علامہ اقبال کے اشعار کا سیاسی استعمال
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
1افسوس کہ یومِ اقبال پر ناگزیر مصروفیات کے سبب کچھ عرض کرنے کا موقع نہ مل سکا ۔ تاہم میرے نزدیک نومبر کا پورا مہینہ اقبال سے منسوب ہوتا ہے ، اس لیے نو نومبر کے بعد بھی اقبال پر لکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اردو زبان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ متواتر تین صدیوں میں تین عظیم شعرا نے اس زبان کو وسیلۂ اظہار بناکر اپنا نام بھی امر کیا اور اردو کے وقار میں اضافہ بھی کیا ۔اٹھارویں صدی کے میر ، انیسویں صدی کے غالب اور بیسویں صدی کے اقبال ، یہ تین اہلِ سخن جتنی شہرت پا چکے ہیں ، اس کی موجودہ دور میں جانے کس کس شاعر کو تمنا ہوگی ۔ اقبال نے چونکہ غالب اور میر کے برعکس مشرقی اور مغربی تہذیب و سیاست کا براہِ راست مشاہدہ کیا ، اس لیے ان کا اسلوب اور مضامین کا انتخاب ان دونوں سے یکسر مختلف ہے ۔ اس کے علاوہ ان کا قیامِ پاکستان کے تصور سے بھی رشتہ جڑا ہوا ہے ، اس لیے 1947 کے کچھ عرصہ بعد ہی اخبارات ، الیکٹرانک میڈیا اور سیاسی تحریکوں کو کلامِ اقبال سے حسبِ توفیق استفادے کے مواقع آج تک ملتے چلے آ رہے ہیں ۔
سرد جنگ کے دوران بائیں بازو کے مفکرین ، صحافیوں اور سیاستدانوں نے اقبال کے چنیدہ اشعار کو اپنے مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا ۔بانگِ درا کا یہ شعر اس سلسلے میں غالباً مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑتا چلا گیا :
جس کھیت سے دہقان کو میسّر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دوز
اس شعر کو سُرخوں/ سوشلزم / کمیونزم کے حامیوں اور سیاست دانوں نے بے انتہا مواقع پر نہ صرف استعمال کیا بلکہ اس کے متنی و معنوی عدسے سے اقبال کو بھی انھی نظریات کا حامی گرداننے لگے ۔ اسی انداز کے دیگر اشعار میں سے ایک یہ شعر بھی متذکرہ حلقوں میں بہت مشہور ہوا:
حکمِ حق ہے “ لیس للانسان الّا ما سعیٰ”
کھائے کیوں مزدور کی محنت کا حق سرمایہ دار
کچھ اور اشعار جنھیں متعدد سیاست دانوں نے اپنی تقاریر اور سیاسی بیانات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا ، ان کی فہرست طویل ہونے کے ساتھ دلچسپ بھی ہے ۔ کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے :
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
اس شعر پر تو ابنِ انشا نے اپنی کتاب “ خمارِ گندم “ میں طنز و مزاح سے بھرپور ایک پورا مضمون بھی لکھا ہے ۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
اس طرح کے اشعار میں بھی سرِ فہرست اقبال کا یہ شعر ہے جسے موقع بے موقع کئی مقررین نے اپنی تقریروں میں مسالہ بھرنے کی نیت سے بے شمار مواقع پر استعمال کیا :
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایسے معزز مقررین اپنی تقاریر میں ایسے اشعار کو شامل کرنے سے پہلے کسی بھی اوسط درجے کے شعری ذوق یا فکرِ اقبال کے ماہر معمولی سا مشورہ بھی کیوں نہیں لیتے ۔ اس معاملے کی سنگینی کی انتہا یہ ہے کہ کچھ اشعار جو علامہ نے کہے ہی نہ تھے ، ان کے مخصوص رنگ کے سبب انھی کے نامۂ اشعار میں ڈال دیے گئے اور اس بابت آفاقی شہرت پانے والا صادق حسین صادق کا یہ شعر ہے جسے بارہا اقبال کی روح کو اشتعال دلانے کی نیت سے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ انھی کے کھاتے میں ڈالتے رہتے ہیں :
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے
اس شعر نے گویا رحجان سازی کا کردار اداکیا کیونکہ سوشل میڈیا کی مقبولیت کے ساتھ بے شمار “ سخن ہائے ناگفتنی “ کو بطورِ فرضِ عین اقبال سے منسوب کرنے چلے جانے کا لامتناہی سلسلہ ہی بنتا چلا گیا ۔ اقبال کے ساتھ فراز اور جون ایلیا بھی اسی عوامی لاعلمی کے سیلابی ریلے کی زد میں اب تک آتے رہتے ہیں ۔
اس رحجان کا افسوس ناک ترین پہلو یہ ہے کہ یہ معاملہ باقاعدہ اشعار کی حدیں پار کر کے شعر نما جملوں تک دست درازی کرنے لگا ہے ۔ جس جملے میں کچھ شعری آہنگ سا محسوس ہوا ، اسے پہلے شعر کی صف میں زبردستی دھکیلنے کا گناہ کیا جاتا ہے اور پھر اسے اقبال وغیرہ سے منسوب کرنے کیلیے عذر پیش کر کے بدتر گناہ کا ارتکاب بھی دھڑلے سے کرنے کا رواج بھی ڈالا جاتا ہے ۔کچھ سال پہلے ایک مشہور سیاستدان نے اپنی تقریر میں دو ایسے ہی جملے اپنی تقریر میں جبری بھرتی کے تحت گھسیٹ کر شامل کیے تھے ۔ جب کچھ اصحابِ ذوق نے اس پر اعتراض کیا تو موصوف کے حامی دن رات اس کے دفاع میں لگ گئے کہ نہیں یہ “شعر “ تو فلاں ویب سائٹ کے مطابق اقبال کا ہی ہے ۔پھر شاید مزارِ اقبال سے احتجاجی زلزلے کے جھٹکوں کا ارتعاش متذکرہ احباب تک پہنچا تو اعلیٰ ظرفی دکھاتے ہوئے موصوف نے اپنے دعوے سے دست برداری کا اعلان کیا ۔
میری ادنیٰ سی گزارش ہے کہ ایسے تمام فاضل مقررین ، چاہے سیاس دان ہوں یا دیگر شعبوں سے متعلق ، اول تو انھیں خود پہلے تھوڑا سا مطالعہ کر کے تحقیق کر لینی چاہیئے یا پھر اپنے حلقۂ احباب میں کسی سے مشاورت کر لینی چاہیئے تاکہ ان کے سامعین کے سامنے ان کے علمی قد کی توقیر میں اضافہ ہو اور ان کے مخالفین کو ہرزہ سرائی کا موقع بھی نہ ملے ۔






