27 ویں آئینی ترمیم سینٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور
آج کا اداریہ
قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم منظور ہوگئی، ترمیم کے حق میں 234 اور مخالفت میں چار ووٹ پڑے، اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، جبکہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے۔
اسطرح سینٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرلیا گیا، 234 اراکین نے ترمیم کے حق میں جبکہ چار نے مخالفت میں ووٹ دیاجبکہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایوان نے آج یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، تمام ارکان کا دلی مشکور ہوں
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کا خواب 19سال بعد پورا ہوا، میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اختلاف کرنا اپوزیشن کا حق ہے، ہم احترام کرتے ہیں، دشنام طرازی اورگالم گلوچ سے ہٹ کر ہمیں ملکر ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا۔
شہباز شریف نے کہا کہ آرمی چیف سیدعاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینا پوری قوم نے سراہا، پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں، وہ اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو سے مکمل اتفاق ہے کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، وہ تمام امور جن سےوفاق مضبوط ہو میں ان کا حامی ہوں۔
قبل ازیں قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے تحریک پیش کی۔
اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بارکونسل،ایسوسی ایشن کی مشاورت کے بعد چیف جسٹس کے عہدے پر کچھ ابہام تھا، یہ لکھا ہواتھا کہ جوموسٹ سنیئر ہوگا وہ کمیشن کو چیئرکرے گا، اس ابہام کو دور کرنے کیلئے کچھ ترامیم متعارف کراؤں گ
انہوں نے کہا کہ ترامیم سے مزید واضح ہوگیا جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔
قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم جو آئینی ترمیم لارہےہیں،ہمارے پاس اکثریت ہے، کسی کا باپ بھی 18 ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا
انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کثرت رائے سے نہیں،اتفاق رائےسے ہوتی ہے، 26ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی، اور 18 ویں ترمیم بھی تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظورکرائی، 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو حقوق دیے گئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں کیے وعدے پورے کررہے ہیں اور میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدوں کی تکمیل یقینی بنارہے ہیں
انہوں نے کہا کہ ن لیگ، اور پی پی نے افتخار چوہدری کے سوموٹوز کو بھگتا، آج ہم ماضی کی غلطی کو درست کرنےجارہےہیں، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی ازخود نوٹس نہیں ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تجویزماننے پر ہم حکومت کے شکرگزار ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والے بھی مانیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہوگی
بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی جاتی رہی
پی ٹی آئی کے ممبران اس دوران اپنی آواز کو مزید اونچا کرنے کے مختلف طریقے تلاش کر رہے تھے۔ ایک موقع پر انھوں نے تالیاں بجا کر بلاول کی تقریر میں مزید خلل ڈالنے کی کوشش کی اور دوسرے موقع پر ان کے ممبر لطیف کھوسہ نے انھیں ڈیسک بجا کر شور مچانے کا مشورہ دیا
حزب اختلاف کی جماعت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی بھی ان کے ساتھ اس احتجاج میں شامل رہے۔
بلاول بھٹو اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد جب اپنی نشست پر بیٹھ گئے تو بھی حزب اختلاف کی جانب سے شور مچانے کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی شور شرابے کے دوران اسمبلی کے ہال میں ایک ویل چیئر داخل ہوئی
اس پر پی پی پی کے ممبر خورشید شاہ کو اسمبلی لایا گیا اور ان کی ویل چیئر کو بلاول بھٹو زرداری کی نشست کے برابر لا کر کھڑا کیا گیا۔ خورشید شاہ گذشتہ کچھ عرصے سے شدید علیل ہیں۔ وہ ترامیمی بل پر ووٹنگ میں حصہ لینے کے لیے قومی اسمبلی آئے۔
نواز شریف اور شہباز شریف ان کا حال پوچھنے اپنی نشست سے اٹھ کر ان کے پاس آئے۔ اسمبلی میں موجود باقی ممبران بھی باری باری ان کی طرف آتے رہے۔
اس دوران پی ٹی آئی نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ ایک موقع پر قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے اہلکاروٍں کو اندر آ کر حزب اختلاف اور حکومتی بینچوں کے درمیان دیوار بنا کر کھڑا ہونا پڑا
سابق وزیراعظم نواز شریف لگ بھگ تمام شقوں کے حق میں ووٹ دینے کے لیے کھڑے ہوتے رہے۔ ووٹنگ کے تمام تر عمل کے دوران پی ٹی آئی کے تمام ممبران ایوان میں موجود نہیں تھے۔
جب شق وار ترامیم منظور ہو گئیں تو بل پر ووٹنگ ہوئی اور سپیکر نے اعلان کیا کہ دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم کو منظور کر لیا گیا ہے، اس کے بعد قائد ایوان یعنی وزیراعظم شہباز شریف نے تقریر شروع کی۔
ان کی آواز سننے پر حزب اختلاف والی جانب گیلری کا دروازہ کھلا اور پی ٹی آئی کے ایک ممبر اقبال آفریدی باہر آئے۔ انھوں نے وہیں کھڑے ہو کر فضا میں دونوں ہاتھ بلند کیے اور نعرہ لگایا ’عمران خان زندہ باد۔‘
اس پر حکومتی اتحاد کے بینچوں سے قہقہہ بلند ہوا۔ اقبال آفریدی نے پیچھے مڑ کر اپنے دیگر ساتھیوں سے باہر آنے کا اشارہ کیا۔ کوئی نہیں آیا۔ وہ غالباً دوسروں کو باہر آ کر شہباز شریف کی تقریر کے دوران احتجاج کرنے کا کہہ رہے تھے۔
جب کوئی نہیں آیا تو وہ خود بھی اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد پھر باہر آئے۔ اس مرتبہ بھی ان کے ساتھ کوئی نہیں آیا۔ تھوڑی دیر بعد تیسری وہ باہر آئے تو ان کے ہاتھ میں وہی بینر تھا جس پر دیگر نعروں کے






