#کالم

اب آگے بڑھیں!

rao ghulam mustufa

راو غلام مصطفی

قوموں کی زندگی میں 78 برس ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔ جس میں نسلیں جوان ہوتی ہیں، شہر آباد ہوتے ہیں، معیشتیں مضبوط ہوتی ہیں، ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور ممالک دنیا میں اپنا مقام بناتے ہیں۔ پاکستان نے بھی اپنے قیام سے آج تک ایک طویل اور کٹھن سفر طے کیا ہے۔ ہم نے جنگیں دیکھیں، سیاسی بحران برداشت کیے، معاشی مشکلات کا سامنا کیا، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی اور قدرتی آفات کا مقابلہ کیا۔ لیکن آج جب ہم اپنے سفر پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ 78 برسوں میں ہم نے کیا حاصل کیا اور کیا گنوا دیا؟پاکستان کے قیام کے وقت وسائل محدود، مسائل بے شمار اوربڑے چیلنجز تھے۔لیکن ایک ایسا خواب آنھوں میں لو کی طرح ٹمٹما رہا تھا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، عوام کو انصاف ملے، نوجوانوں کو روزگار حاصل ہو اور آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔ بے شمار مسائل اور چیلنجز کے باوجود پاکستان نے کئی شعبوں میں قابلِ ذکر ترقی کی لیکن سیاسی عدمِ استحکام نے قومی سفر کو بارہا متاثر کیا۔ پالیسیوں کے عدمِ تسلسل کے باعث حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، ترجیحات بدلتی رہیں اور کئی منصوبے سیاسی اختلافات کی نذر ہوتے رہے۔ ایک حکومت نے جو منصوبہ شروع کیا، دوسری حکومت نے اسے جاری رکھنے کے بجائے اکثر نئی سمت اختیار کی۔ اس رویے نے ریاستی وسائل، وقت اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ جمہوری معاشروں میں حکومتوں کی تبدیلی معمولی ہوتی ہے مگر قومی پالیسیوں کا ہر حکومت کے ساتھ تبدیل ہونا کسی بھی ملک کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔سیاسی اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، لیکن اختلاف جب اقتدار،اختیارات اور مفادات کا تحفظ بن جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ پارلیمان کو سیاسی مکالمے کا مرکز ہونا چاہیے، جہاں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے قومی مسائل کا حل تلاش کریں۔ سیاسی جماعتوں کا مقابلہ انتخابات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں قومی مفاد کے بنیادی معاملات پر وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔معاشی میدان میں بھی پاکستان نے کئی مشکل دور دیکھے ہیں۔ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، کمزور ٹیکس نظام، محدود برآمدات اور سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی ایسے مسائل ہیں جنہوں نے معیشت کو مسلسل دباو¿ میں رکھا ہے۔ عام آدمی کے لیے معیشت کسی مشکل اصطلاح کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے معیشت کا مطلب گھر کا راشن، بچوں کی فیس، بجلی کا بل، علاج معالجہ اور روزگار ہے۔ جب یہ بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوجائیں تو معاشی بحران کا اصل بوجھ عام شہری ہی اٹھاتا ہے۔پاکستان کو اب وقتی معاشی اقدامات سے آگے بڑھ کر طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو، ٹیکس نظام کی اصلاح، برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، زرعی پیداوار میں بہتری، توانائی کے شعبے کی اصلاح اور سرمایہ کاری کے فروغ جیسی بنیادی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ معیشت سیاسی تجربات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ سرمایہ کار کو اعتماد، صنعت کو تسلسل اور کاروباری طبقے کو واضح پالیسی درکار ہوتی ہے۔اسی طرح ریاستی اداروں کی مضبوطی بھی قومی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ کوئی بھی ملک صرف سڑکوں، عمارتوں اور بڑے منصوبوں سے مضبوط نہیں ہوتا۔ اصل طاقت قانون کی یکساں عمل داری، میرٹ، شفافیت اور عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب عام شہری کو یقین ہو کہ قانون اس کے ساتھ کھڑا ہے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، لیکن جب انصاف کے حصول میں فرق محسوس ہو تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی دیوار کمزور ہونے لگتی ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ یہ نوجوان اگر معیاری تعلیم، جدید ہنر اور روزگار کے مواقع حاصل کریں تو یہی آبادی ملک کی معاشی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید صنعت اور ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں بھی اپنے تعلیمی نظام کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ صرف ڈگریاں نہیں بلکہ ایسے ہنر دینے ہوں گے جو نوجوانوں کو مقامی اور عالمی روزگار کی منڈی میں بااختیار بنا سکیں۔ہمیں اپنے ماضی سے لڑنے کے بجائے اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔ تاریخ کا مقصد پرانے زخموں کو بار بار کریدنا نہیں بلکہ غلطیوں کی نشاندہی کرکے مستقبل کا راستہ بہتر بنانا ہے۔ 78 برسوں میں جو کچھ گزر گیا اسے واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن آنے والے برسوں کو بہتر بنانا آج بھی ہمارے اختیار میں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قوموں کا مستقبل ماضی سے مختلف لکھا جاتا ہے۔پاکستان کو آج کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک شخصیت سے زیادہ قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ اہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ ہماری ترجیح سیاسی فتح ہے یا قومی ترقی۔ اگر ہر سیاسی جماعت اپنے مخالف کو ختم کرنے کو اپنی کامیابی سمجھے گی تو ملک کی توانائی مسلسل کشمکش میں ضائع ہوتی رہے گی۔ لیکن اگر سیاسی اختلاف کے باوجود قومی مسائل پر مکالمہ اور تعاون کا راستہ اختیار کیا جائے تو اختلاف بھی جمہوری قوت بن سکتا ہے78برس کا سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے۔ آج بھی سنبھلنے، آگے بڑھنے اور اپنی سمت درست کرنے کا موقع موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں کو مستقبل کی زنجیر نہ بننے دیں۔اب پاکستان کو نئے نعروں سے زیادہ ایک نئے قومی عزم کی ضرورت ہے؛ ایسا عزم جس میں سیاست میں برداشت، معیشت میں تسلسل، اداروں میں میرٹ، حکمرانی میں شفافیت اور معاشرے میں انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہو اب آگے بڑھیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے