افغان بھارت گٹھ جوڑ: دہشتگردی کی نئی لہر
خواجہ جمشید امام
دلی کا لال قلعہ ہو یا تاج محل ٗ راجو ں مہارجوں کے محلات ہوں یا پھر آگرہ کے نوابوں کی حویلیاں ٗ ایک بات تو طے ہے کہ سینٹرل ایشین جنگجوکی فتوحات کے وہ نشان ہیں جو ہندوستان کے سینے میں آج بھی پیوست ہیں۔قطب الدین ایبک سے لے کر ابراہیم لودھی تک ان فاتحین نے یہاں لوٹ مار تو کی لیکن پھر یہاں سے رخصت ہو گئے۔ مغل اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود اس لئے بھی قابل ِ قبول رہے کہ اُنہوں نے اس خطے کو چھوڑنے کا نہیں سوچا اورنسل در نسل یہیں کہ ہو رہے۔ مغل طرز تعمیر آج بھی اپنی الگ شناخت رکھتا ہے اوردنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔سیاست کے سینے میں ماں کا نہیں ڈائن کا دل ہوتا ہے سو اس سے کبھی بھی رحم کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ مفادات بدلیں تو دوستیاں او ر دشمنیاں بدل جاتی ہیں لیکن جدید ریاستوں میں افضل ترین شے ریاست ہی ہے کہ اسے بچانے کیلئے ہر ریاست اپنی آخری حد تک چلی جاتی ہے مسئلہ اُس وقت پیدا ہو تا ہے جب حکومتیں ریاست کے بجائے اپنی حکومتوں کو دوام بخشنے کیلئے ریاست کے وجود سے کھیلنا شروع کردیتی ہے۔ شاید اسی مماثلت کو مدد نظر رکھتے ہوئے سابق بھارتی وزیر اعظم اندراگاندھی مقتولہ کے پوتے نے عمران نیازی اور مودی میں کوئی مشترکہ قدر تلاش کر لی۔ 10نومبر کو دلی کے ریڈ فورٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے میں 8معصوم جانیں دنیا سے چلے گئیں اور 24افراد شدید زخمی ہو ئے(متضاد خبر)۔ یہ ہر باضمیر انسان کیلئے یقینی صدمہ ہے لیکن سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ مودی سرکار کب تک ہر الیکشن سے پہلے پاکستان پر الزامات کی سیاست کرکے ہندوستانی عوام کو بیوقوف بناتی رہے گی؟دھماکا ہو جانا موجودہ دنیا میں کوئی مافوق الفطرت واقعہ نہیں اور پھر اُن ریاستوں کیلئے تو بالکل عام سے بات ہے جن کی افغانستان سے سرحدین ملتی ہیں یا پھراُن سے دوستی جیسا رشتہ ہے۔ ہم نے افغانوں کے ساتھ بھائی چارہ ٗ اخوت اور دوستی کا رشتہ نبھا کر دیکھ لیا اب یہ مزا ہندوستان بھی چکھ لے۔ شواہد اور حقائق اس دھماکے کو گیس سلنڈ ر کا دھماکہ قرار دے رہے ہیں جب کہ گودی میڈیااورمودی سرکار اسے نا صرف بم دھماکہ قرار دے رہا ہے بلکہ اسے پلوامہ سے جوڑ کر دنیا کودکھانا چاہتے ہیں۔ عینی شاہدین اوربھارتی سرکار کے موقف میں موجود تضادات جھوٹ کا پردہ فاش کررہے ہیں لیکن بھارتی میڈیا کوکو ن بتائے کہ دہشتگردی وانا یا پھر اسلام آباد جوڈیشل کمپلس جیسی ہوتی ہے جس کے تمام ثبوت فراہم کردیے گئے ہیں۔ وانا کے دہشتگردوں اور اسلام آباد کے خود کش حملہ آور کی لاشو ں سے لے کر ٗ خود کش حملہ آور کو جائے وقوعہ پر چھوڑکرجانے والا موٹر سائیکل سوار تک گرفتار کرلیا گیا ہے۔بھارت نے حادثے کو دہشتگردی میں تخلیق کیا ہے کیونکہ جب مدعی جھوٹ بول رہا ہو تو پھر شواہد بولتے ہیں اور اس حادثے میں تو گواہوں کے بیانات ٗ گاڑی کے مالک کانام ٗہریانہ سے کشمیر تک بدلتی ہوئی کار ملکیت ٗگاڑی کا نام ٗ وقوع سے ملنے والے ثبوت اور سب سے بڑی بات حادثے اور دہشتگردی میں وقوع کا مختلف ہونا چیخ چیخ کر اس حادثے کو تخلیق کا رنگ دینے والوں کی چغلی کھا رہا ہے لیکن آپ منہ پہ مکرنے والے اور دریا کے دوسرے کنارے پر کھڑے ہو کر گالیاں بکنے والے کا کچھ نہیں کر سکتے۔ایک بات بہرحال خوبصورت نظر آئی کے بھارتی پرنٹ میڈیا اس حادثے کو دہشتگردی مانے کیلئے تیار نہیں۔البتہ پی ٹی آئی کے ایک موجودہ لیڈر اور سابق ساتھی نے فون کرکے پوچھا کیا کررہے ہو؟ تو بتایا کہ دلی میں دھماکے کی خبر پڑھ رہا ہوں تو اُس نے بغیر کسی تصدیق کے کہا کہ ”اپنا ای کم اے“۔ میرے ڈانٹنے پر اُس کا کہنا تھا کہ تم پاکستانی فوج کی بڑی حمایت کررہے ہو تو میں نے پوچھا ”مجھے کس فوج کی حمایت کرنی چاہیے“؟ تو وہ خاموش ہو گیا۔بہرحال وہ اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے کو 27ویں آئینی ترمیم اور وکلاء کے تناظر میں جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ حال ہے اپنوں کا تو پھر بھارتی میڈیا سے شکایت کرنا کس حد تک جائز ہے؟ یہ میں سوچ رہا ہوں۔ ایسا ہی ایک گروہ ہمیشہ افغانوں کو میسر آتا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ خطہ تاراج ہو تارہا لیکن اُس زمانے کی ریاستیں صرف زمین پر لڑتی تھیں اب یہ لڑائی فضاؤں میں اورحملے ٹھکانوں پر ہوتے ہیں جس کا ادراک افغانیوں سے زیادہ کسی کو نہیں ہوناچاہیے۔ پختون بچوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ روس کی جنگ میں صرف پاکستانی جرنیل شامل تھے لیکن کوئی انہیں یہ نہیں بتا رہا کہ اُس وقت اُن کے بزرگ بھی وائٹ ہاؤس میں جمی کارٹر سے لے کر ریگن تک سب سے ملتے رہے۔سی آئی اے کے ایجنٹوں کی مہمان نوازی کیلئے قبائلی سردار ایک دوسرے کا لہو بہاتے اور دنیا بھر میں منشیات کا کام بے جھجک کرتے رہے۔ تاریخی سچ تو یہ ہے پاکستان کے پختونو ں کی مدد کے بغیر یہ سب کچھ ممکن ہی نہیں تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے آ ج کے پی کے کی موجودہ حکومت کو ختم کیے بغیر افغان دہشتگردوں اور فتنہ الخوارج کو شکست دینا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے اپنے کاروباری حضرات کو پاکستان کے رستے کام کرنے سے روک دیا ہے اور یہ اس سال کی نہیں اس صدی کی سب سے بڑی خوشخبری ہے۔ دعا کریں کہ افغانی اپنے اس فیصلے پر قائم رہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں فیصلوں اور وعدوں پر قائم رہنے کی عادت نہیں ہے۔لاہور اور اسلام آباد پر پرچم لہرانے کی خواہش رکھنے والے تورا بورا کے بھگوڑوں کے علم میں ہونا چاہیے کہ یہ انند پال یا ابدالی کے زمانے کا لاہو رنہیں ہے جسے تم تاراج کر لو گے جو افغانو ں کی ذاتی لڑائیوں میں برباد ہوتا رہا ہے۔ یہ پاکستان کادل ہے اور پاکستان






