#کالم

ہمسائے کے حقوق و فرائض

Untitled 7

آپا منزہ جاوید اسلام آباد

اسلام ایک ایسا دین ہے جو عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی تعلقات پر بھی گہری نظر رکھتا ہے۔ قرآن و حدیث میں بارہا ہمسایوں کے حقوق پر تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جبریل مجھے مسلسل ہمسایوں کے حقوق کی وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ انہیں وارث بنا دیں گے۔” (صحیح بخاری)
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہے۔” (مسند احمد)
یہ تعلیمات ہمیں یہ سمجھاتی ہیں کہ ہمسایہ صرف قریب رہنے والا شخص نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کا خیال رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔
ہمارے شہروں میں گھروں کی تعمیر کے دوران اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مزدوروں کا شور، ملبہ اور سیمنٹ دوسروں کے گھروں تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ سراسر ہمسایے کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں چاہیے:
تعمیر کے وقت سامنے یا پیچھے کی طرف سبز جالی (Shade Net) لگائی جائے تاکہ مزدوروں کی آمد و رفت یا ان کا کام کسی کی بے پردگی کا باعث نہ بنے۔
اور تعمیراتی کام کرواتے وقت اگر ساتھ والے یا پچھلے گھروں میں سیمنٹ ریت بجری گرے تو چاہیے اسے صاف کروائیں ساتھ معزرت کی جائے ۔
شور والے کام (ڈرِلنگ، ہتھوڑے وغیرہ) کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ صبح سویرے یا رات گئے تک شور مچانا دوسروں کے سکون کی خلاف ورزی ہے۔
پانی کی ٹینکی بھرتے وقت دھیان رکھا جائے کہ پانی ہمسائے کے گھر نہ گرے۔
سماجی رویے اور اخلاق
اسلام نے ہمیں حسنِ سلوک اور خوش اخلاقی کی تعلیم دی ہے، خاص طور پر ہمسایوں کے ساتھ۔ کچھ آداب یہ ہیں:
اگر شادی یا کوئی بڑی تقریب ہو جس میں شور یا لاؤڈ اسپیکر استعمال ہوگا، تو بہتر ہے کہ پہلے سے ہمسایوں کو اطلاع دی جائے اور تقریب کے بعد ان کا شکریہ بھی ادا کیا جائے۔
اگر کوئی مزیدار کھانا تیار ہو اور اس کی خوشبو ہمسایوں تک پہنچ رہی ہو تو کم از کم ایک پلیٹ ان کے گھر ضرور بھیجی جائے۔ یہ نہ صرف سنت ہے بلکہ دلوں میں محبت بڑھاتی ہے۔
چھتوں پر چڑھ کر دوسروں کے گھروں میں جھانکنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ پردے کا حکم صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ مرد و عورت سب کے لیے ہے۔
اگر کسی گھر میں فوتگی ہو جائے تو ہمسائے کا حق ہے کہ ان کے دکھ میں شریک ہوں، ان کے مہمانوں کو چائے پانی اور کھانے کا انتظام کر کے آسانی پیدا کریں
روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو بڑا اثر ڈالتی ہیں
گھروں کی ڈور بیل اتنی اونچی نہ ہو کہ پورا محلہ گونج اٹھے۔ آواز اتنی ہونی چاہیے کہ جسے بلانا ہو وہ سن سکے۔
اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ ہمسائے کے گھر کی طرف یا اس کے دروازے کے سامنے نہ رکھا جائے۔
اونچی آواز میں باتیں یا موسیقی بجانا دوسروں کے آرام میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔
کیمرے اگر لگانے ہوں تو ان کا رخ صرف اپنے گھر تک ہو۔ ہمسایوں کی پرائیویسی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
ہمسایہ اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا ایک ایسا رشتہ ہے جو خرید کر نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ ہمارے اخلاق، ایثار اور شعور کا امتحان ہے کہ ہم کس طرح دوسروں کی سہولت اور آرام کا خیال رکھتے ہیں۔ اگر ہم سب ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا لحاظ رکھیں تو ہمارے معاشرے میں محبت، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ یہی اسلام کی اصل تعلیم ہے اور یہی انسانیت کی پہچان ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے