‘ آئینی عدالت اور مسلح افواج کی سربراہی کیلیے نیا عہدہ تخلیق
آج کا اداریہ
وفاقی کابینہ سے منظوری کے فوراً بعد (27ویں ترمیمی ایکٹ 2025 ہفتے کو سینیٹ میں منظوری کے بعد گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پیش کیس گیا۔ جس پر حزبِ اختلاف نے ترمیم میں شامل تبدیلیوں کی رفتار اور وسعت پر شدید اعتراض کیا۔
سینیٹ کا اجلاس مسلسل تین روز جاری رہا اور تیسرے روز 27 ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری دیدی ۔وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی جسے دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا، آئینی ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے ، ترمیم کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا جبکہ اپوزیشن اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد آئینی ترمیم کی منظوری کا اعلان کیا۔
بعد ازاں اگلے روز قومی اسمبلی سے بھی منظوری کے یہ بل 27 آئینی ترمیم کی شکل میں آئین کا حصہ بن گیا۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اس بل کو پارلیمان میں لانے سے قبل متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے ضروری مشاورت کا عمل نہیں کیا گیا اور جلدبازی میں سب کام کیا جا رہا ہے۔
ترمیم میں شامل مختلف تبدیلیوں میں سب سے اہم عدلیہ سے متعلق ہے، جن میں سب سے نمایاں تجویز وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ہے۔
یہ نئی عدالت آئینی امور سے متعلق مقدمات سنے گی اور اس کے فیصلے تمام عدالتوں (بشمول سپریم کورٹ) پر لازم ہوں گے۔
اسی نکتے کی بنیاد پر کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ان ترامیم کے نتیجے میں سپریم کورٹ کو درحقیقت ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے درجے سے محروم کر دیا جائے گا۔
ترمیم کا بنیادی نکتہ ایک نئی اعلیٰ ترین عدالت (وفاقی آئینی عدالت) کا قیام ہے، جو 26ویں ترمیم کے تحت بنائے گئے آئینی بنچز کی توسیع پر مبنی ہوگی، جنہیں اس وقت سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔
آئین میں باب ون-اے کے طور پر شامل کی جانے والی یہ عدالت اپنے چیف جسٹس اور ججوں پر مشتمل ہوگی، چیف جسٹس تین سال کی مدت کے لیے مقرر کیا جائے گا جبکہ جج سپریم کورٹ سے لیے جا سکتے ہیں یا ایسے سینئر ہائی کورٹ ججز جو کم از کم 7 سال کا تجربہ رکھتے ہوں یا پھر ایسے ماہر وکلا جنہیں وکالت کا کم از کم 20 سال کا تجربہ ہو۔
وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ موجودہ آئین کے آرٹیکل 179 کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر 65 سال ہے۔
ترمیم میں مزید کہا گیا ہے کہ صدرِ مملکت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارش پر کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسرے ہائی کورٹ میں منتقل کر سکیں گے اور اگر کوئی جج اس تبادلے کو قبول نہ کرے تو اسے اپنے عہدے سے ریٹائر تصور کیا جائے گا۔
وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ کے کئی اہم اختیارات سنبھال لے گی، نئے آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ کو صرف دیوانی اور فوجداری اپیلوں کی اعلیٰ ترین عدالت تک محدود کر دیا جائے گا، جبکہ آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں حتیٰ کہ سپریم کورٹ پر بھی لازم ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان یا صوبوں کے باہمی تنازعات پر بھی خصوصی دائرہ اختیار حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ عدالت از خود نوٹس لیتے ہوئے کسی بھی ایسے مقدمے کی سماعت کر سکے گی جس میں آئین کی تشریح سے متعلق کوئی بنیادی قانونی سوال شامل ہو۔
مزید برآں، وفاقی آئینی عدالت کو ان مقدمات پر بھی اختیار حاصل ہوگا، جو بنیادی حقوق کے نفاذ، آئینی نوعیت کی اپیلوں، ہائی کورٹس کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر رِٹ پٹیشنز (خاندانی یا کرایہ داری مقدمات کے سوا) اور صدرِ مملکت کی طرف سے آئینی مشورے کے لیے بھیجے گئے سوالات سے متعلق ہوں گے یعنی وہ تمام اختیارات جو اس وقت سپریم کورٹ کے دائرے میں آتے ہیں۔
آئینی ترمیم کے تحت مسلح افواج کے سربراہان سے متعلق آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے اور وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر صدر مملکت آرمی چیف اور چیف آف ڈیفینس فورسز کا تقرر کریں گے۔
آرٹیکل 243 میں پیش کی گئی ایک اور ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم کر دیا جائے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف، جو چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہوں گے، وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ مقرر کریں گے جن کا تعلق پاکستانی فوج سے ہو گا۔
حکومت مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افراد کو فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے پر ترقی دے سکے گی۔ فیلڈ مارشل کا رینک اور مراعات تاحیات ہوں گی یعنی فیلڈ مارشل تاحیات فیلڈ مارشل رہیں گے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ تخلیق کرنا وقت کی ضرورت تھی کیونکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی صرف ایک علامتی عہدہ ہے۔یاد رہے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ افواج پاکستان کے درمیان موثر رابطہ کاری کا نظام ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی جنگی صورتحال میں فیصلہ سازی میں ہم آہنگی ہو۔جس کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ عمل میں لایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس عہدے پر تعیناتی کے لیے روٹیشن پالیسی تھی جس کے تحت آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے افسران کو یہاں تعینات کیا جاتا تھا بعد ازاں 1994 کے بعد سے جتنے بھی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی آئے وہ سب پاکستان آرمی سے تھے۔ اب جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا تو شاید اسی چیئرمین چءفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کیا جارہا ہے۔
السلام علیکم
یہ والا اداریہ بھیجنا پلیز
تھوڑی سا اپ ڈیٹ کیا ہے
شکریہ سر






