27ویں آئینی ترمیم پر اتنا واویلا کیوں ؟
آج کا اداریہ
27ویں آئینی ترمیم کا بل کابینہ کی منظوری کے فوری بعد ہفتے کے روز سینیٹ میں پیش کر دیا گیا اور اسے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا گیا۔
وزیرِ قانون نے بتایا کہ بل میں 49 شقیں شامل ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ 3 بنیادی اور 2 ضمنی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، یعنی کل 5 نکات پر یہ ترمیم اثر انداز ہو گی۔
انہوں نے بتایا کہ 2006 میں دستخط شدہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق ہوا تھا، جو تمام صوبوں کے اعلیٰ ججوں پر مشتمل ہوگی اور صرف آئینی معاملات سنے گی، جب کہ عام عدالتیں باقی مقدمات کی سماعت جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کے دوران کچھ دوستوں نے کہا تھا کہ اتنی بڑی تبدیلی کی بجائے تجرباتی طور پر ’آئینی بینچ‘ بنائے جائیں، بعد میں ایسے بینچ بنائے گئے مگر جج زیادہ تر وقت انہی مقدمات میں مصروف رہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ عدالت کے صرف 5 سے 6 فیصد کیسز اس کے 40 فیصد وقت پر قابض ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان بینچوں کو ’عدالت کے اندر عدالت‘ قرار دیا اور دیگر اعتراضات بھی اٹھائے۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جائے، جو اس بل میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک اور اہم معاملہ ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی سے متعلق ہے، 1973 کے آئین میں صدر کو وزیراعظم کے مشورے پر مشاورت کے بعد جج کی منتقلی کا اختیار دیا گیا تھا، اور 2 سال کے لیے بغیر رضامندی کے تبادلہ ممکن تھا، بعد میں 18ویں ترمیم میں یہ شق ختم کر دی گئی اور جج کی رضامندی لازم قرار دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں یہ شرط برقرار رہی مگر ایگزیکٹو کی مداخلت پر اعتراضات آئے، اب تجویز ہے کہ وزیراعظم کے مشورے والا حصہ ختم کر کے معاملہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کو دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس میں یہ حفاظتی شق بھی رکھی گئی ہے کہ چیف جسٹس سے زیادہ سینئر جج کو نہیں بھیجا جائے گا تاکہ تنازع نہ ہو۔
وزیرِ قانون نے بتایا کہ ایوانِ بالا (سینیٹ) کے انتخابات میں تاخیر کے باعث خیبرپختونخوا میں انتخابات ایک سال سے زیادہ مؤخر ہوئے، اس ضمن میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے تاکہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پر کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ کی 11 فیصد حد بڑھا کر 13 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کیونکہ پنجاب کے سوا باقی تمام صوبوں نے اس پر اعتراض کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے 5 صوبائی مشیر تھے، اب ان کی تعداد 7 کر دی گئی ہے۔
آرٹیکل 243 کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جو کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کو مسلح افواج پر اختیار حاصل ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس میں نئی شقیں شامل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ’فیلڈ مارشل‘ کا خطاب دیا گیا ہے، یہ ایک اعزازی خطاب ہے، کوئی عہدہ یا رینک نہیں، آرمی چیف ایک عہدہ ہے جس کی مدت 5 سال ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل، ایئر فورس کے مارشل یا نیوی کے ایڈمرل آف دی فلیٹ جیسے خطابات دنیا کے مختلف ممالک میں قومی ہیروز کو دیے جاتے ہیں، یہ خطابات تاحیات رہیں گے اور ان کی منسوخی کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے پاس ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ 27 نومبر 2025 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا، موجودہ سی جے سی ایس سی ہمارے ہیرو ہیں، ان کی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ عہدہ ختم کیا جائے گا۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ اس کے بعد کوئی نیا تقرر نہیں ہوگا، کیونکہ آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار دیا جائے گا۔
27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں آئینی عدالت کا قیام اور اس کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس 26ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی بینچ قائم کیا گیا تھا جسے اب آئینی عدالت کا درجہ دیا جا رہا ہے۔
اس بارے میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سنہ 2006 میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان طے پانے والی ‘میثاق جمہوریت’ میں بھی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا ذکر تھا لہذا اس پر اب عملدرآمد کیا جائے گا۔
مسودے کے مطابق آئینی عدالت کا سربراہ اس کا چیف جسٹس ہو گا جبکہ اس میں تمام صوبوں سے برابر تعداد میں ججز تعینات کیے جائیں گے۔ بطور آئینی عدالت جج تعیناتی یہ شرائط رکھی گئی ہیں: وہ سپریم کورٹ میں بطور جج کام کر چکے ہوں، ہائیکورٹ میں کم از کم سات سال جج رہے ہوں، 20 سال تک ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں بطور ایڈووکیٹ کام کیا ہو اور سینیارٹی حاصل ہو
مسودے کے مطابق آئینی عدالت کو دو یا اس سے زیادہ حکومتوں کے درمیان اختلافات میں اصل جیورسڈکشن حاصل ہو گی جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 برس ہو گی۔
سینیٹ تقریر میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مشاورت کے بعد یہ طے کیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز پارلیمان میں لائی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت اس کے لیے آئین کی 40 شقوں میں تبدیلی کرنے جا رہی ہے تاکہ وہاں وفاقی آئینی عدالت، اس کے چیف جسٹس اور ججز کا ذکر ہو گا۔
اپوزیشن نے مجوزہ ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے اور ملک گیر تحریک کی کال دے دی ہے ۔ستائیسویں آئینی ترمیم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت کو مزید طاقت ’بااختیاروں کے ہاتھوں‘ دے دی گئی ہے۔اس گھڑی میں پاکستان کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اس خطرناک آئینی ترمیم کے خلاف آواز بلند






