھت پر رکھنی ہیں اورساتھ کی کھانا کھلانے کی ضروری کراکری اور ان کی حفاظت کے لیے دیگوں کے ساتھ آپ نے بھی بس کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرنا ہے ۔میں نے حیرت سے پوچھا چشتی صاحب ہم بارات کا کھانا ساتھ لے کر کیوں جارہے ہیں یہ تو لڑکی والوں کی ذمہداری ہوتا ہے تو وہ کہنے لگے ہرگز نہیں یہ لڑکی والوں کا نہیں بلکہ ہمارا کام ہے کہ جتنے مرضی باراتی ساتھ لے جائیں اور ان کے کھانے کا انتظام بھی کریں ۔لڑکی والوں پر بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہوتا ۔کیونکہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے کہ "سب سے زیادہ برکت والی شادی وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو ” بےشک جس شادی میں سادگی ہو اور جو ریاکاری یا قرض کے بوجھ سے پاک ہو اس میں اللہ کی برکت شامل ہوتی ہے ۔لڑکی والے پر کسی قسم کا مالی ،جذباتی یا سماجی بوجھ یا دباؤ نہ ڈالاجاۓ اور وہ اپنی بیٹی کو بوجھل دل کی بجاۓ خوشی اور اطمینان سے رخصت کر سکے ۔شرعی اصولوں کی پاسداری اور اسلامی تعلیمات کی رو سے شادی کے تمام اخراجات کی بنیادی ذمہ داری دولہے والے یعنی مرد پر عائد ہوتی ہے ۔بیٹی والوں پر جہیز ،بارات کا کھانا یا دیگر غیر ضروری مطالبات کا بوجھ ڈالنا شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے ۔ محترم بزرگ رسول بخش چشتی مرحوم نے مجھے بتایا کہ ہمارۓ خاندان میں یہ ایک ایسا اقدام ہے جو غریب اور متوسط طبقے کی بیٹیوں کی شادیوں کو آسان بنا دیتا ہے اور انہیں اپنی معاشی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور نہیں ہونا پڑتا ۔انہوں نے بتایا کے اگر بارات دور سے آتی ہے اور کھانا ساتھ نہ لا سکے تو کھانے کے اخراجات بیٹی والوں کو دیکر کھانا وہیں پکوا لیا جاتا ہے ۔جب رشتہ اخلاص اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے نہ کہ مادی مطالبات پر تو شادی کے بعد بھی دونوں خاندانوں کے درمیان ہمیشہ تعلقات مضبوط اور خوشگوار رہتے ہیں ۔لڑکے والےجب لڑکی والوں کی مجبوری ککا خیال رکھتے ہیں تو یہ ان کے احترام میں اضافہ کرتا ہے ۔شادی کا اصل مقصد دو دلوں اور دو خاندانوں کوجوڑنا ہے نہ کہ ایک خاندان کو مالی دلدل میں دھکیلنا ۔جو شادی اس بلند مقصد سامنے رکھ کر سادگی سے کی جاۓ وہی سب سے بہترین ہوتی ہے ۔ہم بارات لےکر لڑکی والوں کے گھر پہنچے تو انہوں نے پھولوں کے ہار وں سے استقبال اور سادہ پانی سے ہماری تواضع کی اور بیٹھنے کا مناسب انتظام کیا ہوا تھا ۔نکاح کے بعد چھوارۓ تقسیم ہوۓ جو ہم ساتھ لاۓ تھے اور پھر پوری بارات کے ساتھ ساتھ لڑکی والوں کو بھی ہماری جانب سے کھانا کھلایا گیا اور ہم ڈھول شہنائی کی دھوم اور جھومر ڈالتے رخصتی لیکر واپس گھر آگئے ۔مجھے یہ رواج بہت اچھا لگا ورنہ ہماری شادیوں میں تو سارا بوجھ لڑکی والے پر ہی ڈالا جاتا ہے ۔ہندوانہ رسم جہیز اور پرتکلف کھانا پر لڑکے والوں کو دئیے جانے والے قیمتی تحائف لڑکی والے کی کمر توڑ دیتے ہیں ۔اور لڑکی کے والدین برسوں ان اخراجات کے لیے حاصل شدہ قرض کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں ۔آج یہ اچھا رواج وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی دباؤ اور رسم ورواج کی بھینٹ چڑھ چکا ہے بلکہ بڑھتی ہوئی نمود ونمائش کی باعث شادی سادگی کی بجاۓ اپنی حیثیت اور دولت دکھانے کا ذریعہ بن گئی ہے ۔شرمندگی کا خوف بیٹی والے کو بہت خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں لوگ انہیں "کم حیثیت یا بخیل ‘ نہ سمجھیں یا پھر بعد میں سسرال میں بیٹی کو طعنے نہ سہنے پڑیں ۔شفافیت اور باہمی رضامندی سب سے اہم ہوتی ہے ۔دونوں خاندانوں کو شادی سے پہلے بیٹھ کر مالی بوجھاور انتظامات پر کھل کر بات کر لینی چاہیے تاکہ بیٹی والے پر غیر ضروری بوجھ اور دباؤ نہ ہو ۔جہیز کی لعنت کا خاتمہ باہمی رضا مندی سے ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔کیونکہ ان مہنگی مہنگی رسوم کے اخراجات نے ہماری شادیوں کو مشکل بنادیا ہے ۔جبکہ اسلام نکاح اور شادی کو آسان بنانے کی ہدایت دیتا ہے ۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ان رسم ورواج اور دکھاوۓ کی زنجیریں توڑیں گے اور اپنی شادیاں کو مالی بوجھ سے پاک بنائیں گے ۔ایک اسلامی مثالی معاشرہ وہی ہے جہاں نکاح آسان ہو اور جہاں بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت سمجھی جاتی ہیں ۔اور ان کی رخصتی خوشی اور سادگی کے ماحول میں ہوتی ہے نہ کہ قرض اور دباؤ میں انجام پاتی ہیں ۔ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس شعور کو بیدار کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ایسی غیر ضروری رسومات کے خاتمے کے لیے حکومتی اور عوامی سطح پر قانونی واخلاقی ضابطوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا ۔ہمارۓ میڈیا ، سوشل میڈیا ،تعلیمی اداروں ،سماجی اداروں ،اور مسجد و منبر سے سادگی سے نکاح اور شادی کا شعور بیدار اور اجاگر کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔تاکہ کسی غریب باپ کو اس طرح شادی کے لیے دیگوں کا سوال نہ کرنا پڑے ۔






