#کالم

کہانی: "خاموشی کی عورت”

new desing28

نازیہ شاہد

ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں وقت جیسے رُک گیا تھا، ایک کم عمر لڑکی کی شادی کر دی گئی۔ ہاتھوں میں گڑیا کی جگہ چوڑیاں، خوابوں کی جگہ ذمے داریاں۔
شادی کے بعد دو بچے ہوئے — ایک بیٹی، ایک بیٹا۔ مگر شوہر کے ساتھ کبھی دل کا رشتہ نہ بن سکا۔
الفاظ کم، فاصلے زیادہ۔
محبت کی زبان وہ سمجھ نہ پائی، اور شوہر کبھی سیکھ نہ سکا۔

زندگی بس ایک رسمِ دنیا بن گئی تھی — نہ خوشی، نہ سکون۔

پھر ایک دن، قسمت نے اسے ایک نیا چہرہ دکھایا — ایک ایسا شخص جو باتوں میں نرم، لہجے میں میٹھا، اور وعدوں میں سچا لگتا تھا۔
اس نے سوچا، شاید اب کے بار نصیب بدل جائے۔
اس نے اپنے ماضی کی زنجیریں توڑ دیں، بچوں، خاندان، عزت — سب کچھ داؤ پر لگا دیا، صرف محبت کے ایک خواب کے لیے۔

بہت مشکلوں کے بعد اس کی شادی اس شخص سے ہو گئی۔
ابتدا میں سب کچھ خواب جیسا تھا — وہ ہنسی، اس نے زندگی میں پہلی بار خود کو زندہ محسوس کیا۔
مگر وقت نے ایک بار پھر اپنا اصل چہرہ دکھایا۔

جس انسان پر اس نے سب کچھ قربان کر دیا تھا، وہ آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔
اب وہ باہر کے لوگوں کے لیے خوش مزاج، مہربان اور زندہ دل تھا —
مگر گھر کے اندر، اپنی بیوی کے لیے سرد، چڑچڑا اور خاموش۔

وہ دوسروں کے لیے ہنستا، دوسروں کی تعریف کرتا، دوسروں کے ساتھ وقت گزارتا،
اور جب اپنی بیوی کے پاس آتا — تو جیسے کوئی بوجھ اُٹھا کر آ گیا ہو۔

اس نے کبھی پوچھا نہیں کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔
کبھی نہیں دیکھا کہ اس کے چہرے کی ہنسی کب سے ماند پڑ چکی ہے۔
کبھی نہیں سوچا کہ جس عورت نے اس کے لیے سب کچھ قربان کیا،
اب وہ خود اپنے وجود سے محروم ہو چکی ہے۔

وہ عورت چپ چاپ اس کے گھر، اس کے بچوں، اس کے خوابوں کو سنبھالتی رہی۔
ہر رات تنہائی سے لڑتی، ہر صبح نئے حوصلے کے ساتھ جاگتی۔
اس نے کبھی کچھ مانگا نہیں —
بس توجہ، احترام، اور محبت…
جو کبھی ملی نہیں۔

وقت گزرتا گیا۔
وہ باہر کے لوگوں میں مزید کھو گیا — اور وہ عورت اندر کے اندھیروں میں۔
لوگ اب بھی کہتے،
“کتنی مضبوط ہے یہ عورت، کبھی شکایت نہیں کرتی!”
مگر کسی نے نہیں جانا،
کہ وہ اندر سے کب کی ٹوٹ کر خاک ہو چکی ہے۔

اب وہ صرف سانس لے رہی تھی —
جینے کے لیے نہیں،
بلکہ صرف زِندہ نظر آنے کے لیے۔


یہ صرف ایک کہانی نہیں،
یہ ان سب عورتوں کی صدا ہے جو محبت میں خود کو بھول جاتی ہیں،
اور پھر بھی مسکرا کر دنیا کو یقین دلاتی ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے