#کالم

جنت نظیر اور جہنم صغیر

Untitled 17

کالم:لفظوں کا پیرہن تحریر:غلام شبیرعاصم

وطنِ عزیز میں کئی دہائیوں سے یہی دہائی سنتے آرہے ہیں کہ "یہاں تو قانون ہے ہی نہیں”۔عدم قانون کے اس تصور اور واویلے کا دراصل حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ کہنا کہ یہاں قانون ہے ہی نہیں،قانون تو موجود ہے۔ دراصل قانون کے بارے یہ کہنا عدلیہ،بیور کریسی،سیاسی اشرافیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق عوام کے اندر پائی جانے والی
مایوسی کا کھلم کھلا اظہار ہے۔جو ملک میں قانون کا مکمل طور پر نفاذ نہیں ہونے دے رہے۔ کسی بھی ملک کے قانون کے مطابق وہاں کے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور بنیادی حقوق مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔عدلیہ،بیوروکریسی،اشرافیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مایوس عوام باخوبی جانتے ہیں کہ وطنِ عزیز میں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے متعلق قانون موجود ہے۔ موٹی اور ضخیم کتابوں میں قانون اپنی ٹھیک صحت کے ساتھ زندہ و جاوید ہے،مگر دکھ یہ ہے کہ اس پر مکمل اور درست طور پر عمل کیا اور کروایا نہیں جاتا۔ریاستِ پاکستان میں ہرطرح کے قانون کی موجودگی اور نتیجاتاٙٙ لاقانونیت کے تناظر میں جب دیکھتے ہیں تو قانون کی موجودگی "بیوہ خواتین”کے لئے کسی دور میں بنائے گئے ان خالی اور خستہ حال کواٹروں کی طرح لگتی ہے۔جو کواٹر مسمار ہوچکے یا ان میں علاقہ کے بااثر افراد کے مویشی سکونت اختیار کرچکے ہیں۔قانون پر اگر ایمانداری سے عمل کیا اور کروایا جائے تو وطنِ عزیز واقعی”سوہنی دھرتی”بن جائے۔”چاند میری زمیں پھول میرا وطن” جیسے سب استعارے اور تشبیہات سچ ثابت ہو جائیں گے۔ورنہ وطن سے اظہار محبت اور فرطِ جذبات میں شعراء کے کہے گئے سب گیت اور نظمیں مبالغہ اور جھوٹ لگیں گے۔مِلی نغموں اور نظموں میں جس ارضِ پاک کو فردوسِ بریں سے تشبیہ دی جاتی ہے،بیوروکریسی بااثر اور ارباب اختیار کے قابل اعتراض کرتوتوں کی وجہ سے جہنم محسوس ہوتی ہے۔اس دھرتی کو صحیح معنوں میں جنت نظیر بنانے کے لئے صالح عوامل اور وطن سے خالص محبت کی ضرورت ہے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز بڑے شوق اور جوش و جذبہ سے احسن اقدامات کررہی ہیں۔انہوں نے کئی حوالوں سے ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے واضح ثبوت دیا ہے کہ وہ ملک وقوم کے لئے کچھ بہتر کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔پنجاب میں پہلی مرتبہ 3000 مراکزِ صحت اور ہسپتالوں کی تعمیر ومرمت اور بحالی پراجیکٹ منفرد ریکارڈ ہے۔20,000 سے زائد سڑکوں کی تعمیرومرمت ناقابل تردید مثال ہے۔ستھراپنجاب, 1100الیکٹرو بس اور "اپنی چھت،اپناگھر” پراجیکٹ ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن کی روشن دلیل ہے۔حال ہی میں پنجاب میں پہلی مرتبہ سپیشل ایجوکیشن کے طلبہ کی ہیلتھ سکریننگ کا جامع پروگرام کا آغاز کیاگیا ہے۔وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر صوبہ بھرمیں 35600 سے زائد سپیشل بچوں کی ہیلتھ سکریننگ کی گئی ہے۔جس سے صوبہ پنجاب میں کئی حوالوں سے بہتری آئی ہے۔اگر اسی طرح ہرصوبہ میں بہتری کے خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملیں گے تو ارض پاک وقعی جنت نظیر ہوگی۔ صوبہ سندھ کے علاقہ میں گزشتہ چار دہائیوں سے جاری ڈاکووں کی سرگرمیوں کے سدباب کے لئے چندروز قبل ایک بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ضلع شکار پور میں 22اکتوبر کو 72 خطرناک ڈاکووں نے ہتھیار ڈال دئے ہیں۔ہتھیار ڈالنے والے 72 ڈاکووں میں بیلو تیغانی،بڈانی اور دیگر گینگز کے ارکان شامل ہیں۔جنہوں نے اپنے تمام ہتھیار اور گولہ بارود حکام کے حوالے کردیا ہے۔جس کے نتیجہ میں یقیناٙٙ بدامنی اور دہشت گردی و جرائم کی شرح میں واضح کمی آئے گی۔ہزاروں لوگوں کے دل و دماغ سے خوف کے غائب ہوجائے گا۔زندگی کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ بلوچستان میں محکمہ داخلہ نے صوبے میں پوست کاشت کرنے والے زمینداروں کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز کردیا ہے۔75 زمینداروں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کردئیے ہیں۔رواں سال 36,000 ایکڑ پوست کی فصل تلف کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ میرسرفراز بگٹی نے ایک انچ زمین پر بھی پوست کاشت کرنے کی اجازت نہیں دی۔جوکہ بہت اچھا اقدام ہے۔اگر پاکستان کے چاروں صوبوں میں اسی طرح مثبت تبدیلیاں آئیں گی تو ملک بلاشبہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ملک میں قانون ہے ہی نہیں۔قانون موجود ہے۔اس کے درست اور مکمل طور پر نافذ نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ثمرات سامنے نہیں آرہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر یہاں پوری ایمانداری کے ساتھ قانون کا نفاذ ہوجائے تو تمام سرکاری و نیم سکاری ادارے اور کئی بگڑے ہوئے عوام و خواص صراط مستقیم پر آجائیں گے۔جب ہم سارے صراط مستقیم پر گامزن ہوگئے تو ملک واقعی جنت الفردوس کی نظیر بن جائے گا۔اگر سب کے کرتوت شیطان والے رہے تو پھر یہ ملک جنت نظیر تو نہیں "جہنم صغیر”ضرور بنا رہے گا۔

جنت نظیر اور جہنم صغیر

دھرتی خراج مانگتی ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے