#کالم

ایک ایسا شخص جو دلوں میں اُتر گیا

new desing27

تحریر: امجد اقبال امجد

ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی—یہ نام محض ایک فرد کا نام نہیں، ایک ایسی درویش طبیعت روشنی ہے جو جہاں بیٹھ جائے، ماحول کو معنی عطا کر دیتا ہے۔ ان کی شخصیت کو لفظوں میں سمیٹنے کی جسارت کرنا دراصل اس پہاڑ کے نقش قدم شمار کرنے جیسا ہے جس کی بلندی کی پیمائش کرنا ممکن نہیں۔ مگر دل کی روشنی جب گواہی دے، تو قلم خود بخود ادب کے وقار میں ڈھلنے لگتا ہے۔

لاہور کارپوریشن کے وہ دن، جب شہر کی فضاؤں میں ابھی شائستگی کا معیار قائم تھا، اور تہذیب کا سانس تازہ تھا—وہاں تعلقاتِ عامہ کے شعبے میں ایک ایسا شخص موجود تھا جس کے لہجے میں پیار کی چاشنی اور گفتگو میں حکمت کی حلاوت تھی۔ ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے محض اپنا فرض ادا نہیں کیا، بلکہ اس فرض میں انسانیت کا رنگ گھول دیا۔ ریاستی نمائندگی اُن کے ہاتھوں میں سفارت کے وقار کی صورت اختیار کر لیتی۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے سربراہ لاہور آئے، تو یہ ڈاکٹر صاحب کا لہجہ، ان کا رکھ رکھاؤ، ان کی میزبانی تھی جس نے پاکستان کے وقار کو چمک دی۔ شالامار باغ کے گل و لالہ آج بھی ہوا کے جھونکوں میں سرگوشیوں کی صورت گواہی دے رہے ہیں کہ یہ شخص صرف میزبانی نہیں کرتا تھا، دلوں کی فصل اُگاتا تھا۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ صاحب صرف منتظم نہیں، ایک بڑے شاعر بھی ہیں۔
شعر کہنا ایک ہنر نہیں، ایک کیفیت ہے۔ دل میں اترنے والی دھڑکنوں کی زبان ہے۔
ڈاکٹر گیلانی کی نازک مزاجی، ان کی نبض شناسی، اور ساتویں حس کی صفائی—یہ سب ان کے اشعار میں بھی جھلکتا ہے۔
جن دلوں میں اترنا ہو، وہاں دروازے نہیں نرم لہجے کھلتے ہیں۔
جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے، وہ لوگ کم ہوتے ہیں—اور یہ انہی میں سے ایک ہیں۔

اذکارِ رفتہ کے ہوتے ہوئے بھی اس شخص کی شخصیت تاریخ کے ماتھے پر آج بھی روشن ہے۔ آپ نے پبلک ریلیشنز آفیسر ایسوسی ایشن کو ایک تنظیم نہیں، ایک فکری رشتہ بنایا—ایک ایسا دھاگہ جس نے مختلف اداروں کے پی آر اوز کو ایک ہی صف میں جوڑ دیا۔ ان کی فلاح، ان کی عزت اور ان کے وقار کے لیے جو خدمات آپ نے انجام دیں، وہ محض اقدامات نہیں بلکہ کردار کی بلندی کا اعلان ہیں۔

ڈاکٹر گیلانی کی شخصیت میں ایک درویش، ایک فقیر، ایک خاموش مہتاب جلتا رہتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کچھ لوگ اپنی پہچان بتاتے ہیں، اور کچھ لوگ کردار سے پہچانے جاتے ہیں—یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں۔
منشا قاضی نے پہلی بار ان کا ذکر کیا تو محسوس ہوا کہ بعض لوگ انکسار میں عظمت چھپا کر رکھتے ہیں۔ ایسی شخصیتیں سمندر کی طرح ہوتی ہیں—خاموش مگر بے کنار۔

مولانا ظفر علی خان پر ان کا تحقیقی مقالہ صرف ایک علمی دستاویز نہیں، ایک فکری میراث ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو محنت سے نہیں، نیت کے نور سے ملتا ہے۔

میری ان سے ملاقات ابھی نہیں ہوئی۔ مگر میرے رب نے مجھے تصور کی وہ روشنی دی ہے جس میں چیزیں ظاہری نہیں، باطنی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔
اور اس روشنی میں یہ شخصیت ایک ایسے چراغ کی طرح جلوہ گر ہے جس کے گرد محبت کے پروانے بے اختیار گردش کرتے ہیں۔

یہ تعارف نہیں، یہ اعتراف ہے۔
اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ قاضی منشا نے بہت لوگ ملوائے،
مگر اس بار اس نے مرشد ملا دیا۔

قاضی، تیرے انصاف کا شکریہ۔
اور ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی—آپ صرف قابلِ احترام نہیں،
آپ دلوں میں بستے ہیں۔

ایک ایسا شخص جو دلوں میں اُتر گیا

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے